بلاول بھٹو کی سہیل آفریدی پر تنقید، دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اپنانے کا مطالبہ
کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی دھرتی کے دفاع کے لیے تیار نہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ نئے صوبے صرف آئینی اور قانونی طریقے سے بنائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر بھی زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کھل کر بات کریں۔
18 اکتوبر کو سانحہ کارساز کی 19ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے سانحے کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 18 اکتوبر ملکی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جب شہید بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر دہشت گردی کے ذریعے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
بلاول بھٹو کے مطابق استقبال کے لیے آنے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنی قائد کی حفاظت کی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کارساز کے شہداء کی قربانیاں اس عزم کی یاد دہانی ہیں کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور تشدد جمہوریت کے حامیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری اداروں کے استحکام، آئین کے تحفظ اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پارٹی کے کارکن دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق شہید بینظیر بھٹو نے اپنے آخری جلسے میں بھی سوات میں ریاستی عمل داری کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران سوات میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن شروع کیے گئے اور پارٹی نے بینظیر بھٹو سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو شکست دی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں جیلوں سے رہا کیے گئے دہشت گردوں کے معاملے سمیت بعض فیصلوں کے نتائج آج ملک کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ ان کے بقول اس وقت خیبر سے خضدار تک دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا رہا ہے اور ملک کو دوبارہ ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں ریاستی عمل داری برقرار رکھنا ضروری ہے۔
بلاول بھٹو نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی قیادت کو دہشت گردی کے معاملے پر مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی مفاہمت اور جمہوری اتفاقِ رائے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا۔
انہوں نے تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک میں ایسی جماعتیں بھی شریک ہوئیں جو ماضی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی مخالف تھیں۔ ان کے مطابق شہید بینظیر بھٹو نے جمہوریت کے استحکام کے لیے سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ 1988 میں حکومت بنانے کے لیے بھی بینظیر بھٹو کو سیاسی سمجھوتے کرنا پڑے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر انتخابات شفاف ہوتے تو بینظیر بھٹو کو دو تہائی اکثریت مل سکتی تھی۔
انہوں نے اٹھارویں آئینی ترمیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم تمام فریقین کے درمیان مذاکرات، اتفاقِ رائے اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے منظور ہوئی۔ ان کے مطابق سیاست میں کمپرومائز کا مقصد باہمی مشاورت سے قابلِ قبول راستہ تلاش کرنا ہے، تاہم اپنے منشور اور بنیادی اصولوں کا دفاع بھی ضروری ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں ایسی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس سے عوام کو بنیادی مسائل پر ریلیف ملے اور سیاسی جماعتیں اپنے منشور پر عمل درآمد کر سکیں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ صوبے آئینی اور قانونی طریقے سے بنائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے محسن نقوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی اور صدر آصف علی زرداری کی پالیسی سے واقف ہیں۔ بلاول بھٹو کے مطابق صدر زرداری کے دستخط کے بغیر متعلقہ عمل ممکن نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر نئے صوبوں کا معاملہ محض سیاسی بیان نہیں تو جہاں اتفاقِ رائے موجود ہے، وہاں اس پر پیش رفت کیوں نہیں ہو رہی؟ انہوں نے گلگت کا حوالہ دیتے ہوئے بھی اس معاملے پر وضاحت کی ضرورت پر زور دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے کہا کہ اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے انہیں حکومت پر سیاسی تنقید کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر بھی انہیں کھل کر بات کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے ارکان بھی دہشت گردی کے حملوں میں شہید ہوئے ہیں، اس لیے دہشت گردی جیسے مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
بلاول بھٹو نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات پر سیاست کرنے کے بجائے ان کے تدارک کے لیے مشترکہ کوششیں ہونی چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت ہنگامی اقدامات کی حمایت کی ہے۔ ان کے خطاب میں جمہوری نظام کے تحفظ، سیاسی مفاہمت، دہشت گردی کے خلاف جدوجہد اور عوامی مسائل کے حل کو اہم موضوعات کے طور پر اجاگر کیا گیا۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا وژن روزگار کی فراہمی، عوام کے معاشی مسائل کا حل، جمہوریت کی بحالی، 1973 کے آئین کی بحالی اور دہشت گردی کا خاتمہ تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ان بنیادی ترجیحات پر توجہ دی ہے۔
آج پاکستان کو معاشی بحران، بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور جمہوری و انتخابی نظام میں بہتری جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے قومی اتفاقِ رائے، سیاسی ہم آہنگی اور مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ متحد ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں اور ملک کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
@BBhuttoZardari
#SalaamShuhadaEKarsaz
— PPP (@MediaCellPPP) October 18, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کارساز کی برسی پر کیا کہا؟
جواب: بلاول بھٹو نے سانحہ کارساز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردی اور تشدد جمہوری عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
سوال 2: بلاول بھٹو نے سہیل آفریدی پر کیا تنقید کی؟
جواب: بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو دہشت گردی کے خلاف صوبے کے دفاع اور مؤثر کردار کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا۔
سوال 3: بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمان سے کیا مطالبہ کیا؟
جواب: بلاول بھٹو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو سیاسی تنقید کا حق حاصل ہے، تاہم انہیں دہشت گردی کے خلاف بھی واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
سوال 4: نئے صوبوں کے قیام پر پیپلز پارٹی کا کیا مؤقف ہے؟
جواب: بلاول بھٹو کے مطابق پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے قیام کو آئینی اور قانونی طریقے سے آگے بڑھانے کی حامی ہے۔





