مکہ کی مسجد میں مبینہ فحاشی و غیر اخلاقی حرکات کا معاملہ، دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت

سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت کے بعد سفارتی وضاحت کا معاملہ

مکہ کی مسجد میں مبینہ فحاشی و غیر اخلاقی حرکات کا معاملہ، دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت پر سفارتی سوالات اٹھ گئے

ڈھاکہ: سعودی عرب میں مکہ کی ایک مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی حرکات کے الزام میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دیے جانے کے بعد بنگلہ دیش نے سعودی حکام سے واقعے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ بنگلہ دیشی سفارت خانے کے ذرائع کے مطابق انہیں گرفتاری، مقدمے کی کارروائی اور سزائے موت پر عمل درآمد کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی پریس ایجنسی نے بدھ کو سعودی وزارت داخلہ کے حوالے سے دونوں افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کی خبر دی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں کو مکہ کی ایک مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی اور نازیبا حرکات کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد جدہ میں بنگلہ دیشی قونصل خانے نے جمعرات کو سعودی وزارت خارجہ کو خط لکھ کر تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی۔ تاہم رپورٹ کی اشاعت تک بنگلہ دیشی سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی حکام کی جانب سے مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف امریکی بحریہ کی کارروائی کے دعوے پر وزارت اطلاعات کی وضاحت
وزارت اطلاعات و نشریات نے پاکستان کی سرزمین سے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے دعوے کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ آیا سعودی حکام پر دونوں شہریوں کی گرفتاری، عدالتی کارروائی اور سزائے موت کے بارے میں بنگلہ دیشی سفارت خانے کو مطلع کرنا قانونی طور پر لازم تھا یا نہیں۔

بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے میڈیا سے گفتگو میں اس معاملے پر قونصلر حقوق اور ویانا کنونشن کے تقاضوں سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق اگر دونوں شہریوں کو قونصلر سہولیات کے حق سے آگاہ نہیں کیا گیا تو یہ بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا معاملہ بن سکتا ہے۔

ویانا کنونشن برائے قونصلر تعلقات 1963 کے آرٹیکل 36 میں غیر ملکی شہریوں کی گرفتاری یا حراست کی صورت میں قونصلر رابطے اور اطلاع سے متعلق حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت متعلقہ شخص کی درخواست پر اس کے ملک کے قونصلر حکام کو اطلاع دینے اور قونصلر رابطے کی سہولت فراہم کرنے کے تقاضے شامل ہیں۔

تاہم یہ طے کرنے کے لیے کہ اس مخصوص معاملے میں کنونشن کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں، یہ جاننا ضروری ہے کہ متعلقہ شہریوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں، انہوں نے قونصلر رابطے کی درخواست کی تھی یا نہیں، اور مقدمے میں کیا قانونی کارروائی ہوئی۔

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جدہ میں بنگلہ دیشی سفارت خانے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے دونوں شہریوں کی گرفتاری، مقدمے اور سزائے موت کے بارے میں سفارت خانے کو مطلع نہیں کیا۔

سابق سفیر ہمایوں کبیر کے مطابق کسی ملک کے داخلی عدالتی نظام کے تحت مقدمہ چلانے کا اختیار اپنی جگہ موجود ہے، لیکن اس معاملے میں قونصلر اطلاع سے متعلق قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ معلومات کی بنیاد پر یہ واضح نہیں کہ دونوں شہریوں نے قونصلر معاونت طلب کی تھی یا نہیں۔

‫ پاک ملائیشیا مشترکہ فوجی مشق ہرِماؤ مارخور-IV کا اختتام‬
‫ پاکستان اور ملائیشیا کی افواج کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق ’’ہرِماؤ مارخور-IV‘‘ پبی میں اختتام پذیر ہوگئی۔‬

بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر ریحان رشید نے بھی اس معاملے میں قونصلر حقوق کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق متعلقہ حکام کے پاس اس بات کا ریکارڈ ہونا چاہیے کہ زیر حراست افراد کو قونصلر سہولیات حاصل کرنے کے حق سے آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں۔

اس واقعے کے بعد دونوں شہریوں کی میتوں کی وطن واپسی سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی سفارتی ذرائع کو اس وقت تک یہ معلوم نہیں تھا کہ میتیں کہاں ہیں یا انہیں بنگلہ دیشی حکام کے حوالے کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سفارت خانے کو باضابطہ معلومات نہ ملنے کے باعث متعلقہ خاندانوں سے رابطے اور انہیں قابل اعتماد تفصیلات فراہم کرنے میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ میتوں کی وطن واپسی کے لیے عموماً اہل خانہ کی درخواست اور متعلقہ حکام کے درمیان رابطہ درکار ہوتا ہے۔

دونوں شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد بنگلہ دیش کی جانب سے سعودی حکام سے تفصیلات طلب کرنا سفارتی اور قونصلر حقوق سے متعلق اہم سوالات کو سامنے لاتا ہے۔

تاہم دستیاب رپورٹ میں سعودی حکام کا اس مخصوص معاملے پر تفصیلی جواب شامل نہیں۔ اس لیے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے سعودی حکام کا مؤقف، عدالتی ریکارڈ اور قونصلر اطلاع سے متعلق دستاویزات سامنے آنا ضروری ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو کس الزام میں سزائے موت دی گئی؟
جواب: میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دونوں شہریوں کو مکہ کی ایک مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی اور نازیبا حرکات کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کی اطلاع دی گئی۔
سوال 2: بنگلہ دیش نے سعودی عرب سے وضاحت کیوں طلب کی؟
جواب: رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی سفارت خانے کے ذرائع کا کہنا تھا کہ انہیں دونوں شہریوں کی گرفتاری، مقدمے اور سزا پر عمل درآمد کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
سوال 3: ویانا کنونشن کا آرٹیکل 36 کیا بیان کرتا ہے؟
جواب: ویانا کنونشن برائے قونصلر تعلقات 1963 کا آرٹیکل 36 غیر ملکی شہریوں کے قونصلر رابطے اور اطلاع سے متعلق حقوق بیان کرتا ہے، جن میں متعلقہ شخص کی درخواست پر قونصلر حکام کو اطلاع دینا بھی شامل ہے۔
سوال 4: کیا سعودی عرب نے اس معاملے میں ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی؟
جواب: اس بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے عدالتی ریکارڈ، قونصلر اطلاع سے متعلق شواہد اور سعودی حکام کا مؤقف درکار ہے۔ رپورٹ میں بعض ماہرین نے ممکنہ خلاف ورزی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:52 AM
طلوع آفتاب06:15 AM
ظہر11:53 AM
عصر03:05 PM
مغرب05:31 PM
عشاء06:54 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6