فیصل واوڈا گورنر راج: 90 یا 180 دن میں خاتمہ نظر نہیں آ رہا

فیصل واوڈا گورنر راج اور ایمرجنسی پر انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے

فیصل واوڈا گورنر راج پر بول پڑے: ایمرجنسی جلد ختم ہوتی نہیں دیکھ رہا، مولانا کے تحفظات حکومت دور کرے

اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا گورنر راج اور ایمرجنسی کے بارے میں ایک انٹرویو میں واضح انداز میں بولے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی انہیں 90 یا 180 دنوں میں ختم ہوتے نظر نہیں آتے۔ انٹرویو میں انہوں نے سیاسی جماعتوں کی ساکھ، وزیراعظم کی کارکردگی، مولانا فضل الرحمان کے تحفظات، اور سہیل آفریدی سے متعلق بھی کئی باتیں کیں۔ یہ تمام باتیں ان کی اپنی رائے اور دعوے ہیں، جن میں سے کئی کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

انٹرویو میں فیصل واوڈا نے کہا کہ اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس پولیٹیکل کیپیٹل، یعنی عوامی سیاسی سرمایہ، نہیں رہا۔ ان کے مطابق تھوڑا یا زیادہ، اب ملک میں ہر کسی کو کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے وزیراعظم کی موجودہ کارکردگی کو سراہا۔ ان کے خیال میں ملک مثبت جمہوریت کی طرف گامزن ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک مزید گورنر راج، مارشل لا یا صدارتی نظام آتا نظر نہیں آ رہا۔ البتہ یہ بھی کہا کہ یہ صرف پارٹ ون ہے اور پارٹ ٹو اور تھری بھی آئے گا۔ انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ آنے والے حصوں سے ان کی مراد کیا ہے، اس لیے اس بات کو ایک سیاسی اشارے سے زیادہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

فیصل واوڈا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سیاست بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئی ہے۔ ایسے موازنے خالص سیاسی رائے ہوتے ہیں اور ان پر مختلف حلقوں کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ پی ٹی آئی کا اس بیان پر ردعمل فی الحال سامنے نہیں آیا۔ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر ان کے کچھ تحفظات ہیں تو حکومت انہیں دور کرے۔ ایک اور موقع پر جنگ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ مولانا ملکی ترقی میں ان کے ساتھ ہیں اور جب انہیں معلوم ہوگا کہ ریلیف مل رہا ہے تو وہ بھی بات سمجھ جائیں گے۔

گورنر راج کی مدت اور سیاسی پس منظر

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد مدت کا سوال سب سے اہم بن گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق فیصل واوڈا نے ایک اور پروگرام میں کہا تھا کہ نئی تشکیل پانے والی کے پی ایڈوائزری کونسل کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے 180 دن ہیں۔ اسی پس منظر میں ان کا تازہ بیان یہ ہے کہ ان کے اندازے میں گورنر راج اور ایمرجنسی 90 یا 180 دن کے اندر ختم نہیں ہوں گے۔ یعنی ایک طرف 180 دن کو کارکردگی کے امتحان کی مدت کہا جا رہا ہے، اور دوسری طرف ان کا خیال ہے کہ اس مدت میں معاملہ ختم نہیں ہوگا۔ یہ تضاد نہیں بلکہ دو الگ باتیں ہیں، مگر عام قاری کے لیے یہ الجھن پیدا کر سکتی ہیں

حکومتی مؤقف بھی اسی تناظر میں سامنے آیا ہے۔ جنگ کی رپورٹس کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج سے پہلے ہم نے تمام آپشن استعمال کیے اور پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ طویل بات چیت کی۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے کو عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔ یعنی معاملہ سیاسی اور قانونی دونوں محاذوں پر جاری ہے۔ فیصل واوڈا کی رائے اس بحث کا ایک حصہ ہے، حتمی فیصلہ نہیں

قانونی پہلو بھی اہم ہے۔ ایک اعلیٰ وفاقی ذریعے کے حوالے سے جنگ نے رپورٹ کیا تھا کہ وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے لیے 15 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالتی فیصلے آنے والے دنوں میں اس انتظام کی مدت اور حیثیت پر اثر ڈال سکتے ہیں، اس لیے مدت سے متعلق کسی بھی پیش گوئی کو حتمی نہ سمجھا جائے

سہیل آفریدی، مراد سعید اور ن لیگ سے متعلق دعوے

انٹرویو کا سب سے متنازع حصہ وہ تھا جس میں فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی افغانستان سے مراد سعید کے ہاتھوں آپریٹ ہو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات یہی ہیں کہ مراد سعید افغانستان میں ہیں۔ یہ ایک سنگین الزام ہے، مگر انٹرویو کے مطابق اس کے ساتھ کوئی ثبوت یا دستاویز پیش نہیں کی گئی۔ سہیل آفریدی، مراد سعید یا پی ٹی آئی کی جانب سے اس پر کوئی جواب بھی فی الحال دستیاب نہیں۔ اس لیے اسے صرف ایک سینیٹر کا دعویٰ سمجھنا چاہیے، تصدیق شدہ حقیقت نہیں۔ صحافتی اصول کے مطابق جب تک دوسرا فریق اپنا مؤقف نہ دے، اس الزام کو حتمی نہیں کہا جا سکتا۔

اپنی سیاسی پوزیشن کے حوالے سے فیصل واوڈا نے بتایا کہ سینیٹر شپ کے لیے انہیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ووٹ دیا، جبکہ ن لیگ نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔ ان کے بقول ان کا ن لیگ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ یہ بیان حکومت کے اندر مختلف سیاسی جماعتوں کے باہمی تعلقات کی ایک جھلک بھی دکھاتا ہے، کیونکہ وہ موجودہ سیٹ اپ کے حامی تو ہیں مگر ایک بڑی حکومتی جماعت سے فاصلہ بھی ظاہر کر رہے ہیں۔

اس سارے منظرنامے میں شہریوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ ان سیاسی بیانات کا ان کی روزمرہ زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔ گورنر راج کے حامی کہتے ہیں کہ اس سے انتظامی اور ترقیاتی کام بہتر ہوں گے، جبکہ ناقدین اسے منتخب حکومت کے اختیارات میں مداخلت سمجھتے ہیں۔ جنگ ہی کی ایک رپورٹ کے مطابق فیصل واوڈا نے کہا کہ گورنر راج غیر آئینی نہیں بلکہ آئین میں موجود ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے حلقے اور بعض سیاسی جماعتیں تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ دونوں نقطہ ہائے نظر کو سامنے رکھ کر ہی صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ فیصل واوڈا گورنر راج کے حوالے سے اپنی پیش گوئی میں کہتے ہیں کہ یہ انتظام 90 یا 180 دن میں ختم نہیں ہوگا، مگر مارشل لا یا صدارتی نظام کا امکان بھی نہیں دیکھتے۔ مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے کا مشورہ، وزیراعظم کی تعریف، اور سہیل آفریدی سے متعلق ان کا دعویٰ انٹرویو کے نمایاں نکات رہے۔ آنے والے دنوں میں عدالتی کارروائیاں، پی ٹی آئی کا ردعمل اور حکومتی وضاحتیں ہی طے کریں گی کہ ان دعوؤں میں کتنا وزن ہے۔

Read more FAQs

‫1. فیصل واوڈا نے گورنر راج کی مدت کے بارے میں کیا کہا؟‬
‫انہوں نے کہا کہ وہ گورنر راج اور ایمرجنسی کو 90 یا 180 دنوں میں ختم ہوتے نہیں دیکھ رہے۔‬
‫‬
‫2. کیا انہوں نے مارشل لا یا صدارتی نظام کا ذکر کیا؟‬
‫جی ہاں، انہوں نے کہا کہ انہیں مزید گورنر راج، مارشل لا یا صدارتی نظام آتا نظر نہیں آ رہا۔‬
‫‬
‫3. مولانا فضل الرحمان کے بارے میں ان کا کیا کہنا تھا؟‬
‫ان کے مطابق اگر مولانا کے کچھ تحفظات ہیں تو حکومت انہیں دور کرے۔‬
‫‬
‫4. سہیل آفریدی اور مراد سعید سے متعلق دعویٰ کیا ہے؟‬
‫فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی افغانستان سے مراد سعید کے ہاتھوں آپریٹ ہو رہے تھے۔ اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور دوسرے فریق کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔‬
‫‬
‫5. کیا پی ٹی آئی نے گورنر راج کو چیلنج کیا ہے؟‬
‫رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اسے عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔‬
‫‬
‫6. فیصل واوڈا نے ن لیگ کے بارے میں کیا کہا؟‬
‫انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے لیے انہیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ووٹ دیا، ن لیگ نے نہیں، اور ان کا ن لیگ سے کوئی تعلق نہیں۔‬

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:52 AM
طلوع آفتاب06:15 AM
ظہر11:53 AM
عصر03:04 PM
مغرب05:30 PM
عشاء06:53 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6