اسلام آباد آئی-8 مرکز میں فائرنگ، نوجوان اور خاتون شدید زخمی، خاندانی دشمنی کا معاملہ

اسلام آباد کے آئی-8 مرکز میں فائرنگ کے واقعے کے بعد جائے وقوعہ کی تصویر

اسلام آباد آئی-8 مرکز میں فائرنگ، نوجوان اور خاتون شدید زخمی، خاندانی دشمنی کا معاملہ، نامزد ملزم تاحال گرفتار نہ ہو سکا

اسلام آباد (کرائم رپورٹر): وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے آئی-8 مرکز میں مبینہ پرانی دشمنی کی بنا پر فائرنگ کے واقعے میں نوجوان اور خاتون شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ آئی نائن میں نمبر 1172/26 کے تحت 26 اکتوبر 2026 کو درج کر لیا گیا، تاہم ایف آئی آر میں نامزد ملزم اور اس کے نامعلوم ساتھی کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آ سکی۔

درج شدہ ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 26 اکتوبر کی رات تقریباً 1 بج کر 23 منٹ پر آئی-8 مرکز میں میزان بینک کے قریب پیش آیا۔ مدعی ضامن خان کے بیان کے مطابق وہ اپنے بیٹے معز بحر، بھابی رابعہ بصری اور دیگر اہل خانہ کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔

ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مدعی کا بیٹا اور ایک کم عمر بچہ گاڑی سے نیچے اترے تو مبینہ طور پر ملک اظہر ولد محمد زمان اپنے ایک نامعلوم ساتھی کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ مدعی کے مطابق ملزم نے پرانی دشمنی کا ذکر کرنے کے بعد فائرنگ شروع کر دی۔

محسن نقوی اور آئی جی اسلام آباد کی لائبہ اعجاز کے اہل خانہ سے ملاقات
لائبہ اعجاز کے والد سے ملاقات اور رقم کی واپسی سے متعلق اطلاعات

مدعی کے بیان کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ان کا بیٹا معز بحر جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گیا، جبکہ گاڑی میں موجود رابعہ بصری بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گئیں۔

دونوں زخمیوں کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش پائی گئی، جبکہ فائرنگ کے محرکات کے حوالے سے پولیس کی قانونی کارروائی جاری ہے۔

ایف آئی آر میں مدعی ضامن خان نے الزام عائد کیا ہے کہ 21 فروری 2024 کو ملک اظہر کے بھائی سعد خان کے قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا، جس میں مدعی کے بیٹے کو نامزد کیا گیا تھا۔

مدعی کے مطابق ان کا بیٹا بعد ازاں عدالت سے بری ہونے کے بعد جیل سے رہا ہو گیا تھا۔ انہوں نے اسی سابقہ مقدمے اور مبینہ رنجش کو حالیہ فائرنگ کی وجہ قرار دیا ہے۔

تاہم، واقعے کے محرکات اور فائرنگ میں ملوث افراد کے کردار سے متعلق حتمی حقائق کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی ہو سکے گا۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ نمبر 1172/26 درج کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 324 اور 34 شامل کی گئی ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق نامزد ملزم ملک اظہر تاحال گرفتار نہیں ہوا، جبکہ اس کے مبینہ نامعلوم ساتھی کی شناخت اور گرفتاری بھی باقی ہے۔

واقعے کے بعد پولیس کی تفتیش میں اہم امور میں فائرنگ کے حالات، ملزمان کی شناخت، سابقہ دشمنی کے دعوے اور زخمیوں کے بیانات کی تصدیق شامل ہوں گے۔

|

READ MORE FAQS”

سوال 1: اسلام آباد میں فائرنگ کا واقعہ کہاں پیش آیا؟

جواب: فراہم کردہ ایف آئی آر کی تفصیلات کے مطابق واقعہ اسلام آباد کے آئی-8 مرکز میں میزان بینک کے قریب پیش آیا۔

سوال 2: فائرنگ کے واقعے میں کتنے افراد زخمی ہوئے؟

جواب: ایف آئی آر کے مطابق فائرنگ سے ایک نوجوان معز بحر اور ایک خاتون رابعہ بصری زخمی ہوئیں۔ دونوں کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا گیا۔

سوال 3: اسلام آباد فائرنگ کیس کا مقدمہ کس تھانے میں درج ہوا؟

جواب: فراہم کردہ معلومات کے مطابق مقدمہ تھانہ آئی نائن کے علاقے سے متعلق درج کیا گیا۔ مقدمہ نمبر 1172/26 ہے اور درج شدہ دفعات 324 اور 34 تعزیرات پاکستان ہیں۔

سوال 4: فائرنگ کیس میں ملزم گرفتار ہوا ہے؟

جواب: فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد ملزم ملک اظہر اور اس کے نامعلوم ساتھی کی گرفتاری تاحال نہیں ہوئی تھی۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:58 AM
طلوع آفتاب06:21 AM
ظہر11:52 AM
عصر02:58 PM
مغرب05:22 PM
عشاء06:46 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6