محسن نقوی اور آئی جی اسلام آباد کی لائبہ اعجاز کے گھر آمد، 51 لاکھ روپے اہل خانہ کو واپس، متاثرہ والد کا اظہارِ تشکر
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، آئی جی اسلام آباد پولیس سہیل چوہدری اور چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف نے گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے گھر کا دورہ کیا اور ان کے والد محمد اعجاز سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ملزم سے برآمد ہونے والی 51 لاکھ روپے کی رقم لائبہ اعجاز کے اہل خانہ کو واپس کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔
ملاقات کے دوران لائبہ اعجاز کے والد محمد اعجاز نے حکومتی حکام کے تعاون، رقم کی واپسی اور مشکل وقت میں پاکستانی عوام کی جانب سے حمایت پر اظہارِ تشکر کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اعجاز نے کہا کہ جب پاکستانی عوام ان کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہوئی تو ان کے غم میں کسی حد تک کمی محسوس ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ لائبہ کے بہت سے خواب تھے اور وہ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔
انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور متعلقہ حکام کی جانب سے تعاون اور رقم واپس دلانے پر شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق اس مشکل وقت میں عوام کی حمایت نے ان کے خاندان کو حوصلہ دیا۔
محمد اعجاز نے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی کی موت کو خودکشی قرار نہیں دیا جانا چاہیے، بلکہ ان کے بقول یہ قتل کا معاملہ ہے۔ انہوں نے ملزم نعمان کی ہلاکت کے بعد امید ظاہر کی کہ آئندہ کسی دوسری پاکستانی بیٹی کو ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
لائبہ کے والد کا یہ بیان ان کا ذاتی مؤقف ہے۔ واقعے کی قانونی نوعیت اور موت کے اسباب سے متعلق حتمی نتیجہ متعلقہ تفتیش اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر اخذ کیا جانا چاہیے۔
لائبہ اعجاز کے والد نے بتایا کہ ان کی رقم واپس مل گئی ہے اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سلسلے میں تعاون کیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق کیس میں ملزم سے برآمد ہونے والی 51 لاکھ روپے کی رقم اہل خانہ کو واپس کی گئی ہے۔

اس معاملے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ملزم نے مبینہ طور پر جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی داخلہ آفر لیٹرز اور فیس کی ادائیگی کی رسیدوں کے ذریعے لائبہ اعجاز کو دھوکے میں رکھا۔
اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے وصول کیے گئے، جبکہ باقی رقم نقد لی گئی۔ ان مالی معاملات کی تفصیلات اور رقم کی واپسی سے متعلق معلومات کی سرکاری ریکارڈ سے تصدیق اہم ہے۔
لائبہ اعجاز بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ تھیں۔ ان کی موت کے بعد معاملہ سامنے آیا تو بیرونِ ملک تعلیم، اسکالرشپ اور داخلے کے نام پر مبینہ مالی فراڈ کے الزامات کی تحقیقات شروع کی گئیں۔
اس کیس میں نامزد مرکزی ملزم محمد نعمان پولیس حراست کے دوران فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔ پولیس کے مطابق مسلح افراد نے زیرِ حراست ملزم کو چھڑانے کی کوشش کے دوران پولیس پارٹی پر فائرنگ کی تھی۔
لائبہ اعجاز کے اہل خانہ کو رقم کی واپسی کے بعد امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس معاملے سے حاصل ہونے والے اسباق دوسرے خاندانوں کو بیرونِ ملک تعلیم، جعلی اسکالرشپس اور داخلوں کے نام پر ہونے والے ممکنہ فراڈ سے بچانے میں مدد دیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مرحومہ لائبہ اعجاز کی رہائش گاہ آ کر اہل خانہ سے تعزیت اور دعائے مغفرت کی۔ان کا کہناتھا کہ پوری ٹیم نے دن رات محنت کی قوم اور لائبہ اعجاز کے والدین سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا ان کا فرض تھا۔
مرحومہ کے والد نے اس موقع پر کہا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، آج انہیں اس پر یقین ہو گیا۔
#LaibaIjaz #MohsinNaqvi #Justice #Pakistan #RuleOfLaw
— Azam Malik (@azammaalik) October 21, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: لائبہ اعجاز کون تھیں؟
لائبہ اعجاز بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ تھیں۔
سوال 2: لائبہ اعجاز کے اہل خانہ کو کتنی رقم واپس کی گئی؟
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملزم سے برآمد ہونے والی 51 لاکھ روپے کی رقم اہل خانہ کو واپس کی گئی۔
سوال 3: محسن نقوی نے لائبہ اعجاز کے گھر کا دورہ کیوں کیا؟
فراہم کردہ خبر کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر حکام نے لائبہ اعجاز کے والد سے ملاقات کی اور اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ تعاون کیا۔
سوال 4: لائبہ اعجاز کیس میں کس قسم کے فراڈ کا الزام ہے؟
ایف آئی اے سے منسوب معلومات کے مطابق معاملے میں مبینہ جعلی اسکالرشپ لیٹرز، یونیورسٹی داخلہ دستاویزات اور فیس کی رسیدوں کے ذریعے رقم وصول کرنے کے الزامات شامل ہیں۔




