حافظ نعیم الرحمان کی وزیراعظم سے ملاقات آج، پٹرولیم لیوی ایجنڈے پر

حافظ نعیم الرحمان کی وزیراعظم سے ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد کا منظر

حافظ نعیم الرحمان کی وزیراعظم سے ملاقات آج طے، پٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال ہوگا

حافظ نعیم الرحمان کی وزیراعظم سے ملاقات آج طے پا گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان آج دوپہر وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، جس میں پٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک میں پیٹرول کی قیمتیں اور مہنگائی عوامی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہیں۔

ملاقات کا ایجنڈا اور شرکاء

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ بھی شریک ہوں گے، جبکہ جماعت کی مذاکراتی ٹیم کے بعض دیگر ارکان کی شرکت بھی متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر احسن اقبال، علی پرویز ملک اور مشیر وزیراعظم رانا ثناءاللہ ملاقات میں شریک ہوں گے۔ اس طرح دونوں جانب سے مذاکراتی ٹیموں کے اہم ارکان ایک ہی میز پر موجود ہوں گے، جو اس بات کی علامت ہے کہ فریقین معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

ملاقات کا بنیادی ایجنڈا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف اور لیوی کا معاملہ ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت کے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم ابھی تک کسی حتمی فیصلے یا اعلان کی اطلاع نہیں، اس لیے ملاقات کے نتیجے کے بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں۔

اس معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ستمبر میں شروع ہونے والے اس مارچ کا ایک مرحلہ ٹرین مارچ کی صورت میں ملتان تک پہنچا۔ اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ کیا اور مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کے ساتھ ملاقات کی دعوت بھی دی۔ جماعت اسلامی نے مارچ مؤخر کر دیا، لیکن ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ احتجاجی تحریک ختم نہیں کی گئی اور لیوی ختم نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد مارچ کا آپشن کھلا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا مؤقف اور حکومت کی پوزیشن

گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز ختم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ریلیف پیکج ناکافی ہے۔ ان کے مطابق موٹرسائیکل سواروں اور طلبا کے لیے ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف کافی نہیں، جبکہ ان کے بقول ڈیڑھ کروڑ موٹرسائیکل سوار حکومتی پیکج سے باہر ہیں۔ یہ اعداد و شمار حافظ نعیم الرحمان کے دعوے ہیں اور حکومتی ذرائع سے ان کی الگ تصدیق ضروری ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے یہ دلیل بھی دی کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے خورونوش بھی مہنگی ہوتی ہیں، اس لیے عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے پیٹرول کی قیمت کم کرنا ہوگی۔ ان کے بقول پیٹرولیم لیوی ختم کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں، اور آئی ایم ایف معاہدے میں لیوی عائد کرنا لازمی قرار نہیں دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ریفائنریوں کے ناجائز مارجن اور پیٹرولیم لیوی میں کمی کی جائے تو پیٹرول کی قیمت 225 روپے کے قریب آ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے تخمینوں کی تصدیق کے لیے قیمتوں کے سرکاری فارمولے، ٹیکسوں کی شرح اور ریفائنری مارجن کے اعداد و شمار کا الگ جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا مؤقف رپورٹس کے مطابق یہ رہا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ریلیف پیکج کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے بیان کردہ موقف کے مطابق حکومت نے ماضی کے رابطوں میں یہ مؤقف بھی دیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے باعث لیوی میں کمی مشکل ہے۔ حکومت عام طور پر یہ دلیل دیتی ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس آمدن کا اہم ذریعہ ہے اور مالی استحکام کے لیے اسے مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے متوقع ہے کہ مذاکرات میں مکمل خاتمے کے بجائے جزوی کمی، ٹارگٹڈ ریلیف یا مرحلہ وار حل جیسے آپشنز بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں، تاہم یہ محض امکانات ہیں اور سرکاری اعلان کا انتظار ضروری ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پٹرولیم لیوی کا معاملہ دو پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ ایک جانب عوام پر مہنگائی کا بوجھ ہے، خصوصاً ٹرانسپورٹ، زراعت اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر اثر، اور دوسری جانب حکومت کی مالی مجبوریاں اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ طے شدہ اہداف۔ ایسے میں کسی بھی ریلیف کے لیے متبادل آمدن کا انتظام بھی ضروری ہوتا ہے، ورنہ بجٹ خسارہ بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔

سیاسی طور پر بھی یہ ملاقات اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو جماعت اسلامی کے احتجاجی مارچ کا معاملہ ٹل سکتا ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں احتجاج کا نیا مرحلہ شروع ہونے کا امکان رہتا ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ عوامی ریلیف کے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گی، جبکہ حکومت کی کوشش ہے کہ بات چیت کے ذریعے معاملہ حل ہو۔

آنے والے گھنٹوں میں ملاقات کے بعد مشترکہ بیان یا پریس کانفرنس متوقع ہے، جس سے واضح ہوگا کہ حکومت نے کیا یقین دہانی کرائی اور جماعت اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا۔

Read more FAQs

1. حافظ نعیم الرحمان کی وزیراعظم سے ملاقات کب اور کہاں ہوگی؟
ذرائع کے مطابق ملاقات آج دوپہر وزیراعظم ہاؤس میں ہوگی۔

2. ملاقات میں کون کون شریک ہوگا؟
جماعت اسلامی کی جانب سے حافظ نعیم الرحمان، لیاقت بلوچ اور مذاکراتی ٹیم کے بعض ارکان۔ حکومت کی جانب سے احسن اقبال، علی پرویز ملک اور رانا ثناءاللہ۔

3. ملاقات کا بنیادی ایجنڈا کیا ہے؟
پٹرولیم لیوی کا خاتمہ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف اور حکومت کے ممکنہ اقدامات۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:58 AM
طلوع آفتاب06:22 AM
ظہر11:52 AM
عصر02:57 PM
مغرب05:21 PM
عشاء06:45 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6