تہران میں پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کا اہم اجلاس، علاقائی امن کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
تہران (26 اکتوبر 2026): پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان تہران میں ہونے والا چار ملکی اجلاس اختتام پذیر ہوگیا، جس میں علاقائی امن و سلامتی کے فروغ اور باہمی تعاون کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن سمیت اہم حکام نے شرکت کی۔ ایرانی حکام نے اجلاس کی میزبانی کی، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے کے مطابق چاروں ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے قیام اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات پر بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 26 اکتوبر کو ایران کے سرکاری دورے پر تہران پہنچے، جہاں ان کی ایرانی حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق چار ملکی اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے حالیہ دورۂ ایران کے دوران پیش کی تھی۔ ان کے مطابق اجلاس میں علاقائی اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا جانا تھا۔
اجلاس کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں شریک ممالک نے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے علاقائی مسائل کے حل پر توجہ دی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق اجلاس کے اہم موضوعات میں خطے کی مجموعی صورتحال، علاقائی سلامتی اور ایران و امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی شامل تھی۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث علاقائی ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں کی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کو باہمی مشاورت اور سفارتی کوششوں کے تسلسل کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اجلاس میں علاقائی امن کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
سعودی عرب کے نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر رائد کریملی کے مطابق وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران سعودی وفد کی قیادت کی۔
ان کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک کے نمائندوں کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ قومی سلامتی حکام سے ملاقاتیں بھی طے تھیں۔

ڈاکٹر رائد کریملی نے اپنے بیان میں کہا کہ تہران کا دورہ جاری بحران میں شامل فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور سفارتی حل کی حمایت کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے ان کوششوں کو قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کے اقدامات کی حمایت سے بھی جوڑا۔
چار ملکی اجلاس میں پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں نے علاقائی امن و سلامتی کے امور پر رابطے برقرار رکھنے اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس کی اہمیت اس حوالے سے بھی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران متعدد ممالک سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل اور تناؤ میں کمی کی کوششیں کر رہے ہیں۔
تاہم اجلاس کے بعد جاری بیان میں جن نکات کا ذکر کیا گیا، ان کی روشنی میں کسی حتمی معاہدے یا کشیدگی کے خاتمے کا دعویٰ کرنے کے بجائے اسے علاقائی مشاورت اور سفارتی رابطوں کی پیش رفت قرار دینا زیادہ مناسب ہے۔
پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان آئندہ مذاکرات اور رابطوں کی نوعیت سے یہ واضح ہوگا کہ اجلاس میں طے پانے والے اصولوں کو عملی اقدامات میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے۔
رئیس الاخبار خطے کی سفارتی پیش رفت اور علاقائی امن و سلامتی سے متعلق اہم خبروں سے قارئین کو آگاہ کرتا رہے گا۔
Moments from the four-way meeting in Tehran between senior Iranian, Saudi, Pakistani, and Turkish officials.
Follow: https://t.co/oa9JV4ikYQ https://t.co/uQ1QUnh2pZ
— Press TV 🔻 (@PressTV) October 26, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: تہران میں چار ملکی اجلاس کب ہوا؟
جواب: یہ اجلاس 26 اکتوبر 2026 کو تہران میں منعقد ہوا۔
سوال 2: اجلاس میں کن ممالک نے شرکت کی؟
جواب: اجلاس میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
سوال 3: اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کس نے کی؟
جواب: پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔
سوال 4: تہران اجلاس کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
جواب: اجلاس کا مقصد علاقائی امن و سلامتی، باہمی تعاون اور خطے کے مسائل پر مذاکرات جاری رکھنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔



