اسرائیل انتخابات: ووٹنگ جاری، نیتن یاہو اور آئزن کوٹ میں کانٹے کا مقابلہ

اسرائیل انتخابات میں ووٹرز پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالتے ہوئے

اسرائیل انتخابات میں پولنگ جاری، نیتن یاہو کا اتحاد اور آئزن کوٹ کا اپوزیشن بلاک آمنے سامنے

اسرائیل انتخابات کے لیے منگل کو ووٹنگ جاری ہے، جو 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد ملک کا پہلا عام انتخاب ہے۔ یہ انتخاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے اور اسرائیل کے کئی پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی شدید تناؤ کا شکار ہیں۔

وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کو اندرونی سطح پر دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کی حکومت کے بارے میں 7 اکتوبر کے حملوں کو نہ روک پانے، غزہ میں یرغمالیوں کی بازیابی کی کوششوں، مبینہ بدعنوانی اور الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کی فوجی سروس کے تنازع پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب سابق چیف آف اسٹاف گیڈی آئزن کوٹ اپوزیشن بلاک کی قیادت کر رہے ہیں۔

جمعے کو شائع ہونے والے آخری انتخابی جائزوں کے مطابق دونوں بلاکس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق جائزوں کی اوسط میں نیتن یاہو کے بلاک کو تقریباً 50 جبکہ آئزن کوٹ کے بلاک کو 54 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی کل 120 نشستیں ہیں، اس لیے حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔ مختلف سروے میں کوئی بھی بلاک اس حد تک پہنچتا نظر نہیں آیا، اور یہ بھی یاد رہے کہ سروے حتمی نتیجہ نہیں ہوتے۔

پولنگ، ٹرن آؤٹ اور نتائج کا شیڈول

پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے شروع ہوئی اور رات 10 بجے تک جاری رہے گی۔ ملک بھر میں ووٹ ڈالنے کے اہل شہریوں کی تعداد تقریباً 73 لاکھ ہے، جن میں تقریباً 12 لاکھ فلسطینی نژاد اسرائیلی شہری بھی شامل ہیں۔ اسرائیل میں بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے لیے عمومی طور پر غیر حاضر ووٹ (ایبسنٹی بیلٹ) کی سہولت نہیں، اس لیے ووٹر کا پولنگ کے دن خود موجود ہونا ضروری ہے۔ سفارت کاروں اور ریاستی نمائندوں کو استثنیٰ حاصل ہے اور انہوں نے 20 اکتوبر کو اسرائیلی مشنز میں اپنے ووٹ ڈال دیے تھے۔

سینٹرل الیکشنز کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق صبح 7 بجے سے دوپہر 12 بجے تک ٹرن آؤٹ 31.5 فیصد رہا، جو 1973 کے انتخابات کے بعد دن کے اس حصے میں ریکارڈ کی گئی سب سے بلند شرح بتائی جا رہی ہے۔

پولنگ ختم ہوتے ہی ٹی وی چینلز ایگزٹ پول نشر کرنا شروع کر دیں گے اور ابتدائی رجحانات چند گھنٹوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم واضح اور حتمی نتائج میں کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں۔ نتائج سینٹرل الیکشنز کمیٹی کی ویب سائٹ پر بھی براہِ راست دیکھے جا سکیں گے۔ ووٹوں کی حتمی گنتی جمعے تک مکمل ہونے کی توقع ہے جبکہ سرکاری اور باضابطہ نتائج 4 نومبر کو شائع کیے جائیں گے۔


اسرائیل میں متناسب نمائندگی کا نظام رائج ہے، یعنی لوگ انفرادی امیدواروں کے بجائے سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ کسی جماعت کو ملنے والی نشستوں کا انحصار اس کے ووٹوں کے تناسب پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی جماعت 50 فیصد ووٹ لے تو اسے 120 میں سے 60 نشستیں ملیں گی۔ کنیسٹ میں داخلے کے لیے جماعت کو کم از کم 3.25 فیصد قومی ووٹ لینا ضروری ہے۔ توقع ہے کہ تقریباً ایک درجن جماعتیں اس حد کو عبور کر سکتی ہیں، اس لیے نشستوں کی تقسیم میں وقت لگ سکتا ہے۔

اسرائیل کا اگلا وزیرِ اعظم کیسے منتخب ہوگا

حتمی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کریں گے کہ وہ کس کو وزیرِ اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد صدر اس امیدوار کو نامزد کریں گے جس کے پاس حکومت بنانے کے سب سے زیادہ امکانات ہوں۔ نامزد امیدوار کے پاس حکومت سازی کے لیے 42 دن ہوتے ہیں۔

اسرائیل کی تاریخ میں آج تک کسی ایک جماعت نے اکیلے واضح اکثریت حاصل نہیں کی، اس لیے حکومتیں ہمیشہ اتحاد سے بنتی ہیں اور مذاکرات میں اکثر کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ جائزوں کے مطابق اس بار عرب جماعتوں اور دیگر چھوٹی جماعتوں کی نشستیں بھی اہم ہو سکتی ہیں، کیونکہ دونوں بڑے بلاکس کو اکثریت کے لیے مزید حمایت درکار ہو گی۔

اگر سب سے زیادہ ووٹ لینے والا بلاک اکثریت نہ بھی بنا سکے تو اس کے پاس چند راستے موجود ہوں گے۔ وہ چھوٹی جماعتوں کی حمایت حاصل کر سکتا ہے، اقلیتی حکومت بنا سکتا ہے، یا کسی دوسرے رہنما کے ساتھ اقتدار کی شراکت کا معاہدہ کر کے باری باری وزیرِ اعظم بننے کا فارمولا اپنا سکتا ہے۔

اگر کوئی بھی گروپ قابلِ عمل حکومت نہ بنا سکے تو موجودہ کابینہ، یعنی نیتن یاہو کی حکومت، نگران حکومت کے طور پر کام جاری رکھے گی۔ تمام مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ملک میں نئے انتخابات کرانا پڑیں گے۔

اس انتخاب کے نتائج نہ صرف اسرائیل کی اندرونی سیاست بلکہ غزہ، مغربی کنارے اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کی سمت پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

Read more FAQs

سوال 1: اسرائیل میں پولنگ کب ختم ہوگی؟
مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے شروع ہونے والی پولنگ رات 10 بجے ختم ہوگی۔

سوال 2: نتائج کب آئیں گے؟
ایگزٹ پول پولنگ ختم ہوتے ہی نشر ہوں گے اور ابتدائی رجحانات چند گھنٹوں میں آ سکتے ہیں۔ حتمی گنتی جمعے تک متوقع ہے اور سرکاری نتائج 4 نومبر کو شائع ہوں گے۔

سوال 3: کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے کتنی نشستیں چاہئیں؟
120 نشستوں میں سے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:58 AM
طلوع آفتاب06:22 AM
ظہر11:52 AM
عصر02:57 PM
مغرب05:21 PM
عشاء06:45 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6