انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شرکت پر مشاورت، اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نے پی ٹی آئی قیادت سے مشاورت کا وقت مانگ لیا
انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اپوزیشن کی شرکت کے سوال پر سیاسی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے پی ٹی آئی قیادت سے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے، تاہم اپوزیشن کی جانب سے کمیٹی میں شرکت کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے وفد نے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی۔ رپورٹس کے مطابق چند گھنٹوں کے دوران پیپلز پارٹی کے وفد کی اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے دوسری ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں علامہ ناصر عباس نے انتخابات میں شفافیت کو مؤثر بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔
پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت سینیٹر شیری رحمان نے کی، جبکہ اس میں نیئر بخاری، ندیم افضل چن اور سینیٹر وقار مہدی شامل تھے۔ اپوزیشن کی جانب سے علامہ راجہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، سینیٹر نور الحق قادری اور سینیٹر علی ظفر موجود تھے۔
کمیٹی کا مقصد اور شیری رحمان کا مؤقف
شیری رحمان نے ملاقات کے بعد کہا کہ پیپلز پارٹی ایسا انتخابی نظام چاہتی ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد ہو۔ ان کے مطابق انتخابی عمل سے متعلق بار بار اٹھنے والے سوالات اور شکوک پارلیمنٹ کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے کہا کہ وہ اپنی تجاویز کمیٹی کے سامنے رکھیں۔
شیری رحمان نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تجویز پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل انتخابی اصلاحات کمیٹی کے قیام کی قرارداد منظور کی جا چکی ہے۔ کمیٹی اپنی سفارشات تیار کر کے پارلیمنٹ کی منظوری کے لیے پیش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے جواب کے لیے مشاورت کا وقت مانگا ہے اور انہیں امید ہے کہ مثبت جواب ملے گا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی 2024 کے عام انتخابات، ضمنی انتخابات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا جائزہ لے گی۔ دھاندلی کے ذمہ داروں کے تعین کے بعد آئندہ اس کا راستہ روکنے کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں گے، جبکہ کمیٹی شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے سفارشات بھی مرتب کرے گی۔ یہ کمیٹی کے دائرۂ کار سے متعلق ذرائع کا بیان ہے، اور سرکاری نوٹیفکیشن میں تفصیل مختلف ہو سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کا ردِعمل اور آگے کا مرحلہ
اس سے ایک روز قبل قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن سے کہا تھا کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آئیں۔ انہوں نے قائدِ حزبِ اختلاف سے کہا کہ وہ کمیٹی کے لیے اپنا نمائندہ نامزد کر کے نام اسپیکر آفس کو بھجوائیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اگر انتخابی دھاندلی کے خدشات کو مستقبل کے انتخابات میں دور کروانا چاہتی ہے تو اسے کمیٹی میں حصہ لینا ہوگا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے ایک رہنما نے، جیسا کہ سما کی رپورٹ میں بتایا گیا، کہا کہ پارٹی اپنا فیصلہ کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو اعتماد میں لینے کے بعد کرے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کی سطح پر فیصلہ ابھی باقی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے چند دن اس حوالے سے اہم ہوں گے کہ اپوزیشن اور پی ٹی آئی باضابطہ طور پر کمیٹی میں شرکت کا اعلان کرتی ہیں یا نہیں، اور اگر شرکت ہوتی ہے تو کن شرائط یا تحفظات کے ساتھ۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کمیٹی کا دائرۂ کار اور اختیارات کیا طے پاتے ہیں، کیونکہ مختلف جماعتوں کے ہاں اس بارے میں مختلف توقعات ہو سکتی ہیں۔ ہم اس خبر پر ہر سرکاری اور سیاسی پیش رفت سے آگاہ کرتے رہیں گے۔
Read more FAQs
سوال 1: انتخابی اصلاحات کمیٹی کیا ہے؟
قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی جو انتخابی اصلاحات کی سفارشات تیار کرے گی۔
سوال 2: اپوزیشن نے کیا جواب دیا ہے؟
ذرائع کے مطابق اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نے پی ٹی آئی قیادت سے مشاورت کا وقت مانگا ہے، جبکہ شرکت کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
سوال 3: کمیٹی کن انتخابات کا جائزہ لے گی؟
ذرائع کے مطابق 2024 کے عام انتخابات، ضمنی انتخابات اور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر کے انتخابات۔





