مسٹر پتلو ویڈیو بیان: بھگدڑ کے وقت ہسپتال میں تھا، ایف آئی آر غلط ہے، غیر جانبدار تحقیقات کی اپیل
سیالکوٹ: مسٹر پتلو ویڈیو بیان میں ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو نے سیالکوٹ میں مہندی کی تقریب کے دوران ہونے والی بھگدڑ کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ ہلاکتوں کے بعد پہلی بار سامنے آنے والے اس بیان میں انہوں نے کہا کہ حادثے کے وقت وہ ہسپتال میں تھے اور کمر کی تکلیف کے باعث چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا، اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اپیل کی کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں اس حادثے کا ذمہ دار قرار نہ دیا جائے۔
مسٹر پتلو کے مطابق انہوں نے یہ تقریب عوام کے لیے رکھی تھی، جس میں غریب بچیوں کی شادی، راشن اور تحائف دینے کا ارادہ تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے متعلقہ این او سی بھی حاصل کیا تھا اور چند روز پہلے ایک ویڈیو میں شرکا کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی حفاظت خود کریں، کسی کو دھکا نہ دیں اور قطار کا خیال رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریب سے ایک دن پہلے کرکٹ کھیلتے ہوئے ان کی کمر کی ڈسک متاثر ہوئی اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ ان کے مطابق صبح جب وہ ہسپتال میں تھے تو انہیں بھگدڑ کی اطلاع ملی۔ ایف آئی آر کے اس نکتے کو انہوں نے غلط قرار دیا کہ وہ گراؤنڈ میں موجود تھے، اور کہا کہ کیمروں اور ہسپتال کے ریکارڈ کی جانچ کی جائے۔ یہ سب ان کا اپنا مؤقف ہے اور آزاد تصدیق کا منتظر ہے۔
دوسری طرف پولیس کی کارروائی اور ایف آئی آر کی تفصیلات الگ بیان کرتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق ہفتے کی شام ڈسکہ روڈ پر فراز کرکٹ گراؤنڈ میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب جاری تھی۔ اسی ایف آئی آر کے متن کے مطابق مسٹر پتلو نے اسٹیج پر آ کر شرکا کو فوری طور پر گراؤنڈ میں داخل ہونے کا اعلان کیا، جس کے بعد لوگوں نے بیک وقت اندر جانے کی کوشش کی اور بھگدڑ مچ گئی۔ یعنی ایف آئی آر کا مؤقف ان کی اپنی بات سے براہ راست مختلف ہے، اور اسی تضاد کا فیصلہ تحقیقات اور عدالتی عمل کرے گا۔
حادثے کی تفصیل، مقدمہ اور تحقیقات
نقصان کے اعداد و شمار مختلف رپورٹس میں مختلف ہیں۔ ابتدائی رپورٹس میں ایک شخص کی ہلاکت اور 13 زخمیوں کا ذکر تھا۔ آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق 30 سالہ عقیل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا، اور بتایا گیا کہ گیٹ مقررہ وقت سے پہلے کھول دیے گئے تھے۔ بعد کی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد دو بتائی گئی، جبکہ زخمیوں کی تعداد 13 سے 19 کے درمیان بیان ہوئی۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس سے زیادہ ہلاکتوں کے دعوے بھی کیے، تاہم پولیس یا سرکاری ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے حتمی تعداد کے لیے سرکاری اعلان یا ریسکیو و ہسپتال کے ریکارڈ کا انتظار کرنا چاہیے۔
جس ملک کی نوجوان نسل کے ہیرو ایسے ہوں تو چھتر کھانا ایسی نوجوان نسل کا حق بنتا
پاکستانی عوام بالخصوص ہماری خواندہ و نیم خواندہ نوجوان نسل کا اصل چہرہ یہ مسٹر پتلو ہے https://t.co/EiQWJF0ByV
— Q (@z_r026) November 2, 2026
مقدمے کے بارے میں رپورٹس کے مطابق پولیس نے مسٹر پتلو سمیت نو افراد کو نامزد کیا ہے اور چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم سمیت دیگر نامزد افراد کی تلاش جاری ہے۔ ڈیلی پاکستان کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مقدمے میں 40 سے 45 نامعلوم افراد بھی شامل کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ ایف آئی آر میں نامزد ہونا الزام ہے، جرم ثابت ہونا نہیں۔ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع ہر ملزم کو قانون دیتا ہے، اور مسٹر پتلو نے بھی کہا ہے کہ طبیعت بہتر ہونے پر وہ خود پیش ہو جائیں گے۔
واقعے کا ایک اور پہلو تقریب کے اعلانات سے جڑا ہے۔ ڈیلی آج کی رپورٹ کے مطابق منتظمین نے سوشل میڈیا کے ذریعے موٹر سائیکلوں، کار اور دیگر قیمتی انعامات کی تقسیم کا اعلان کیا تھا۔ وی نیوز کی رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ پولیس نے مسٹر پتلو کی پناہ گاہ پر چھاپہ مار کر عوام کو انعام میں دینے کے لیے رکھی موٹر سائیکلیں قبضے میں لے لیں۔ ایسے اعلانات سے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو جاتے ہیں، اس لیے تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ حفاظتی انتظامات، داخلی راستے، اجازت نامہ اور بھیڑ پر قابو کا کیا انتظام تھا۔ یہ سوال صرف ایک شخص سے نہیں بلکہ منتظمین، متعلقہ اداروں اور اجازت دینے والے حکام سے بھی جڑا ہے
اپنے ویڈیو بیان میں مسٹر پتلو شدید پریشانی اور مایوسی کا اظہار کرتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھی چھوڑ گئے ہیں اور وہ شدید ذہنی دباؤ میں ہیں۔ ایسے بیانات کو سنسنی بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا شدید ذہنی دباؤ یا مایوسی کا شکار ہے تو کسی قابل اعتماد شخص، گھر والوں یا ماہر نفسیات سے فوری رابطہ کریں، کیونکہ مدد دستیاب ہے اور تنہا رہنا ضروری نہیں۔
بھگدڑ جیسے حادثات پاکستان میں پہلے بھی انعامات یا فری تقسیم کے اعلانات کے بعد پیش آ چکے ہیں۔ ان سے ایک واضح سبق یہ ملتا ہے کہ بڑے اجتماعات سے پہلے مناسب جگہ، کئی راستے، مناسب قطار، پولیس اور ریسکیو کی موجودگی اور اعلانات کی احتیاط ضروری ہے۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ مفت انعامات کی لالچ میں ہجوم کا حصہ بننے سے پہلے اپنی حفاظت کو ترجیح دیں۔
مختصر یہ کہ مسٹر پتلو ویڈیو بیان نے سیالکوٹ بھگدڑ کے معاملے میں ایک نیا موڑ ضرور دیا ہے، مگر اصل حقائق تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں انہیں نامزد کیا گیا ہے، جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس وقت ہسپتال میں تھے۔ ہسپتال کا ریکارڈ، کیمروں کی ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات اس تضاد کو واضح کر سکتے ہیں۔ تب تک کسی کو مجرم یا بے گناہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
Read more FAQs
1. مسٹر پتلو نے اپنے ویڈیو بیان میں کیا کہا؟
انہوں نے کہا کہ بھگدڑ کے وقت وہ ہسپتال میں تھے، اس واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہیں، اور تحقیقات کی اپیل کی۔
2. بھگدڑ کہاں ہوئی؟
سیالکوٹ میں ڈسکہ روڈ پر واقع گراؤنڈ میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران۔
3. ہلاکتیں اور زخمی کتنے ہیں؟
رپورٹس کے مطابق دو افراد جاں بحق اور 13 سے 19 زخمی ہوئے۔ سوشل میڈیا پر اس سے زیادہ ہلاکتوں کے دعوے سرکاری طور پر تصدیق شدہ نہیں۔





