وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں میں قرضوں کا حجم 1500 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر۔
وزیراعظم کی بینکوں کو ہدایت کہ زراعت، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں قرضوں کی فراہمی تیز بنائی جائے، جبکہ حکومتی اقدامات کے تحت قرضوں کی فراہمی میں سست روی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت اور ہاؤسنگ کی ترقی سے ملکی معیشت بہتر بنانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزراء، گورنر اسٹیٹ بینک، متعلقہ سرکاری حکام اور معروف کمرشل بینکوں کے سربراہان و نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی وسائل کی فراہمی، بینکوں کی کارکردگی اور حکومتی قرضہ اسکیموں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکومت کی ترجیح ہے کہ ان کاروباروں کو مالی وسائل تک آسان رسائی فراہم کی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دی جا سکے اور نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں۔
انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس شعبے کی ترقی کے بغیر معاشی استحکام کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہے۔ حکومت زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس کے لیے کسانوں کو جدید سہولیات اور آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی ضروری ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپنا گھر پروگرام سے نہ صرف عام شہریوں کو گھر کی سہولت حاصل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ تعمیرات اور ہاؤسنگ سے وابستہ دیگر صنعتوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔
بینکوں کی کارکردگی اور قرضوں کی فراہمی میں تیزی لانے کی ہدایت
وزیراعظم نے ان بینکوں کی کارکردگی کو سراہا جو حکومتی اقدامات کے تحت زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو قرضوں کی فراہمی میں بہتر نتائج دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جو بینک کسانوں، کاروباری افراد اور وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ان کے ساتھ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کی جانب سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جانی چاہیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ نجی شعبے کی ترقی میں بینکوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ حکومت اور سرکاری ادارے بینکوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ بینک بھی ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی کے لیے اسی جذبے کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت پر جائزہ اجلاس
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ زراعت کا شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن سے برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہیں. وزیراعظم نے وزیرِ خزانہ کو ایس ایم ای سیکٹر، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبے کے اسٹیک ہولڈرز فنانسنگ سے متعلق مسائل حل کرنے اور جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو تین ترجیحی شعبوں میں کمرشل بینکس کی کارکردگی کے اشاریے بھی پیش کیے گئے۔ وزیراعظم نے اچھی کارکردگی کے حامل بینکس کی تعریف کی۔
"اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ہاؤسنگ، زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو ترجیحی بنیادوں پر قرضوں کی فراہمی کے لیے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ 23 اکتوبر 2026 تک وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے 86 ہزار 899 قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کا مجموعی حجم 455 ارب روپے اور مستفید ہونے والے قرض داروں کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار 317 ہو گئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں قرضوں کا حجم 1329 ارب روپے اور مستفید ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 35 لاکھ، جبکہ ایس ایم ایز کے شعبے میں قرضوں کا حجم 1148 ارب روپے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد 3 لاکھ 42 ہزار 458 تک پہنچ گئی ہے۔ "
بریفنگ
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) November 2, 2026
وزیراعظم نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو ہدایت کی کہ ایس ایم ای سیکٹر، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو فنانسنگ کے حصول میں درپیش مسائل حل کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
انہوں نے اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو بھی ہدایت کی کہ باہمی تعاون سے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور برآمد کنندگان کے ٹیکس سے متعلق مسائل حل کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ایس ایم ایز کو قرضوں کی آسان فراہمی یقینی بنانے کے لیے رسک کوریج کی جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ 23 اکتوبر 2026 تک وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ اس پروگرام میں مجموعی طور پر 86 ہزار 899 قرضوں کی منظوری دی گئی، جبکہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کا مجموعی حجم 455 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور اس سے مستفید ہونے والے قرض داروں کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار 317 ہو چکی ہے۔
اجلاس میں زرعی شعبے کی مالی معاونت سے متعلق بتایا گیا کہ اس شعبے میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 329 ارب روپے جبکہ قرضوں سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 35 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں یعنی ایس ایم ای سیکٹر میں قرضوں کا مجموعی حجم ایک ہزار 148 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد 3 لاکھ 42 ہزار 458 ہو گئی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2027 کے اختتام تک زرعی اور ایس ایم ای شعبوں میں قرضوں کا حجم 1500 ارب روپے تک پہنچانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے تین بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے۔ ان میں ضوابط میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان رسک اور اخراجات میں شراکت داری، جبکہ ڈیجیٹل سہولیات کا فروغ شامل ہے۔
اس سلسلے میں ایس ایم ای کنیکٹ ڈیجیٹل پورٹل بھی شروع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے کاروباری افراد قرضوں کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرانے کے ساتھ اپنی درخواستوں کی پیش رفت بھی دیکھ سکیں گے۔ حکومت کی جانب سے ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں کے لیے رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی کے اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ قرضوں کے حصول کا طریقہ کار آسان بنانے، مطلوبہ دستاویزات میں کمی اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، میاں ریاض حسین پیرزادہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ اور شزہ فاطمہ خواجہ کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ارکان قومی اسمبلی حفیظ الدین اور چوہدری افتخار نذیر سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام اور کمرشل بینکوں کے سربراہان و نمائندوں نے شرکت کی۔
Read more FAQs
1۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بینکوں کو کیا ہدایت کی؟
وزیراعظم نے بینکوں کو زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
2۔ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت کتنے قرضوں کی منظوری دی گئی؟
23 اکتوبر 2026 تک اس پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔
3۔ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت کتنی رقم جاری کی گئی؟
بریفنگ کے مطابق 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔





