ڈی جی آئی ایس پی آر کا خیبرپختونخوا حکومت سے متعلق اہم بیان

ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ صوبے کے عوام امن و استحکام چاہتے ہیں، پاکستان کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی موجود ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان سامنے آگیا، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے سہولت کاروں میں سے ایک خیبرپختونخوا کی نااہل اور لاتعلق حکومت بھی تھی، صوبے میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرنے والا ایک اہم عنصر اب موجود نہیں ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو 30 اکتوبر 2026 کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی موجود ہے، جس کا اہم حصہ ملک کے اندر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے عناصر میں صوبائی حکومت بھی شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایسا سہولت کار اب موجود نہیں جو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہا تھا۔

انٹرویو کے دوران خیبرپختونخوا میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق سوال بھی کیا گیا۔ اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حکومت کے خاتمے سے متعلق سوال سیاسی نوعیت کا ہے اور اس کا جواب سیاستدان بہتر انداز میں دے سکتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول ان کے علم اور مؤقف کے مطابق صوبے میں حکومت کی تبدیلی آئینی اور قانونی ضوابط کے مطابق ہوئی۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے باعث صوبے کے لوگوں نے سب سے زیادہ مشکلات برداشت کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام امن اور استحکام چاہتے ہیں اور وہ اس کے حق دار ہیں۔ انہوں نے صوبے کے لوگوں کو بہادر اور اپنی روایات پر فخر کرنے والی قوم قرار دیا۔

دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور سکیورٹی آپریشنز

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انٹرویو میں واضح کیا کہ پاکستان کی حکمت عملی صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں اور معاون عناصر کے خلاف اقدامات بھی اس کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ان تمام عوامل کو دیکھنا ضروری ہے جو دہشت گردوں کو مدد فراہم کرتے یا سکیورٹی اقدامات میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 200 انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کرتی ہیں۔ یہ کارروائیاں پولیس، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون سے انجام دی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور اس حوالے سے پاکستان اپنی حکمت عملی پر عمل پیرا رہے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی سے متعلق تمام مسائل کو صرف بیرونی عوامل سے منسوب نہیں کیا جا سکتا بلکہ بعض معاملات ایسے بھی ہیں جنہیں ملک کے اندر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے اندرونی سہولت کاری اور معاونت کے پہلوؤں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

خیبرپختونخوا میں امن و استحکام کا مطالبہ

انٹرویو میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ صوبے کے عوام نے طویل عرصے تک دہشت گردی کے اثرات برداشت کیے ہیں۔ ان کے بقول وہاں کے لوگوں کی بنیادی خواہش امن، تحفظ اور استحکام ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا مقصد بھی عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت کے حوالے سے بھی اپنا مؤقف پیش کیا اور کہا کہ ان کے خیال میں ایسے عناصر جو دہشت گردوں سے روابط رکھتے ہیں، وہی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس بیان کے تناظر میں صوبے میں امن کے قیام، سکیورٹی اداروں کے کردار اور سیاسی و انتظامی تعاون کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا مسئلہ ایک اہم قومی اور عوامی معاملہ ہے، جس کے اثرات صرف سکیورٹی تک محدود نہیں رہتے بلکہ تعلیم، کاروبار، روزگار، نقل و حرکت اور معمولات زندگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں امن و استحکام کے لیے سکیورٹی اداروں، پولیس، انتظامیہ اور متعلقہ حکومتی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون اہم سمجھا جاتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان میں سابقہ صوبائی حکومت کے کردار پر سخت تنقید کی گئی ہے، جبکہ حکومت کی تبدیلی کو انہوں نے آئینی و قانونی ضوابط کے مطابق قرار دیا۔ یہ مؤقف سیاسی اور عوامی سطح پر مزید بحث کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، صوبائی انتظامیہ کی ذمہ داریوں اور سکیورٹی اقدامات کے نتائج کا جائزہ متعلقہ حقائق اور زمینی صورتحال کی بنیاد پر لیا جانا ضروری ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی موجود ہے اور دہشت گردوں کے ساتھ ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام امن و استحکام چاہتے ہیں اور یہی ان کی بنیادی ضرورت ہے۔

Read more FAQs

1۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے خیبرپختونخوا حکومت کے بارے میں کیا کہا؟

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی نااہل اور لاتعلق حکومت دہشت گردی کے سہولت کاروں میں شامل تھی۔

2۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بیان کب دیا؟

انہوں نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو 30 اکتوبر 2026 کو انٹرویو دیا، جس کی تفصیلات 2 نومبر کو سامنے آئیں۔

3۔ پاکستان میں روزانہ کتنے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جاتے ہیں؟

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کرتی ہیں۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر05:03 AM
طلوع آفتاب06:27 AM
ظہر11:51 AM
عصر02:53 PM
مغرب05:15 PM
عشاء06:40 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6