آبنائے ہرمز فیس منصوبہ: قطر نے ایران کی حمایت سے انکار کر دیا

آبنائے ہرمز فیس منصوبہ پر قطری وزیراعظم کا بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

قطری وزیراعظم کا دوٹوک مؤقف، آبنائے ہرمز پر فیس لگانے کے ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے

آبنائے ہرمز فیس منصوبہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ قطر نے اس حوالے سے ایران کے ممکنہ مؤقف کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے ایک بین الاقوامی میڈیا ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ قطر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے کسی بھی ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور بڑی مقدار میں قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔

قطری وزیراعظم کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان قائم کی گئی ہاٹ لائن خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رابطہ نظام کا مقصد غلط فہمیوں، اشتعال انگیزی اور غیر مصدقہ اطلاعات کو روکنا ہے تاکہ کسی بھی نئے بحران سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بعض عناصر خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ بحری جہازوں کو ملنے والی کسی بھی دھمکی یا اطلاع کی براہ راست تصدیق کی جائے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے مزید کہا کہ اگر ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے کوئی باضابطہ فیس یا ٹول ماڈل پیش کرتا ہے تو قطر اس کا تفصیلی جائزہ لے گا، تاہم فی الحال ایسے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا تک قطر کی رسائی کے اہم ترین راستوں میں آبنائے ہرمز شامل ہے، اس لیے اس آبی گزرگاہ پر کسی دوسرے ملک کا مکمل کنٹرول یا مالیاتی پابندی قابل قبول نہیں ہوگی۔

قطری وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ آئندہ 30 روز کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ جائیں گی اور خطے میں تجارتی سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی۔

انہوں نے قطر کی مائع قدرتی گیس (LNG) پیداوار کے حوالے سے بھی اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آنے والے چند ہفتوں میں ایل این جی پیداوار مکمل طور پر بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم اس کا انحصار آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور بحری سرگرمیوں کی بحالی پر ہوگا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی پابندی، فیس یا کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔

قطر کے حالیہ بیان کو خطے میں استحکام، آزاد بحری تجارت اور عالمی توانائی سپلائی چین کے تسلسل کے لیے ایک اہم سفارتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

READ MORE FAQS

آبنائے ہرمز کہاں واقع ہے؟

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک اہم بین الاقوامی سمندری گزرگاہ ہے۔

قطر نے ایرانی منصوبے کی حمایت کیوں نہیں کی؟

قطر کا مؤقف ہے کہ عالمی تجارت کے اہم راستے پر کسی ایک ملک کا کنٹرول یا فیس عائد کرنا مناسب نہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے کیوں اہم ہے؟

دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور قدرتی گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔

کیا ایران نے باضابطہ فیس منصوبہ پیش کیا ہے؟

قطری وزیراعظم کے مطابق ابھی تک ایران نے کوئی حتمی یا باضابطہ ماڈل پیش نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:15 AM
طلوع آفتاب04:59 AM
ظہر12:10 PM
عصر03:55 PM
مغرب07:22 PM
عشاء09:06 PM