بجٹ 10 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری، حجم 17.1 ٹریلین روپے متوقع، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان

وفاقی بجٹ 2026-27 سے متعلق اجلاس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاقی بجٹ 2026-27 10 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری حجم 17.1 ٹریلین روپے متوقع، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کا مجموعی حجم تقریباً 17.1 ٹریلین روپے متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور اس کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان بجٹ تجاویز پر اہم مشاورت مکمل ہو گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے ملاقات کی، جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، نوید قمر، شیری رحمان اور سلیم مانڈوی والا سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔

اجلاس میں وفاقی سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بجٹ کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی۔ اس دوران آئندہ مالی سال کی معاشی حکمت عملی، ترقیاتی منصوبوں اور مالیاتی ترجیحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد سے ملاقاتبجٹ میں عوام کو ریلیف دینے پر گفتگو
وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری شخصیات سے ملاقات میں بجٹ اور معاشی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے معاشی شرح نمو (GDP Growth Rate) کا ہدف 4.1 فیصد جبکہ اوسط مہنگائی (Inflation) 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے ابتدائی خدوخال کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جبکہ پیٹرولیم لیوی سے 1 ہزار 727 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کا حجم 1.1 ٹریلین روپے متوقع ہے، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے اور دفاعی اخراجات کے لیے 2 ہزار 665 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2 ہزار 768 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے بھی ریلیف پیکیج شامل کیے جانے کی توقع ہے۔ ابتدائی تجاویز کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں 7 سے 10 فیصد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے، تاہم سرکاری ملازمین کی تنظیمیں مہنگائی کے پیش نظر 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملازمین کی تنظیموں نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں بجٹ سے قبل اور بجٹ کے روز احتجاج اور دھرنے کی وارننگ بھی دی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی فلاح، معاشی استحکام، ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کو آئندہ بجٹ کی بنیادی ترجیحات بنایا جا رہا ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: وفاقی بجٹ 2026-27 کب پیش کیا جائے گا؟

جواب: ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 10 جون 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

سوال: آئندہ بجٹ کا مجموعی حجم کتنا متوقع ہے؟

جواب: بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 17.1 ٹریلین روپے متوقع ہے۔

سوال: معاشی شرح نمو کا ہدف کیا رکھا گیا ہے؟

جواب: مالی سال 2026-27 کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد تجویز کیا گیا ہے۔

سوال: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ متوقع ہے؟

جواب: ابتدائی تجاویز کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں 7 سے 10 فیصد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

سوال: ٹیکس ریونیو کا ہدف کتنا رکھا گیا ہے؟

جواب: آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔

سوال: پیٹرولیم لیوی سے کتنی آمدن متوقع ہے؟

جواب: پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1 ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔

سوال: ترقیاتی پروگرام (PSDP) کا حجم کتنا ہوگا؟

جواب: وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم تقریباً 1.1 ٹریلین روپے متوقع ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]