بشریٰ بی بی کو بڑا عدالتی دھچکا، القادر ٹرسٹ کیس میں سزا معطلی کی درخواست مسترد
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) نے القادر ٹرسٹ کے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے سے متعلق درخواست مسترد کر دی، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ مرکزی اپیل کی سماعت کے دوران دونوں فریقین کو مناسب موقع فراہم کرتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ کرنے کی کوشش کی جائے۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بدھ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس مرحلے پر 30 اپریل 2026 کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کے لیے کوئی کافی جواز موجود نہیں۔ اسی بنیاد پر بشریٰ بی بی کی اپیل مسترد کر دی گئی۔

وفاقی آئینی عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مرکزی اپیل کی سماعت کے دوران مکمل معاونت فراہم کریں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) پر بھی لازم ہوگا کہ وہ غیر ضروری التوا طلب کیے بغیر اپنے دلائل پیش کرے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ مرکزی اپیل میں ریکارڈ کی بڑی مقدار اور تفصیلی دلائل کی ضرورت کا مؤقف بذاتِ خود ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کے لیے کافی نہیں۔
ایف سی سی نے توقع ظاہر کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں فریقین کو سماعت کا مناسب موقع دیتے ہوئے مرکزی اپیل کا فیصلہ کرنے کی کوشش کرے گی اور غیر ضروری التوا کی حوصلہ شکنی کرے گی۔
دورانِ سماعت بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطل کرنے کی درخواست نیب کی جانب سے بار بار التوا مانگنے کے باعث زیرِ التوا رہی، اور ہائی کورٹ نے یہ درخواستیں منظور کیں۔
وکیل کے مطابق اس دوران مرکزی اپیل بھی سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی، تاہم بالآخر 30 اپریل 2026 کو سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں ریکارڈ بہت زیادہ ہے اور اس میں پیچیدہ قانونی نکات شامل ہیں، جن پر دلائل دینے اور فیصلہ کرنے کے لیے خاصا وقت درکار ہوگا۔
انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے جن فیصلوں پر انحصار کیا، وہ موجودہ مقدمے کے حقائق سے مختلف ہیں، اس لیے ان کا اطلاق درست انداز میں نہیں کیا گیا۔

وکیل نے سپریم کورٹ کے 2019 کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی اپیل سماعت کے لیے مقرر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سزا معطل کرنے کی درخواست پر غور نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق بیرسٹر سلمان صفدر نے 17 ستمبر 2026 کو وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کی آنکھوں کی بگڑتی ہوئی کیفیت کا معاملہ بھی اٹھایا تھا۔ درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ان کی بینائی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
تاہم ایف سی سی نے موجودہ درخواست میں سزا معطل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کا جواز تسلیم نہیں کیا اور وکیل کو مرکزی اپیل کی سماعت میں مکمل معاونت کرنے کی ہدایت کی۔
وفاقی آئینی عدالت نے بشریٰ بی بی کی اپیل دائر کرنے میں ہونے والی 61 روز کی تاخیر بھی معاف کر دی۔
عدالت کے مطابق اڈیالہ جیل، راولپنڈی میں قید ہونے سے متعلق پیش کی گئی وضاحت تاخیر معاف کرنے کے لیے کافی وجہ تھی۔
بشریٰ بی بی اور عمران خان نے جولائی 2025 میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنی سزائیں معطل کرنے کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ ہائی کورٹ نے 30 اپریل 2026 کو یہ درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ سزا کے خلاف مرکزی اپیلیں پہلے ہی سماعت کے لیے مقرر ہیں۔
عدالتی کارروائی کا اہم نکتہ: وفاقی آئینی عدالت کے اس فیصلے میں بشریٰ بی بی کی سزا معطل نہیں کی گئی۔ عدالت نے مرکزی اپیل کی سماعت کو آگے بڑھانے اور غیر ضروری التوا سے گریز پر زور دیا ہے۔ مرکزی اپیل کے حتمی فیصلے سے متعلق کوئی نتیجہ اس حکم سے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
اہم ترین، بشریٰ بی بی کیس کی سماعت، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان عدالت پہنچ گئے https://t.co/l76Eq4R8Tg
— Muhammad Zahid Sharif Chaudhry (@Zahidsharif0000) October 14, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: وفاقی آئینی عدالت نے بشریٰ بی بی کی درخواست پر کیا فیصلہ دیا؟
جواب: عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں ان کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سوال 2: عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو کیا ہدایت دی؟
جواب: عدالت نے وکیل کو مرکزی اپیل کی سماعت میں مکمل معاونت کرنے اور نیب کو غیر ضروری التوا کے بغیر دلائل دینے کی ہدایت کی۔
سوال 3: کیا بشریٰ بی بی کی اپیل دائر کرنے میں تاخیر معاف کی گئی؟
جواب: جی ہاں، وفاقی آئینی عدالت نے اپیل دائر کرنے میں 61 روز کی تاخیر معاف کر دی۔
سوال 4: کیا اس فیصلے سے بشریٰ بی بی کی سزا ختم ہو گئی؟
جواب: نہیں، عدالت نے سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کی۔ مرکزی اپیل کا حتمی فیصلہ الگ عدالتی کارروائی میں ہونا ہے۔






