
شیخوپورہ میں کھاد بنانے والی فیکٹری کے گودام پر چھاپہ، 20 ہزار بوریاں گندم برآمد
شیخوپورہ میں کھاد بنانے والی فیکٹری کے گودام پر چھاپہ مار کر 20 ہزار بوریاں گندم برآمد، ذخیرہ اندوزی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی۔

شیخوپورہ میں کھاد بنانے والی فیکٹری کے گودام پر چھاپہ مار کر 20 ہزار بوریاں گندم برآمد، ذخیرہ اندوزی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی۔

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت آج مستحکم رہی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونا 3643 ڈالر جبکہ پاکستان میں فی تولہ سونا 3 لاکھ 86 ہزار 300 روپے پر برقرار رہا۔

مانیٹری پالیسی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شرح سود کو 11 فیصد کی سطح پر برقرار رکھا جائے گا۔

کاروباری ہفتے کے آغاز پر پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ، سرمایہ کار پرجوش، ہنڈریڈ انڈیکس 155,463 پوائنٹس کی سطح پر بحال۔

ٹی سی پی کی نئی منڈی: چینی کی درآمد ٹینڈر ایک لاکھ میٹرک ٹن کے لیے چینی کی درآمد ٹینڈر کا پسِ منظر پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور مقامی پیداوار کی کمی حکومت کو درآمدات کی طرف راغب کر رہی ہے۔ اس بحران کو کم کرنے

آئی ایم ایف پاکستان سیلاب پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ عوام سے تعزیت کی۔ نمائندے ماہر بینیجی نے کہا کہ نقصان اور حکومتی اقدامات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ملک بھر میں سونے کی قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ، فی تولہ 200 روپے کم ہوکر 3 لاکھ 86 ہزار 300 روپے جبکہ 10 گرام سونا 3 لاکھ 31 ہزار 189 روپے کا ہوگیا۔ عالمی مارکیٹ میں بھی 2 ڈالر کی کمی۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی چونکا دینے والی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ وزارتِ مواصلات میں 78 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ صرف پاکستان پوسٹ میں 50 ارب روپے کی بدانتظامی سامنے آئی، جن میں خریداری میں 2.84 ارب، کرپشن اور چوری میں 28 کروڑ، اور ایچ آر شعبے میں 1.25 ارب روپے شامل ہیں۔ مزید برآں، کمرشل بینک اکاؤنٹس کے باعث 4.58 ارب روپے کا نقصان اور 9.42 ارب کی عدم ریکوریاں رپورٹ ہوئیں۔ عوامی اور ماہرین حلقوں نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفافیت اور فوری اصلاحات پر زور دیا ہے۔

کراچی میں آٹے کی قیمت کم ہونا عوام کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ گندم کی قیمت گھٹنے اور حکومتی اقدامات کے باعث آٹا اب زیادہ قابلِ برداشت نرخوں پر دستیاب ہے۔

ملک میں مہنگائی کی صورتحال عوام کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور آمدنی میں کمی نے عام زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔