زندگی کی پراسرار ’ایک طرفہ ساخت‘ کا راز حل کرنے پر ہنری بی کاگان اور کینسو سوئی کو کیمسٹری کا نوبیل انعام 2026 مل گیا

کیمسٹری نوبیل انعام 2026 کے فاتح ہنری کاگان اور کینسو سوئی

زندگی کی پراسرار ’ایک طرفہ ساخت‘ کا راز حل کرنے پر فرانس کے سائنسدان ہنری بی کاگان اور جاپان کے سائنسدان کینسو سوئی کو کیمسٹری کا نوبیل انعام 2026 مل گیا

اسٹاک ہوم: کیمسٹری کا نوبیل انعام 2026 فرانس کے سائنسدان ہنری بی کاگان (Henri B. Kagan) اور جاپان کے سائنسدان کینسو سوئی (Kenso Soai) کو کیمیائی تحقیق میں اہم پیش رفت پر دے دیا گیا۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق دونوں سائنسدانوں نے اس دیرینہ کیمیائی معمے کا حل پیش کیا کہ قدرت ایک سالمے کی صرف مخصوص شکل کیوں بناتی ہے، جبکہ اس کی دوسری شکل آئینے میں اس کی عکس جیسی ہوتی ہے۔

کیمسٹری میں اس خاصیت کو Chirality کہا جاتا ہے۔ ایسے سالمے دو شکلوں میں موجود ہوسکتے ہیں جو ایک دوسرے کا آئینہ دار ہوتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انسانی دایاں اور بایاں ہاتھ ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں لیکن ایک دوسرے کا مکمل عکس ہوتے ہیں۔

انتونیو گوتریس کو نشانِ امتیاز دیتے ہوئے صدر آصف علی زرداری
صدر آصف علی زرداری نے یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو نشانِ امتیاز سے نواز دیا۔

زندگی صرف ایک شکل کو کیوں ترجیح دیتی ہے؟

سائنسدانوں کے مطابق پروٹین بنانے والے بنیادی اجزا یعنی امائنو ایسڈز کی بھی دو آئینہ دار شکلیں ہوسکتی ہیں، تاہم زمین پر موجود جاندار نظام بنیادی طور پر ان میں سے صرف ایک شکل کو استعمال کرتے ہیں۔

عام کیمیائی تجربات میں اکثر دونوں شکلیں تقریباً برابر مقدار میں پیدا ہوتی ہیں، لیکن قدرتی حیاتیاتی نظام ایک مخصوص شکل کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی سوال ایک صدی سے زیادہ عرصے سے سائنسدانوں کے لیے اہم معمے کی حیثیت رکھتا تھا۔

ہنری کاگان نے 1986 میں کیمیائی تعاملات کو کنٹرول کرنے کا ایک نیا طریقہ دریافت کیا، جس کے ذریعے وہ سالمے کی ایک آئینہ دار شکل دوسری کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے۔

جاپان کی ٹوکیو یونیورسٹی آف سائنس سے وابستہ کینسو سوئی نے 1995 میں اس تحقیق کو مزید آگے بڑھایا اور ایسا کیمیائی تعامل پیش کیا جس میں نامیاتی سالمے کی مطلوبہ شکل پیدا کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔

بعد ازاں 2003 میں سوئی ایسا تعامل کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئے جس میں دو ممکنہ آئینہ دار شکلوں میں سے صرف ایک تشکیل پاتی تھی۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق زندگی کے علاوہ اس سے پہلے کسی نے یہ کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔

ادویات کی تیاری میں اہمیت

سالمات کی یہ مختلف شکلیں ادویات کی تیاری میں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ ایک ہی کیمیائی مادے کی مختلف شکلیں انسانی جسم میں بالکل مختلف اثرات پیدا کرسکتی ہیں۔

مریم نواز کی عمانی وزیر ڈاکٹر خلفان بن سعید سے ملاقات
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے عمانی وزیر ڈاکٹر خلفان بن سعید کی ملاقات۔

نوبیل کمیٹی نے تھیلیڈومائڈ (Thalidomide) کی مثال بھی پیش کی، جو 1950 کی دہائی میں حاملہ خواتین کو صبح کے وقت ہونے والی متلی کے علاج کے لیے دی جاتی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس دوا کے سالمے کی ایک شکل مؤثر جبکہ دوسری نقصان دہ اثرات سے منسلک تھی۔

اس واقعے کے نتیجے میں ہزاروں ایسے بچے شدید پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہوئے جن کی ماؤں نے حمل کے دوران یہ دوا استعمال کی تھی۔

کینسو سوئی نے کیمسٹری کا نوبیل انعام 2026 ملنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کے سب سے پُرجوش دنوں میں سے ایک ہے۔

نوبیل کمیٹی برائے کیمسٹری کے چیئرمین ہائنر لنکے کے مطابق کاگان اور سوئی نے اس کیمیائی معمے کا حل فراہم کیا کہ Homochirality یعنی سالمے کی مطلوبہ شکل کا انتخاب قدرتی طور پر کیسے سامنے آسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تحقیق نہ صرف کیمسٹری کی بنیادی سمجھ میں اہم اضافہ ہے بلکہ نئی ادویات کی تیاری اور حیاتیاتی نظام میں زندگی کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے پروفیسر اینگس ڈیوسن کے مطابق chirality زندگی کی ساخت میں بھی نظر آتی ہے، جس کی مثال انسانی جسم میں دل کا بائیں جانب ہونا اور گھونگھے کے خول کا مخصوص سمت میں مڑنا ہے۔

نوبیل کمیٹی کے رکن پیٹر سومفائی نے تحقیق کو کیمسٹری کے بنیادی اصولوں کی سمجھ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئینہ دار سالماتی شکل کے پیدا ہونے کے عمل کو سمجھنا زندگی کے آغاز سے جڑا ایک انتہائی بنیادی سوال ہے۔

میڈیسن کا نوبیل انعام 2026 تین سائنسدانوں کے نام، آپٹو جینیٹکس میں اہم دریافت

اسٹاک ہوم: 2026 کا نوبیل انعام برائے فزیالوجی یا میڈیسن کارل ڈائسراتھ (Karl Deisseroth)، پیٹر ہیگیمان (Peter Hegemann) اور جارج ناگل (Georg Nagel) کو لائٹ گیٹڈ آئن چینلز اور آپٹو جینیٹکس (Optogenetics) سے متعلق اہم دریافتوں پر دیا گیا ہے۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق تینوں سائنسدانوں کی تحقیق نے یہ سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا کہ روشنی کے ذریعے مخصوص خلیوں کی سرگرمی کو کس طرح کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

آپٹو جینیٹکس کیا ہے؟

آپٹو جینیٹکس ایک سائنسی تکنیک ہے جس میں روشنی کی مدد سے مخصوص خلیوں، خصوصاً اعصابی خلیوں کی سرگرمی کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے دماغ اور اعصابی نظام کے مطالعے کے نئے راستے کھولے ہیں۔

پیٹر ہیگیمان کو نوبیل انعام کی اطلاع ایک ای میل کے ذریعے ملی جس میں انہیں فون کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ جب انہوں نے دیے گئے نمبر پر رابطہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ انہیں 2026 کا نوبیل انعام برائے فزیالوجی یا میڈیسن دیا گیا ہے۔

ہیگیمان نے اس موقع پر کہا کہ وہ یہ اعزاز دوستوں کے ساتھ بانٹنے پر خوش ہیں۔ انہوں نے تجسس اور سوالات کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ تحقیق کے دوران تجسس انسان کو غیر متوقع سائنسی دریافتوں تک لے جاسکتا ہے۔

دوسرے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان جارج ناگل اس وقت اٹلی میں موجود تھے جب انہیں انعام کی خبر ملی۔ وہ ایک دھوپ سے بھرے ٹیرس پر زیتون کے درختوں کے منظر سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ انہیں فون پر نوبیل انعام کی اطلاع دی گئی۔

ناگل نے بعد میں آپٹو جینیٹکس کی ترقی کا باعث بننے والے اہم تحقیقی مرحلے کو یاد کیا اور بتایا کہ اس شعبے میں تحقیق نے کس طرح ایک نئی سائنسی سمت پیدا کی۔

کارل ڈائسراتھ کی تحقیق

امریکا سے تعلق رکھنے والے ماہر نفسیات اور سائنسدان کارل ڈائسراتھ بھی اس سال کے نوبیل انعام کے مشترکہ فاتح ہیں۔ ان کی تحقیق نے آپٹو جینیٹکس کو اعصابی سائنس میں ایک اہم تحقیقی تکنیک بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

آپٹو جینیٹکس کی مدد سے سائنسدان مخصوص نیورونز کو روشنی کے ذریعے فعال یا غیر فعال کرکے دماغ کے پیچیدہ نظام کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اس تکنیک نے اعصابی سرگرمی، رویوں اور دماغی افعال کو سمجھنے کے لیے تحقیق کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔

نوبیل انعام 2026 یافتگان میں سے پیٹر ہیگیمان نے اعتراف کیا کہ انہیں اس اعزاز کی توقع نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سوچا تھا کہ طب کے شعبے میں نوبیل انعام کے لیے ابھی وقت باقی ہے۔

تینوں سائنسدانوں کی تحقیق نے لائٹ گیٹڈ آئن چینلز اور روشنی کے ذریعے خلیوں کی سرگرمی کو کنٹرول کرنے کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں آپٹو جینیٹکس جدید نیورو سائنس کا ایک اہم ذریعہ بن گیا۔

اس تحقیق کی اہمیت صرف بنیادی سائنس تک محدود نہیں بلکہ ماہرین کے لیے دماغ اور اعصابی بیماریوں کو سمجھنے اور مستقبل میں ممکنہ طبی طریقوں کی تحقیق کے نئے امکانات بھی پیدا کرتی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: کیمسٹری کا نوبیل انعام 2026 کن سائنسدانوں کو دیا گیا؟
کیمسٹری کا نوبیل انعام 2026 ہنری بی کاگان اور کینسو سوئی کو دیا گیا۔
سوال 2: ہنری کاگان اور کینسو سوئی کو نوبیل انعام کیوں دیا گیا؟
انہیں سالمات کی آئینہ دار شکلوں میں سے مخصوص شکل کے انتخاب اور اس عمل کو کیمیائی تعاملات کے ذریعے سمجھنے میں اہم کردار ادا کرنے پر نوبیل انعام دیا گیا۔
سوال 3: Chirality کیا ہے؟
Chirality کیمیائی سالمے کی ایسی خاصیت ہے جس میں اس کی دو شکلیں ایک دوسرے کی آئینہ دار ہوتی ہیں، جیسے انسانی دایاں اور بایاں ہاتھ۔
سوال 4: اس تحقیق کی کیا اہمیت ہے؟
یہ تحقیق کیمسٹری، حیاتیاتی نظام اور ادویات کی تیاری میں اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ایک ہی سالمے کی مختلف شکلیں انسانی جسم پر مختلف اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:44 AM
طلوع آفتاب06:06 AM
ظہر11:56 AM
عصر03:15 PM
مغرب05:45 PM
عشاء07:08 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6