اقتصادی گورننس اصلاحات کے لیے وزیراعظم کا بڑا اقدام، اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل

اقتصادی گورننس اصلاحات کے لیے قائم کمیٹی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اقتصادی گورننس اصلاحات کا آغاز، وزیر خزانہ کی سربراہی میں 15 رکنی اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے گورننس میں خامیوں کی نشاندہی کے بعد وفاقی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اقتصادی گورننس سسٹمز کو بہتر بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزیراعظم نے اس کمیٹی کی منظوری دی ہے جو اقتصادی گورننس اصلاحات کے مجموعی ایجنڈے کا اہم حصہ قرار دی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ کو 15 رکنی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ یہ کمیٹی سہ ماہی بنیادوں پر اپنی کارکردگی اور پیش رفت سے متعلق رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ کمیٹی کا بنیادی مقصد اقتصادی نظم و نسق کو مؤثر، شفاف اور جدید خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ پالیسی سازی اور عملدرآمد میں موجود کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔

کمیٹی میں وفاقی حکومت کے اہم اداروں اور ریگولیٹری باڈیز کے اعلیٰ حکام کو شامل کیا گیا ہے۔ سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون و انصاف اور سیکرٹری منصوبہ بندی کو کمیٹی کے کلیدی ارکان میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیکرٹری اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

اقتصادی اور قانونی اصلاحات کو مؤثر بنانے کے لیے سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ مالیاتی نظام اور مسابقتی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور چیئرمین کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) بھی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔

اسی طرح شفافیت اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے منیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA)، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس اور ایڈیشنل آڈیٹر جنرل کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ کمیٹی کے سیکرٹری کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ وفاقی وزارت خزانہ کمیٹی کو مکمل سیکرٹریل سپورٹ فراہم کرے گی۔

ذرائع کے مطابق اس کمیٹی کا قیام وزیراعظم کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف گورننس اور مؤثر فیصلہ سازی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کیا جانا مقصود ہے۔ کمیٹی مختلف اقتصادی گورننس سسٹمز کا جائزہ لے کر اصلاحاتی تجاویز مرتب کرے گی اور ان پر عملدرآمد کی نگرانی بھی کرے گی۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ نومبر 2025 میں جاری کی گئی تھی، جس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ پاکستان میں گورننس کے نظام میں بہتری لا کر نمایاں معاشی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اگر گورننس اصلاحات کے جامع پیکج پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا جائے تو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں پانچ سے ساڑھے چھ فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق نئی قائم کی گئی کمیٹی اگر مؤثر انداز میں کام کرتی ہے تو نہ صرف پالیسی سازی میں شفافیت آئے گی بلکہ سرمایہ کاری کے فروغ، مالی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری متوقع ہے، جو بالآخر ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گی

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]