فلائی دبئی کی دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز میں پائلٹس کا مبینہ جھگڑا، تبوک میں ہنگامی لینڈنگ، اسرائیلی وزیراعظم کا ہائی جیک کی خبروں کی تردید
ویب ڈیسک: دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں دورانِ پرواز کاک پٹ میں مبینہ طور پر پائلٹس کے درمیان جھگڑے کے بعد طیارے نے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی، واقعے میں کپتان اور فرسٹ آفیسر دونوں زخمی ہوگئے۔
تبوک ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے والی کمپنی کے مطابق فلائی دبئی کی پرواز بدھ کی صبح تقریباً 9 بج کر 45 منٹ پر تبوک ایئرپورٹ پر اتری، جہاں کپتان اور فرسٹ آفیسر زخمی حالت میں پائے گئے۔ دونوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ایئرپورٹ حکام کے مطابق ہنگامی لینڈنگ کے بعد دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کے مسافروں کو ضروری طبی اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پرواز کے دوران کاک پٹ میں ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے بعد طیارے نے اچانک بلندی کم کرنا شروع کردی۔ فلائٹ ڈیٹا کے مطابق طیارہ تقریباً 34 ہزار فٹ سے 17 ہزار فٹ کی بلندی تک نیچے آیا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صورتحال کے دوران ہنگامی اسکواک کوڈ 7700 اور بعد ازاں 7500 بھی فعال ہوا، جو بالترتیب عمومی ہنگامی صورتحال اور غیر قانونی مداخلت یا ہائی جیکنگ کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق کاک پٹ میں صورتحال بگڑنے پر دوسرے پائلٹ نے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی، جبکہ فضائی عملے اور بعض مسافروں نے بھی صورتحال پر قابو پانے میں مدد کی۔
بعد ازاں دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کا رخ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا اور اسے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی طور پر اتارا گیا، جہاں سعودی سیکیورٹی فورسز نے طیارے کو گھیرے میں لے لیا۔
مسافروں کو متبادل طیارے کے ذریعے تل ابیب پہنچا دیا گیا
تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کے بعد طیارے میں سوار مسافروں کے لیے متبادل انتظام کیا گیا اور انہیں ایک دوسرے طیارے کے ذریعے تل ابیب پہنچا دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز میں تقریباً 180 مسافر سوار تھے، جن میں بڑی تعداد اسرائیلی شہریوں کی تھی۔
اسرائیلی میڈیا نے واقعے کی تحقیقات کرنے والے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر شریک پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا، تاہم واقعے کی مکمل وجوہات اور محرکات کی باضابطہ تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان نے طیارے کے باقاعدہ ہائی جیک ہونے کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔
واقعے کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کے ڈیٹا اور بلیک باکس سمیت دیگر شواہد کی بنیاد پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں تاکہ دورانِ پرواز پیش آنے والی صورتحال کی اصل وجہ معلوم کی جاسکے۔
فلائی دبئی کی جانب سے بھی واقعے کو ایک غیر معمولی کاک پٹ انسیڈنٹ قرار دیتے ہوئے تحقیقات میں تعاون کی بات سامنے آئی ہے۔
FLIGHT TERROR
✈️ Passengers overcame co-pilot who tried to crash flydubai flight, Netanyahu says
Sep 30, 2026
On September 30, 2026, #FlyDubai Flight FZ1073 from #Dubai to Tel Aviv was diverted to Saudi Arabia after a suspected #jihadist terror attack in the cockpit. The… pic.twitter.com/qMLj7QaptN
— Sid (@Trending_Sid) September 30, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: فلائی دبئی کی پرواز نے تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کیوں کی؟
جواب: دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز FZ1073 میں دورانِ پرواز کاک پٹ میں ایک پرتشدد واقعہ پیش آیا، جس کے بعد طیارے نے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی۔
سوال 2: کیا فلائی دبئی پرواز کے دونوں پائلٹس زخمی ہوئے؟
جواب: تبوک ایئرپورٹ کے حکام کے مطابق کپتان اور فرسٹ آفیسر دونوں زخمی پائے گئے اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
سوال 3: فلائی دبئی کی پرواز کہاں سے کہاں جا رہی تھی؟
جواب: پرواز FZ1073 متحدہ عرب امارات کے دبئی ایئرپورٹ سے اسرائیل کے تل ابیب کے لیے روانہ ہوئی تھی۔
سوال 4: فلائی دبئی کی پرواز میں کتنے مسافر سوار تھے؟
جواب: مختلف رپورٹس کے مطابق پرواز میں 170 سے زائد مسافر سوار تھے، جن میں بڑی تعداد اسرائیلی مسافروں کی تھی۔




