بھارتی پنجاب اسمبلی نے کرتارپور راہداری فوری کھولنے کی متفقہ قرارداد منظور کر لی، وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی حمایت
کرتارپور راہداری کھولنے کے مطالبے پر بھارتی پنجاب اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد بھارتی پنجاب کے وزیر تعلیم ہرجوت سنگھ بینس نے پیش کی، جبکہ وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بھی اس کی بھرپور حمایت کی۔ کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق قرارداد میں راہداری کو فوری کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔
بھارتی ذرائع کے مطابق یہ قرارداد منگل کو چندی گڑھ میں اسمبلی کے اجلاس میں منظور ہوئی۔ اسی اجلاس میں مختلف موضوعات پر آٹھ قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔
قرارداد میں کیا مطالبات کیے گئے
قرارداد میں مرکزی حکومت سے کہا گیا کہ وہ کرتارپور راہداری دوبارہ کھولنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور زائرین کو بلا تعطل رسائی یقینی بنائے۔ قرارداد کے مطابق کرتارپور راہداری مذہبی ہم آہنگی اور مشترکہ ورثے کی علامت ہے۔ سکھ یاتریوں کی سہولت کے لیے راہداری کھولنے اور سفری ضوابط آسان بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ہرجوت سنگھ بینس نے ایوان میں کہا کہ یہ راہداری صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک سفارتی راستہ نہیں بلکہ لاکھوں سکھ سنگت کے لیے مذہبی آزادی اور انسانی تعلق کا معاملہ ہے۔ وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ آستھا کے معاملات کو تنگ سیاسی مفادات کی نذر نہیں ہونا چاہیے اور عقیدت مندوں کو بغیر رکاوٹ اپنی روحانی خواہشات پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
راہداری کیوں بند ہے اور آگے کیا ہوگا
کرتارپور راہداری بھارتی ضلع گرداسپور میں ڈیرہ بابا نانک کو پاکستان میں گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور سے ملاتی ہے، جو سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو جی کی آخری آرام گاہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت نے 2025 میں پہلگام حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان بڑھنے والی کشیدگی کے دوران اپنی جانب سے راہداری بند کر دی تھی۔ کے ایم ایس کے مطابق یہ بندش 7 مئی 2025 سے جاری ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے اس نئی قرارداد پر فوری ردِعمل نہیں ملا۔ بھارتی حکومت ماضی میں ایسے اقدامات کے لیے قومی سلامتی اور سرحدی صورتحال کو بنیاد بناتی رہی ہے، جبکہ پنجاب کی قیادت کا مؤقف ہے کہ مذہبی رسائی کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔ یاد رہے کہ بھگونت مان اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر مرکز سے راہداری کھولنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
کے ایم ایس کی رپورٹ میں بعض "سیاسی مبصرین” کی رائے بھی دی گئی ہے جس میں مرکزی حکومت پر سخت الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ مبصرین کی رائے ہے، تصدیق شدہ حقیقت نہیں، اس لیے اسے خبر کے حقائق کے ساتھ نہیں ملایا گیا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئی دہلی اس قرارداد پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہے اور کیا راہداری کے حوالے سے کسی سرکاری پیش رفت کا اعلان ہوتا ہے۔
Read more FAQs
سوال 1: قرارداد کس نے پیش کی؟
بھارتی پنجاب کے وزیر تعلیم ہرجوت سنگھ بینس نے۔
سوال 2: قرارداد میں کیا مطالبہ کیا گیا؟
مرکزی حکومت کرتارپور راہداری فوری کھولے، زائرین کو بلا تعطل رسائی دے اور سفری ضوابط آسان بنائے۔
سوال 3: وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کیا کہا؟
انہوں نے قرارداد کی حمایت کی اور کہا کہ مذہبی عقیدت کے معاملات کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔






