ژوب میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر حکومت سیاسی مسائل کا حل چاہتی ہے تو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اپوزیشن کی ملاقات کرانا ہوگی
محمود خان اچکزئی عمران خان ملاقات کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔
ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں اور بانی پی ٹی آئی جو بات کہیں گے، وہی آگے پہنچائی جائے گی۔
عمران خان سے ملاقات مذاکرات کی شرط قرار
محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں عمران خان سے ملاقات کو مذاکراتی عمل کے لیے بنیادی شرط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی بحران کا حل تلاش کرنا مقصود ہے تو متعلقہ سیاسی قیادت کے درمیان براہ راست رابطہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد مسائل کے حل تک مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق ملاقات کے بعد تمام مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ بات چیت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
اپوزیشن رہنما نے سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا کہ وہ آئین کی بالادستی کے اصول پر متفق ہوں۔ ان کے بقول ملک میں جاری سیاسی بحران کا حل مذاکرات اور آئین کی بالادستی میں موجود ہے۔
سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات پر زور
محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں مذاکرات کو سیاسی مسائل حل کرنے کا راستہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کو آئینی اصولوں اور سیاسی مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود آئین کی بالادستی پر اتفاق ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو موجودہ سیاسی صورتحال سے نکالنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ان کی جانب سے مذاکرات ختم نہ کرنے کی یقین دہانی موجود ہے، تاہم اس عمل کے لیے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی مخالفت
اپوزیشن لیڈر نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
محمود خان اچکزئی کے مطابق اگر صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گورنر راج کی صورت میں ملک کے مختلف شہروں اور چوراہوں کو احتجاج کے ذریعے بند کیا جائے گا۔ یہ بیان انہوں نے ژوب میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران دیا۔
شہباز حکومت سے متعلق مؤقف
محمود خان اچکزئی نے موجودہ وفاقی حکومت کے حوالے سے بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہباز حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔
اپوزیشن رہنما نے حکومت کے ساتھ مذاکرات اور اہم آئینی معاملات پر بات چیت کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اہم معاملات پر ملاقات کے لیے وزیراعظم یا اسپیکر کے دفتر جانے کے بجائے وہ متبادل مقام پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر بھی بات
محمود خان اچکزئی نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے معاملے پر بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس اہم آئینی معاملے پر وزیراعظم یا اسپیکر کے دفتر میں ملاقات نہیں ہوگی۔ تاہم ان کے مطابق وہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے مری میں واقع گھر میں بیٹھ کر اس معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اپوزیشن رہنما نے واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔
آئین کی بالادستی پر سیاسی جماعتوں کا اتفاق ضروری قرار
محمود خان اچکزئی نے سیاسی جماعتوں کے درمیان آئین کی بالادستی پر اتفاق کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق ملک میں سیاسی استحکام کے لیے آئینی اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی بحران کو طاقت یا محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ تمام سیاسی قوتیں آئین کی بالادستی کو بنیادی اصول تسلیم کریں تو ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مذاکرات کا اگلا مرحلہ عمران خان سے ملاقات سے مشروط
محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیان کا مرکزی نکتہ عمران خان سے ملاقات ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔
ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی جانب سے جو مؤقف سامنے آئے گا، اسے مذاکرات میں آگے رکھا جائے گا۔ انہوں نے مسائل کے حل تک مذاکرات جاری رکھنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
READ MORE FAQS
سوال: محمود خان اچکزئی نے مذاکرات کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
سوال: محمود خان اچکزئی کے مطابق عمران خان سے ملاقات کیوں ضروری ہے؟
جواب: ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات کے بعد بانی پی ٹی آئی کا مؤقف معلوم کرکے اسے مذاکرات میں آگے بڑھایا جائے گا۔
سوال: محمود خان اچکزئی نے مذاکرات ختم کرنے کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد مسائل کے حل تک مذاکرات کا سلسلہ ختم نہیں کیا جائے گا۔
سوال: محمود خان اچکزئی نے سیاسی بحران کا حل کیا قرار دیا؟
جواب: ان کے مطابق سیاسی بحران کا حل مذاکرات اور آئین کی بالادستی میں ہے۔






