مولانا فضل الرحمان کا ملک کی اندرونی صورتحال پر اظہارِ تشویش، احتجاج کے حق کا مطالبہ
مولانا فضل الرحمان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک کی اندرونی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کے مطابق ملک میں بدامنی بڑھ رہی ہے، عوام مہنگائی سے پریشان ہیں اور شہریوں کو احتجاج کا آئینی حق بھی نہیں دیا جا رہا۔
پریس کانفرنس میں کیا کہا گیا؟
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ جے یو آئی کا اجلاس پشاور میں ہوا، جس میں ملک کی اندرونی صورتحال اور خطے کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ ان کے مطابق اسی مشاورت کی روشنی میں جماعت کا مؤقف طے کیا گیا، جسے انہوں نے پریس کانفرنس میں پیش کیا۔
امن و امان پر تشویش
مولانا فضل الرحمان نے تینوں صوبوں کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
- سندھ میں ڈاکوؤں کا راج ہے۔
- بلوچستان میں دن دہاڑے بینک لوٹے جا رہے ہیں۔
- خیبرپختونخوا میں وزیروں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا۔ یہ تمام باتیں سربراہ جے یو آئی کا مؤقف ہیں۔
اجلاس کراچی سے پشاور کیوں منتقل ہوا؟
بدامنی کی سنگینی بتانے کے لیے انہوں نے کہا کہ جماعت کا اجلاس پہلے کراچی میں ہونا طے تھا۔ بلوچستان سے آنے والے اراکین کی مجبوری کے باعث اسے پشاور منتقل کرنا پڑا۔
طاقتور اداروں پر تنقید
مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ملک میں طاقتور ادارے حکومت کر رہے ہیں اور وہ کسی قانون، آئین یا اخلاقی ضابطے کے پابند دکھائی نہیں دیتے۔ ان کے مطابق حکمران عوام کی بات سننے اور ان کے مسائل کا ادراک کرنے کے لیے تیار نہیں، اور طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جا رہا ہے۔
قرضے اور مہنگائی
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت سے قرضوں کی شکایت کی جاتی تھی، مگر آج ملک پر قرضوں کا دباؤ کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عوام مشکلات کا شکار ہیں۔
اسلام آباد کنٹینروں سے بھر گیا
پریس کانفرنس کا مرکزی نکتہ احتجاج کا حق رہا۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق لوگوں کو احتجاج کا حق نہیں دیا جا رہا، اور جب بعض جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا تو پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا۔
سینیٹر شکور خان کا معاملہ
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سینیٹر شکور خان کو ایئرپورٹ پر چین جانے سے روک دیا گیا۔ اس معاملے پر متعلقہ حکام کا مؤقف تاحال اس خبر میں شامل نہیں۔
"لوگوں کو باغی بنایا جا رہا ہے”
سربراہ جے یو آئی نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے لوگوں کو خود باغی بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان، آئین و قانون کی بالادستی اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
پس منظر: احتجاج اور آئینی حق
(یہ حصہ عمومی پس منظر ہے، مولانا فضل الرحمان کے بیان کا حصہ نہیں۔)
پاکستان کے آئین میں شہریوں کو پرامن اجتماع کا حق دیا گیا ہے، تاہم یہ حق قانون کے مطابق معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔ حکومتیں عموماً امن و امان اور عوامی سہولت کے پیش نظر پابندیوں کا جواز پیش کرتی ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں ان اقدامات کو اپنے آئینی حق میں رکاوٹ قرار دیتی ہیں۔ یہی بحث اکثر سیاسی ماحول کا حصہ بنتی رہی ہے۔
READ MORE FAQS
1. مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کہاں کی؟
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں۔
2. مولانا فضل الرحمان نے کن مسائل پر تشویش ظاہر کی؟
بدامنی، مہنگائی، قرضوں کے دباؤ اور احتجاج کے حق پر پابندی پر۔
3. جے یو آئی کا اجلاس کہاں ہوا اور کیوں؟
اجلاس پشاور میں ہوا۔ مولانا کے مطابق یہ پہلے کراچی میں طے تھا، مگر بلوچستان سے آنے والے اراکین کی مجبوری کے باعث منتقل کرنا پڑا۔
4. اسلام آباد کے کنٹینروں سے متعلق انہوں نے کیا کہا؟
ان کے مطابق بعض جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا تو پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا۔








