مولانا فضل الرحمان کی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے مہلت کی اپیل

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

مولانا فضل الرحمان نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے اگلے اقدامات مؤخر کرنے کی درخواست کر دی

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے جاری دھرنے اور مطالبات کے تناظر میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اہم پیغام جاری کرتے ہوئے کمیٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ فی الحال کسی بھی نئے یا سخت اقدام سے گریز کرے اور مذاکراتی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے چند روز کی مہلت دے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ راولاکوٹ اور اس کے گردونواح میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ ایک ماہ سے دھرنا دیے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہی ہے اور حکومت سے ان مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاجی صورتحال کے دوران بعض ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے، جن کی وجہ سے ماحول میں کشیدگی اور تلخی پیدا ہوئی۔ ایسے حالات میں تمام فریقین کو تحمل، بردباری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ صورتحال مزید پیچیدہ نہ ہو۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور دھرنے کا معاملہ پارلیمان میں بھی زیر بحث آیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کی جانب سے انہیں ثالثی اور مصالحتی کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی، جس پر انہوں نے اعتماد کرنے پر کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا سعید یوسف خان مسلسل ان سے رابطے میں رہے ہیں جبکہ راولاکوٹ کی قبائلی اور سماجی شخصیت کامران اعظم خان بھی صورتحال سے متعلق مشاورت کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ حکومت اور احتجاجی قیادت دونوں سے رابطے میں ہیں اور اسی وجہ سے اب تک کسی نئے اقدام یا اعلان سے گریز کیا گیا ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔

مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا کہ ان کی حالیہ گفتگو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے بھی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو اس وقت مظفرآباد میں موجود ہیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف حلقوں سے رابطے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے اپنی کوششوں اور حکومتی رابطوں سے متعلق آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کسی تصادم یا خون خرابے کی طرف نہ بڑھے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ وہ مسئلے کے پرامن حل کے لیے سرگرم ہیں اور انہیں مزید کچھ وقت درکار ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ اگر تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں تو مثبت پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات، سیاسی رابطوں اور افہام و تفہیم کے ذریعے ایسا حل تلاش کیا جا سکتا ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

مولانا فضل الرحمان نے ایک مرتبہ پھر عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ فی الحال کوئی نیا قدم نہ اٹھائے اور مذاکراتی کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے چند روز کی مہلت دے۔ ان کے مطابق اگر بات چیت کے ذریعے پیش رفت ہوتی ہے تو اس کا فائدہ نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورے پاکستان کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کشمیری عوام اور پاکستانی عوام کے درمیان اعتماد، ہم آہنگی اور یکجہتی کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں، حکومتی نمائندے اور سماجی حلقے کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تمام فریق مذاکرات کے عمل کو موقع دیتے ہیں تو موجودہ بحران کے حل کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی قیادت مسلسل صبر، برداشت اور بات چیت پر زور دے رہی ہے۔

READ MORE FAQS
  1. مولانا فضل الرحمان نے کیا اپیل کی؟

انہوں نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے چند روز کی مہلت دینے اور کسی نئے اقدام سے گریز کرنے کی اپیل کی۔

  1. دھرنا کہاں جاری ہے؟

راولاکوٹ اور اس کے گردونواح میں دھرنا جاری ہے۔

  1. مولانا فضل الرحمان کس کردار میں شامل ہیں؟

وہ ثالثی اور مذاکراتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  1. بلاول بھٹو کا اس معاملے پر کیا مؤقف ہے؟

مولانا فضل الرحمان کے مطابق بلاول بھٹو مسئلے کے پرامن حل اور خون خرابہ روکنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں