محسن نقوی کا مولانا فضل الرحمان کو جواب، ریاست مخالف بیان پر احترام ختم ہونے کا اعلان
اسلام آباد (29 اکتوبر 2026ء): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلے ان کا بہت احترام کرتے تھے، تاہم ریاست کے بارے میں مولانا کے مبینہ بیان کے بعد ان کے دل میں احترام کی گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو جواب سننے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے ان کے خلاف تنقید کی جا رہی تھی اور ان کے ایران کے دورے کو دفاعی معاہدے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ ان کے بقول یہ دورہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں بلکہ خطے میں جاری بحران کے سلسلے میں تھا۔
وزیر داخلہ کے مطابق انہیں وزیراعظم نے خصوصی ذمہ داری سونپی تھی اور وہ اسی ہدایت پر ایران گئے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے دورے کا مقصد دفاعی معاہدہ کرنا نہیں تھا۔
محسن نقوی نے سینیٹ میں کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما گزشتہ کئی روز سے ان پر تنقید کر رہے تھے۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے ریاست کے حوالے سے دیے گئے بیان نے ان کے سابقہ احترام کو متاثر کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمان کی عزت کرتے تھے، لیکن ریاست کے بارے میں ان کے مبینہ الفاظ کے بعد ان کے لیے احترام کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کے ساتھ تعلق کو ذاتی یا سیاسی فائدے سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا الزام تھا کہ بعض سیاسی حلقے اس وقت تک ریاست کو درست سمجھتے ہیں جب تک انہیں حکومت میں حصہ، مالی فائدہ یا دیگر مراعات حاصل ہوتی رہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ اگر کوئی ان پر تنقید کرے گا تو وہ اس کا جواب دیں گے، تاہم ان کے بیان پر اپوزیشن کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا۔
وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں ایران کے دورے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ خطے میں جاری بحران کے تناظر میں کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے انہیں خصوصی ٹاسک دیا تھا، اس لیے وہ ایران گئے۔ ان کے مطابق دورے کو دفاعی معاہدے سے جوڑنا درست نہیں۔
محسن نقوی نے وزیر دفاع سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دفاعی معاملات پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی، اسی لیے وزیر دفاع کو اس حوالے سے معلومات نہیں تھیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کے دورے کو غلط تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد موجودہ علاقائی صورت حال کے حوالے سے معاملات پر بات چیت کرنا تھا۔
محسن نقوی نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ماضی میں بعض حلقوں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے حوالے سے رابطے کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ معاملات پر بیرسٹر علی ظفر سے بھی پوچھا جا سکتا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق اب ریاستی وسائل، سرکاری ملازمتوں اور سیاسی ٹکٹوں کے حوالے سے مراعات کو تنقید کے ساتھ مشروط نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے اس بیان پر اپوزیشن کی جانب سے ردعمل سامنے آیا اور خطاب کے دوران ایوان میں شور شرابا بھی ہوا۔
محسن نقوی کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا۔ جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے ارکان اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے وزیر داخلہ کے الفاظ پر اعتراضات اٹھائے گئے۔
رکن سینیٹ کامران مرتضیٰ نے محسن نقوی کے استعمال کردہ الفاظ پر اعتراض کیا، جس کے بعد ایوان میں بحث مزید تیز ہوگئی۔
وزیر داخلہ نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو تنقید کے ساتھ جواب سننے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے دورے، علاقائی سفارت کاری اور ریاستی اداروں سے متعلق سیاسی بیانات پر مختلف سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں محسن نقوی نے بلیو پاسپورٹ، گرین پاسپورٹ کی درجہ بندی اور مختلف ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ سے متعلق حتمی فیصلہ ایوان نے کرنا ہے۔ ان کے مطابق اگلے چھ ماہ میں پاکستانی گرین پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلیو پاسپورٹ کے حوالے سے کینیا، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی سمیت مختلف ممالک کے ساتھ معاہدوں پر بات چیت جاری ہے۔
محسن نقوی کے مطابق حکومت اگلے چھ ماہ کے دوران تقریباً 25 ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری سے متعلق معاملات حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ویزا فری انٹری کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ قطر کے ساتھ بھی اس سلسلے میں جلد پیش رفت متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ کی تعداد تقریباً 70 ہزار ہے اور بعض ممالک اس تعداد کو معاہدوں کے حوالے سے اہم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ ممالک کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ بلیو پاسپورٹ کی تعداد 25 سے 30 ہزار سے تجاوز کرنے پر معاہدے متاثر ہو سکتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کو ہر ملک میں ویزا فری انٹری کی سہولت نہیں مل سکتی، کیونکہ متعلقہ ممالک معاہدے کرتے وقت پاسپورٹ رکھنے والوں کی تعداد سمیت مختلف امور کا جائزہ لیتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 22 ہزار بلیو پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

محسن نقوی کے مطابق بلیو پاسپورٹ کے اجرا پر فی الحال پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ موجودہ ارکان قومی اسمبلی کو ان کی مدتِ رکنیت کے مطابق بلیو پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کے نظام میں بے ضابطگیوں کو ختم کرنے کے لیے ای پاسپورٹ کی طرف بھی پیش رفت کی جا رہی ہے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت پاسپورٹ کے اجرا کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی معاہدوں کے لیے متعلقہ ضوابط کی پابندی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
محسن نقوی نے گرین پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں بہتری کو بھی حکومت کا اہم ہدف قرار دیا۔ ان کے مطابق اگلے چھ ماہ کے دوران اس سلسلے میں پیش رفت کی توقع ہے۔
تاہم مختلف ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری کے معاہدوں، بلیو پاسپورٹ سے متعلق پالیسی اور گرین پاسپورٹ کی درجہ بندی میں بہتری کے حوالے سے حتمی نتائج متعلقہ ممالک کے فیصلوں اور سرکاری اقدامات پر منحصر ہوں گے۔
محسن نقوی کے دونوں اجلاسوں میں دیے گئے بیانات میں ایک طرف سیاسی اختلافات اور ریاستی معاملات پر سخت مؤقف سامنے آیا، جبکہ دوسری جانب پاسپورٹ پالیسی اور پاکستانی شہریوں کے لیے سفری سہولتوں میں اضافے سے متعلق حکومتی اہداف بیان کیے گئے۔
یہ (مولانا فضل الرحمان) گورنر راج سے پہلے کہتے تھے گورنر راج لگائیں ہماری اِن سے جان چھڑائیں،یہ بات ثابت کر سکتا ہوں، محسن نقوی کا دعویٰ، اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس اور سینیٹر علی ظفر کی آپس میں گفتگو https://t.co/AtmTjKtU0L
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) October 29, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: فراہم کردہ خبر کے مطابق محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان کے ریاست سے متعلق مبینہ بیان پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ اس بیان کے بعد ان کے دل میں سابقہ احترام باقی نہیں رہا۔
سوال 2: محسن نقوی نے ایران کے دورے کے بارے میں کیا وضاحت دی؟
جواب: وزیر داخلہ کے مطابق وہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر علاقائی بحران کے سلسلے میں ایران گئے تھے، نہ کہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے۔
سوال 3: بلیو پاسپورٹ کے بارے میں محسن نقوی نے کیا بتایا؟
جواب: فراہم کردہ خبر کے مطابق انہوں نے بلیو پاسپورٹ کی تعداد، اجرا پر پابندی، پاسپورٹس کی منسوخی اور ای پاسپورٹ کی طرف پیش رفت سے متعلق بات کی۔
سوال 4: کتنے ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری پر پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا؟
جواب: محسن نقوی کے بیان کے مطابق حکومت اگلے چھ ماہ میں تقریباً 25 ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری سے متعلق معاملات حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حتمی سہولتوں کا انحصار متعلقہ ممالک کے معاہدوں اور شرائط پر ہوگا۔



