میونخ ایئرپورٹ ویتنام ایئرلائنز کا پر بوئنگ طیارہ رن وے سے اتر گیا، مسافروں پر خوف طاری
میونخ: جرمنی کے میونخ ایئرپورٹ پر ویتنام ایئرلائنز کا بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر ٹیک آف کے دوران رن وے سے باہر نکل کر گھاس کے حصے میں جا پہنچا، تاہم طیارہ بعد ازاں فضا میں بلند ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس میں سوار تمام 271 مسافر اور 16 عملے کے ارکان محفوظ رہے۔
یہ واقعہ 15 اگست کو پیش آیا، جس کے بعد ویتنام ایئرلائنز کا پر بوئنگ طیارہ میں موجود مسافروں پر شدید خوف طاری ہوگیا۔ خوش قسمتی سے حادثے میں کسی مسافر یا عملے کے رکن کو جسمانی نقصان نہیں پہنچا، تاہم کئی افراد نے اس تجربے کو انتہائی خوفناک قرار دیا۔
مسافر نے خوفناک لمحات بیان کردیے
حادثے کے بعد ایک مسافر نے جرمن اخبار کو بتایا کہ جہاز میں موجود افراد کو ایک موقع پر ایسا محسوس ہوا جیسے ان کی زندگی کا آخری وقت آ پہنچا ہو۔
مسافر کے مطابق ہنگامی لینڈنگ سے قبل مسافروں کو جوتے اتارنے اور Brace Position اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس پوزیشن میں مسافروں کو جسم آگے کی جانب جھکا کر اپنے بازو سر کے اوپر رکھنے ہوتے ہیں تاکہ ممکنہ سخت لینڈنگ کی صورت میں چوٹ کے خطرے کو کم کیا جاسکے۔

خاتون مسافر نے ویتنام ایئرلائنز کا پر بوئنگ طیارہ کے اندر کی صورتحال کو انتہائی خوفناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ٹیک آف کے دوران جہاز نے رن وے کے ساتھ موجود گھاس کے حصے پر جاتے ہوئے گرد و غبار کا بادل پیدا کردیا تھا۔
تقریباً دو گھنٹے فضا میں رہا طیارہ
رپورٹ کے مطابق ویتنام ایئرلائنز کا پر بوئنگ طیارہ زمین سے بلند ہونے کے بعد تقریباً دو گھنٹے تک بالائی باویریا کے علاقے میں چکر لگاتا رہا۔ اس دوران طیارے نے ایندھن کم کیا تاکہ ہنگامی صورتحال میں نسبتاً محفوظ طریقے سے لینڈنگ کی جاسکے۔
کچھ مسافروں نے ویتنام ایئرلائنز کا پر بوئنگ طیارہ کے اندر پیش آنے والے خوفناک لمحات کو اپنے موبائل فونز میں بھی ریکارڈ کیا۔
بعد ازاں ویتنام ایئرلائنز کا پر بوئنگ طیارہ نے میونخ ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی، جہاں لینڈنگ کے دوران اس کے ٹائر پھٹ گئے اور ملبہ رن وے کے اطراف بکھر گیا۔
لینڈنگ کے بعد پہیوں سے دھواں اٹھتا رہا
ہنگامی لینڈنگ کے بعد طیارے کے بائیں جانب موجود لینڈنگ گیئر سے موٹا دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ بعد ازاں بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر کو ٹریکٹر کی مدد سے ایک ہینگر تک منتقل کیا گیا۔
جس رن وے سے طیارے نے ٹیک آف کیا تھا اسے بھی عارضی طور پر بند کردیا گیا، کیونکہ رن وے کے کنارے کا ایک حصہ متاثر ہوا تھا اور اسے مرمت کی ضرورت پیش آئی۔
تحقیقات کے دوران رن وے پر موجود لینڈنگ گیئر کے نشانات سے بھی یہ ظاہر ہوا کہ طیارہ اس وقت فضا میں بلند ہوا جب وہ رن وے کی پختہ سطح سے آگے نکل کر گھاس کے حصے تک پہنچ چکا تھا۔
دیگر پروازیں بھی متاثر
رن وے اور اس کے اطراف کو معمول کی حالت میں واپس لانے کا کام رات گئے تک جاری رہا، جس کے باعث میونخ ایئرپورٹ سے آنے اور جانے والی متعدد دیگر پروازوں کو بھی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
حکام اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ طیارے کو ٹیک آف کے لیے تقریباً چار کلومیٹر طویل رن وے کا تقریباً پورا حصہ کیوں استعمال کرنا پڑا۔

حادثے کی تحقیقات شروع
واقعے کی تحقیقات جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے فضائی حادثات کی تحقیقات کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ طیارہ معمول کے مطابق رن وے سے بروقت بلند کیوں نہیں ہوسکا۔
ایک سابق ویتنام ایئرلائنز پائلٹ نے جرمن میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ممکنہ وجہ کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق ابتدائی انجن تھرسٹ کا حساب لگانے میں غلطی ہوسکتی ہے۔
سابق پائلٹ کے نظریے کے مطابق ممکن ہے کہ عملے نے ویتنام ایئرلائنز کا پر بوئنگ طیارہ کا وزن سسٹم میں غلط درج کیا ہو، جس کے نتیجے میں جہاز کے کمپیوٹر نے طیارے کو اصل وزن سے ہلکا تصور کیا اور ٹیک آف کے لیے مطلوبہ طاقت سے کم انجن تھرسٹ مقرر کیا ہو۔
تاہم حکام کی تحقیقات مکمل ہونے تک حادثے کی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکتی۔
بڑے حادثے سے بال بال بچ گئے
واقعے نے اس لیے بھی تشویش پیدا کی کہ اگر ویتنام ایئرلائنز کا پر بوئنگ طیارہ رن وے سے نکلنے کے بعد فضا میں بلند ہونے میں ناکام رہتا تو اس کے انتہائی سنگین نتائج سامنے آسکتے تھے۔
271 مسافروں اور 16 عملے کے ارکان پر مشتمل طیارہ خوش قسمتی سے اڑان بھرنے میں کامیاب ہوگیا اور بعد میں بحفاظت ہنگامی لینڈنگ بھی کرلی۔
واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم مسافروں کے لیے ٹیک آف سے لے کر ہنگامی لینڈنگ تک کے تقریباً دو گھنٹے انتہائی خوف اور بے یقینی میں گزرے۔
Vietnam Airlines 787 Münih’te pist sonunu aştı
Hanoi seferini yapmak üzere havalanan Boeing 787, kalkışta kuyruğunu piste vurdu. Yaklaşık 90 dakika havada kalan uçak, hasarlı lastiklerle Münih’e geri döndü.
Uçak pistte kalırken kuzey pisti trafiğe kapatıldı. pic.twitter.com/u4Y2SzjF2O
— Haber Aero (@HaberAero) August 16, 2026
READ MORE FAQS”
میونخ ایئرپورٹ پر بوئنگ طیارے کے ساتھ کیا ہوا؟
ویتنام ایئرلائنز کا بوئنگ 787-9 ٹیک آف کے دوران رن وے سے باہر گھاس کے حصے میں چلا گیا، تاہم بعد میں فضا میں بلند ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
طیارے میں کتنے افراد سوار تھے؟
طیارے میں 271 مسافر اور 16 عملے کے ارکان سمیت مجموعی طور پر 287 افراد سوار تھے۔
کیا واقعے میں کوئی جانی نقصان ہوا؟
رپورٹ کے مطابق تمام مسافر اور عملے کے ارکان جسمانی طور پر محفوظ رہے، تاہم واقعے سے کئی مسافر شدید خوفزدہ ہوگئے۔
طیارہ رن وے سے باہر کیوں نکلا؟
واقعے کی حتمی وجہ ابھی سامنے نہیں آئی۔ جرمن حکام تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ ایک سابق پائلٹ نے ٹیک آف تھرسٹ کے حساب میں ممکنہ غلطی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔






