مریخ پر طلوعِ آفتاب کا حیران کن منظر، ناسا کی کیوریوسٹی روور نے نایاب تصویر کھینچ لی
واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی کیوریوسٹی روور نے مریخ پر طلوعِ آفتاب کے بعد ایک حیران کن منظر اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیا، جس میں سرخ سیارے کی سطح پر سورج کی ابتدائی روشنی اور اربوں سال سے ہوا کے کٹاؤ سے بننے والی چٹانی پہاڑیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔
ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں مریخ کی سطح پر دور تک پھیلی ہوئی ناہموار چٹانیں اور پہاڑی سلسلے دکھائی دیتے ہیں، جن پر طلوع ہوتے سورج کی روشنی پڑ رہی ہے۔ یہ تصویر کیوریوسٹی روور کے Mastcam کیمرے سے اس وقت لی گئی جب مریخ پر سورج طلوع ہوئے تقریباً ایک گھنٹہ گزر چکا تھا۔
کیوریوسٹی ایک خودکار، چھ پہیوں والی روبوٹک خلائی گاڑی ہے جسے ناسا نے مریخ کی سطح پر سائنسی تحقیق کے لیے بھیجا ہے۔ یہ اگست 2012 میں مریخ کے Gale Crater میں اتری تھی اور 2014 سے ماؤنٹ شارپ کے علاقے میں مسلسل تحقیق کر رہی ہے۔ کیوریوسٹی مریخ کی مٹی، چٹانوں اور ماحول کا مطالعہ کرنے کے ساتھ یہ جاننے کی کوشش بھی کر رہی ہے کہ ماضی میں مریخ پر پانی اور زندگی کے لیے سازگار حالات موجود تھے یا نہیں۔
یہ تصویر نہ صرف مریخ کے خوبصورت منظر کی عکاسی کرتی ہے بلکہ سیارے کی اربوں سال پرانی ارضیاتی تاریخ کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔
کیوریوسٹی روور نے مریخ پر طلوعِ آفتاب کی تصویر کہاں سے لی؟
ناسا کی کیوریوسٹی روور 2012 میں مریخ کے Gale Crater میں اتری تھی۔ یہ مقام مریخ کے خطِ استوا کے قریب واقع ہے۔

2014 سے کیوریوسٹی روور گیل کریٹر کے اندر موجود Mount Sharp نامی پہاڑ پر چڑھائی اور تحقیق کر رہی ہے۔ یہ پہاڑ تقریباً 5 کلومیٹر بلند ہے اور اس کی مختلف چٹانی تہیں مریخ کے ماضی کے ماحول اور موسمی حالات کے بارے میں شواہد فراہم کرتی ہیں۔
چھ پہیوں والی یہ گاڑی اب تک مریخ کی سطح پر طویل فاصلہ طے کرچکی ہے اور مسلسل سیارے کی چٹانوں، مٹی اور قدیم ماحولیاتی حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مریخ پر طلوعِ آفتاب کی تصویر میں نظر آنے والی عجیب و غریب چٹانیں کیا ہیں؟
ناسا کی جانب سے جاری کردہ مریخ پر طلوعِ آفتاب کی تصویر میں دور نظر آنے والی روشن اور ناہموار چٹانیں سائنسدانوں کے لیے خاص دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہیں Yardang layer کہا جاتا ہے۔
سیاروی سائنس دان اور ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے وابستہ کیوریوسٹی پروجیکٹ سائنس دان ایشون واساواڈا کے مطابق یہ چٹانی تہہ ماؤنٹ شارپ کی ان تہوں سے ظاہری طور پر مختلف ہے جن کے درمیان سے کیوریوسٹی اب تک سفر کرتی رہی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ تہہ ممکنہ طور پر کبھی ہوا کے ذریعے لائے گئے ذرات سے بنی تھی۔ ان ذرات میں ریت یا ممکنہ طور پر قریبی آتش فشانی سرگرمی سے اڑ کر آنے والی راکھ شامل ہوسکتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ تلچھٹ سخت ہوکر چٹان میں تبدیل ہوگئی اور پھر مریخ کی تیز ہواؤں نے اربوں سال تک اسے تراش کر موجودہ شکل دے دی۔
اربوں سال پہلے مریخ کی ہواؤں نے چٹانوں کو تراشا
سائنسدانوں کے مطابق Yardang layer تقریباً 3 ارب سال پہلے تشکیل پائی ہوگی۔
اس عرصے کے دوران مریخ کی سطح پر چلنے والی ہواؤں نے چٹانوں کو مسلسل متاثر کیا۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والے اس عمل نے چٹانوں کو کاٹ کر لمبی اور ناہموار دھاریوں کی شکل دے دی، جنہیں Yardangs کہا جاتا ہے۔ یہ عمل زمین پر بھی دیکھا جاسکتا ہے، تاہم مریخ کی انتہائی قدیم سطح پر موجود ایسی ساختیں سائنسدانوں کو سیارے کے ماضی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہیں۔
یہ چٹانی تہہ ماؤنٹ شارپ کے شمال مغربی حصے میں تقریباً 16 کلومیٹر کے علاقے تک پھیلی ہوئی ہے۔

Mount Sharp کی تہوں میں ایک ’وقفہ‘
Yardang layer کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ ماؤنٹ شارپ کی باقی تہوں کے ساتھ مکمل طور پر مسلسل دکھائی نہیں دیتی۔
ایشون واساواڈا کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تہہ ماؤنٹ شارپ کی تہوں کے روایتی سلسلے کا براہ راست حصہ نہیں ہے بلکہ اسے بعد کے مرحلے میں شامل کیا گیا۔
سائنسدان اسے ارضیاتی اصطلاح میں unconformity سے جوڑتے ہیں۔ اس سے مراد چٹانوں کی تہوں کے درمیان ایسا زمانی وقفہ ہے جس دوران پرانی تہیں کٹاؤ کا شکار ہوئیں اور بعد میں نئی تہیں ان کے اوپر جمع ہوئیں۔
اس طرح Yardang layer مریخ کی سطح پر ہونے والے قدیم ارضیاتی عمل کی ایک اہم کڑی ہوسکتی ہے۔
کیوریوسٹی کب Yardang layer تک پہنچے گی؟
ناسا کو امید ہے کہ کیوریوسٹی روور 2027 یا 2028 کے دوران Yardang layer تک پہنچ سکتی ہے۔
اگر روور وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کے سائنسی آلات کے ذریعے چٹانوں کی ساخت، کیمیائی ترکیب اور ارضیاتی تاریخ کا مزید تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
سائنسدانوں کے لیے یہ تحقیق اس لیے اہم ہے کیونکہ Yardang layer کی براہ راست جانچ سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مریخ پر اربوں سال قبل ماحول کس نوعیت کا تھا اور وہاں سطحی تبدیلیاں کس طرح رونما ہوتی رہیں۔
مریخ پر زندگی کی تلاش بھی جاری

کیوریوسٹی روور کا مشن صرف خوبصورت تصاویر حاصل کرنا نہیں بلکہ مریخ کے ماضی کو سمجھنا بھی ہے۔
روور مریخ کی ارضیات، آب و ہوا اور قدیم پانی کے شواہد کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ خاص طور پر Gale Crater میں موجود ایسے شواہد تلاش کیے جارہے ہیں جن سے معلوم ہوسکے کہ ماضی میں مریخ پر جھیلیں، ندیاں یا دیگر پانی کے ذخائر موجود تھے یا نہیں۔
سائنسدانوں کی بنیادی دلچسپی یہ جاننے میں بھی ہے کہ آیا مریخ پر کبھی ایسے حالات پیدا ہوئے تھے جو خوردبینی زندگی (microbial life) کے لیے موزوں ہوسکتے تھے۔ کیوریوسٹی نے اب تک مریخ کی قدیم سطح اور پانی سے متعلق متعدد اہم شواہد جمع کیے ہیں، تاہم مریخ پر ماضی کی زندگی کے وجود کا حتمی ثبوت اب تک سامنے نہیں آیا۔
مریخ پر طلوعِ آفتاب کی ایک تصویر، اربوں سال کی کہانی
ناسا کی جانب سے جاری کی گئی مریخ پر طلوعِ آفتاب کی یہ تصویر بظاہر مریخ کے ایک خوبصورت منظر کی عکاسی کرتی ہے، لیکن اس کے پیچھے اربوں سال پرانی ارضیاتی تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ دور نظر آنے والی Yardang چٹانیں مریخ کی سطح پر ہوا کے طویل المدت اثرات، قدیم تلچھٹ اور ممکنہ آتش فشانی سرگرمی کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتی ہیں۔
اب سائنسدانوں کی نظریں کیوریوسٹی روور کے آئندہ سفر پر ہیں۔ اگر روور 2027 یا 2028 میں Yardang layer تک پہنچتی ہے تو مریخ کے اس پراسرار علاقے کی براہ راست تحقیق سرخ سیارے کی قدیم تاریخ اور ممکنہ طور پر اس کے ماضی کے ماحول کو سمجھنے میں ایک اور اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے۔
📍Gale Crater, Aug. 11, 2026, 8:30 a.m. local Mars time.
The Curiosity rover captures the Sun rising on crags known as yardangs, a scene that scientists have long been waiting to see up close. 1/2 https://t.co/NJQH9yNEYR
— NASA Mars (@NASAMars) October 6, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: ناسا کی کیوریوسٹی روور نے مریخ پر طلوعِ آفتاب کی تصویر کہاں کھینچی؟
جواب: مریخ پر طلوعِ آفتاب کی تصویر مریخ کے گیل کریٹر میں ماؤنٹ شارپ کے علاقے میں کیوریوسٹی روور نے کھینچی۔
سوال 2: مریخ کی یارڈانگ تہہ کیا ہے؟
جواب: یارڈانگ تہہ ایک ایسی چٹانی سطح ہے جسے طویل عرصے تک چلنے والی مریخی ہواؤں نے تراش کر موجودہ شکل دی ہے۔
سوال 3: یارڈانگ تہہ کتنی پرانی سمجھی جاتی ہے؟
جواب: سائنسدانوں کے مطابق یہ تہہ تقریباً 3 ارب سال پرانی ہو سکتی ہے۔
سوال 4: کیوریوسٹی روور یارڈانگ تہہ تک کب پہنچ سکتی ہے؟
جواب: ناسا کے مطابق کیوریوسٹی روور کے 2027 یا 2028 میں اس علاقے تک پہنچنے کی امید ہے۔





