نواز شریف جنیوا روانہ، لندن میں میڈیکل ٹیسٹ اور سیاسی ملاقاتیں متوقع

نواز شریف جنیوا روانگی سے قبل
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نواز شریف جنیوا روانہ ہونے کے بعد ایک بار پھر سیاسی اور عوامی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف بیرون ملک دورے کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا روانہ ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف جنیوا میں چار روز قیام کریں گے جہاں وہ مختلف مصروفیات میں حصہ لیں گے۔ اس کے بعد وہ لندن روانہ ہوں گے جہاں ان کا تقریباً ایک ہفتے تک قیام متوقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق لندن میں نواز شریف کے طبی معائنے اور مختلف میڈیکل ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم اپنی صحت کے حوالے سے ڈاکٹروں سے مشاورت بھی کریں گے تاکہ آئندہ علاج اور طبی نگرانی سے متعلق امور کا جائزہ لیا جا سکے۔

سیاسی ذرائع کے مطابق لندن میں قیام کے دوران نواز شریف کی مختلف سیاسی شخصیات اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ اگرچہ ملاقاتوں کا باضابطہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم سیاسی حلقے اس دورے کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

نواز شریف کی روانگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں سیاسی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں اور مختلف جماعتیں آئندہ سیاسی حکمت عملی پر غور کر رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بیرون ملک قیام کے دوران ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی سیاسی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ روانگی سے قبل نواز شریف نے گلگت بلتستان کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں وہ متعدد بار گلگت اور اسکردو کا دورہ کر چکے ہیں اور علاقے کی ترقی ان کی ترجیحات میں شامل رہی ہے۔

اپنے خطاب میں نواز شریف نے گلگت کی سڑکوں کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقے میں بہتر انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبے دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے مانسہرہ سے گلگت تک سڑک کی تعمیر کے منصوبے کا بھی ذکر کیا اور سوال اٹھایا کہ یہ منصوبہ مکمل کیوں نہ ہو سکا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت پر تنقید نہیں کرنا چاہتے، تاہم عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ بعض اہم ترقیاتی منصوبوں کو نظر انداز کیوں کیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نواز شریف کا حالیہ دورہ صحت اور سیاست دونوں حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ ایک جانب ان کے طبی معائنے متوقع ہیں تو دوسری جانب سیاسی ملاقاتیں بھی مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکنان اور حامی بھی اس دورے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ لندن میں ہونے والی ملاقاتوں کے بعد پارٹی کی آئندہ سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آ سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]