بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 71 سے زائد شدت پسند ہلاک نورستان میں 28 افراد ہلاک، نورستان میں 28 افراد ہلاک، پاکستان پر الزامات، اسلام آباد کا سخت ردعمل
اسلام آباد/کابل، 27 ستمبر 2026: افغانستان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ نورستان کے ضلع کامدیش میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 28 افراد ہلاک اور 32 کو گرفتار کیا گیا، جبکہ افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ان افراد کو پاکستان کی حمایت سے افغانستان میں داخل کیا گیا تھا۔
افغان وزارتِ دفاع کے مطابق کارروائی میں داعش سے وابستہ عناصر سمیت مسلح گروہوں کے ارکان شامل تھے، جنہوں نے مبینہ طور پر ڈیورنڈ لائن عبور کرکے نورستان میں داخل ہوکر تخریبی کارروائیوں کی کوشش کی۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ زیادہ تر افراد سابق افغان سکیورٹی اہلکار تھے جنہیں مبینہ طور پر پاکستان میں تربیت دینے کے بعد دوبارہ افغانستان بھیجا گیا۔
پاکستان نے افغان الزامات مسترد کردیے

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
وزارت کے فیکٹ چیک ونگ کے مطابق افغانستان کی جانب سے پاکستان کے ملوث ہونے کے دعوے کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ پاکستان نے خاص طور پر ان الزامات کی تردید کی کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز یا انٹیلیجنس ادارے نورستان یا افغانستان کے دیگر علاقوں میں اندرونی جھڑپوں میں ملوث ہیں یا انہوں نے سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی اور تربیت دی۔
پاکستان نے داعش سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کی افغانستان میں معاونت کے الزام کو بھی مسترد کیا۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق دعووں کے حق میں شناختی تفصیلات، دستاویزات، مواصلاتی شواہد، فرانزک مواد یا آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
ویڈیو کے شواہد پر بھی پاکستان کا اعتراض
پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر ان الزامات کے ثبوت کے طور پر گردش کرنے والی ویڈیو میں صرف چند غیر مسلح افراد دکھائی دیتے ہیں۔
وزارت کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد بظاہر کسی بڑی عسکری کارروائی کے لیے درکار سازوسامان سے لیس نہیں تھے، جبکہ ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔
افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی پر پاکستان کا مؤقف
پاکستانی فیکٹ چیک ونگ نے مؤقف اختیار کیا کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر ہوتا رہا ہے۔

اسلام آباد نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم شدت پسند تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرے اور اس عزم پر عمل کرے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
نورستان کارروائی پر افغان دعویٰ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں
افغان وزارتِ دفاع کے مطابق کارروائی کے بعد بعض افراد سرحد پار واپس چلے گئے، تاہم ان دعوؤں اور ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
رائٹرز کے مطابق افغان وزارتِ دفاع نے 28 افراد کی ہلاکت اور 32 افراد کو پکڑے جانے کا دعویٰ کیا، جبکہ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 71 سے زائد شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر
دوسری جانب پاکستان کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (ISPR) نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
ISPR کے مطابق آپریشن شابان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو کلیئر کیا، جہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔

فوج کے مطابق شابان کے علاقے میں کارروائی کے دوران 33 شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ گزشتہ 72 گھنٹوں میں مزید 23 افراد مارے گئے۔
نوشکی اور مند میں بھی کارروائیاں
ISPR کے مطابق 25 ستمبر کو نوشکی میں انٹیلیجنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی کے دوران ایک مبینہ شدت پسند ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔
بیان کے مطابق مند کے علاقے میں بھی سکیورٹی فورسز نے 6 شدت پسندوں کو ہلاک کیا اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا۔
ISPR کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا اور سکیورٹی فورسز خطرے کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
🚨#ISPR 71 Terrorists Eliminated
Afghan Taliban Regimes’ involvement in Terrorism activities in Pakistan, backed and sponsored by India, continues to cause loss of precious lives and threaten peace and stability. Pakistan’s intelligence agencies identified multiple hideouts of… pic.twitter.com/HQastwJ68h
— Pakistan Armed Forces News 🇵🇰 (@PakistanFauj) September 27, 2026
پاکستان افغانستان کشیدگی میں اضافہ
نورستان کا تازہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار عسکریت پسندی اور کارروائیوں کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
21 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں فضائی کارروائیوں کے دوران 28 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغان حکام اور اقوام متحدہ کے مطابق ان حملوں میں شہری ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ دونوں ممالک اس معاملے میں ایک دوسرے پر مختلف شدت پسند گروہوں کی حمایت یا پناہ دینے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
Afghan forces have captured Pakistan Army-trained ISIS militants while they were attempting to enter through the disputed Durand Line into Nooristan.
On camera, they can be seen admitting that the Pakistan Army had trained them to carry out terrorist activities in Afghanistan.…
— Megh Updates 🚨™ (@MeghUpdates) September 27, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: نورستان میں کتنے افراد ہلاک ہونے کا افغان دعویٰ ہے؟
جواب: افغان وزارتِ دفاع کے مطابق نورستان کے ضلع کامدیش کے قریب کارروائی میں 28 افراد ہلاک اور 32 گرفتار ہوئے۔
سوال 2: پاکستان نے افغانستان کے الزامات پر کیا مؤقف اختیار کیا؟
جواب: پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغانستان کے الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
سوال 3: افغانستان نے ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں کیا دعویٰ کیا؟
جواب: افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ان میں داعش سے وابستہ اور دیگر مسلح عناصر شامل تھے اور بعض سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو پاکستان میں تربیت دی گئی تھی۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
سوال 4: بلوچستان میں کتنے شدت پسند ہلاک ہونے کا ISPR نے دعویٰ کیا؟
جواب: ISPR کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری کارروائیوں کے دوران 71 سے زائد شدت پسند ہلاک کیے گئے۔




