پاکستان کسٹمز کی بڑی کارروائی، ٹرک سے غیر ملکی شراب اور سگریٹ سمیت 5 کروڑ 20 لاکھ روپے کا سامان برآمد
پاکستان کسٹمز اسمگلنگ کارروائی کے دوران کراچی سے اسلام آباد جانے والے ایک ریفریجریٹڈ ٹرک سے غیر ملکی شراب، سگریٹ اور دیگر اسمگل شدہ اشیاء برآمد کر لی گئیں۔ پاکستان کسٹمز کے مطابق برآمد شدہ سامان اور ٹرک کی مجموعی مالیت تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔ کارروائی کے دوران ٹرک کے ڈرائیور اور ہیلپر کو بھی حراست میں لیا گیا۔
کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ انڈس نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کارروائی کرتے ہوئے کراچی سے اسلام آباد جانے والے ریفریجریٹڈ ٹرک کو چیک کیا۔ حکام کے مطابق ٹرک میں خوراک کی اشیاء کی آڑ میں غیر ملکی شراب، سگریٹ اور دیگر سامان چھپایا گیا تھا۔
معمول کی اشیاء کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی میں ممنوعہ یا غیر قانونی طور پر منتقل کیا جانے والا سامان چھپانے کا طریقہ کسٹمز حکام کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ ایسی کارروائیوں میں سامان کی نوعیت، قانونی دستاویزات اور نقل و حمل کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے ذریعے ممکنہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
پاکستان کسٹمز کے مطابق ٹرک سے مختلف اقسام کی غیر ملکی شراب برآمد ہوئی۔ برآمد شدہ سامان میں بلیک لیبل بلینڈڈ اسکاچ وہسکی کی 587 بوتلیں شامل ہیں، جبکہ چین میں تیار کردہ فین جیو شراب کی 408 بوتلیں بھی قبضے میں لے لی گئیں۔
اس کے علاوہ ڈبل ہیپی نیس سگریٹ کے 1,500 پیکٹ بھی برآمد کیے گئے۔ حکام کے مطابق ان اشیاء کو خوراک کی مصنوعات کے درمیان چھپایا گیا تھا تاکہ سامان کی نقل و حمل کے دوران ان کی شناخت مشکل ہو۔
کسٹمز حکام کی جانب سے ضبط شدہ اشیاء کی مالیت تقریباً 3 کروڑ 52 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ ٹرک کی مالیت کو شامل کرنے کے بعد ضبط شدہ سامان اور گاڑی کی مجموعی مالیت تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ روپے بنتی ہے۔
کارروائی کے دوران ٹرک کے ڈرائیور اور ہیلپر کو موقع پر حراست میں لے لیا گیا۔ اسمگلنگ کے معاملے میں ان کے کردار اور سامان کی نقل و حمل سے متعلق مزید حقائق کا تعین متعلقہ قانونی کارروائی اور تفتیش کے ذریعے کیا جائے گا۔
غیر قانونی سامان کی نقل و حمل کی روک تھام کے لیے گاڑیوں کی جانچ پڑتال، دستاویزات کی تصدیق اور مشتبہ ترسیلات کی نگرانی اہم سمجھی جاتی ہے۔ کسٹمز حکام کی ایسی کارروائیاں اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی نشاندہی اور متعلقہ قوانین پر عمل درآمد میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کسٹمز کے مطابق چیف کلکٹر انفورسمنٹ اور کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ انڈس کی ہدایات پر اسمگلنگ کے خلاف نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے۔ ادارے کی جانب سے غیر قانونی اشیاء کی نقل و حرکت روکنے اور قانونی تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
اسمگلنگ ملکی معیشت، قانونی کاروبار اور محصولات کی وصولی کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ جب سامان قانونی طریقہ کار اور مقررہ تقاضوں کو پورا کیے بغیر منتقل کیا جاتا ہے تو اس سے جائز کاروبار کرنے والے افراد کو غیر مساوی مسابقت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس لیے سرحدی اور اندرونِ ملک تجارتی راستوں پر مؤثر نگرانی، شفاف کارروائی اور قانون کے مطابق تحقیقات اہم ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی اور قانونی درآمدات و ترسیلات کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان کسٹمز نے اسمگلنگ کی روک تھام اور ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے مؤثر کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد جانے والے ٹرک سے شراب، سگریٹ اور دیگر سامان کی برآمدگی اسی سلسلے کی ایک اہم کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ضبط شدہ سامان کی مالیت تقریباً 3 کروڑ 52 لاکھ روپے جبکہ ٹرک سمیت مجموعی مالیت 5 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔ ڈرائیور اور ہیلپر کو حراست میں لینے کے بعد معاملے میں مزید قانونی کارروائی متعلقہ حکام کے دائرہ اختیار میں ہوگی۔
READ MORE FAQS
- پاکستان کسٹمز نے کہاں کارروائی کی؟
کراچی سے اسلام آباد جانے والے ایک ریفریجریٹڈ ٹرک کی چیکنگ کے دوران اسمگل شدہ سامان برآمد کیا گیا۔
- برآمد شدہ سامان کی مجموعی مالیت کتنی ہے؟
پاکستان کسٹمز کے مطابق سامان کی مالیت تقریباً 3 کروڑ 52 لاکھ روپے اور ٹرک سمیت مجموعی مالیت 5 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔
- ٹرک سے کون سی اشیاء برآمد ہوئیں؟
بلیک لیبل بلینڈڈ اسکاچ وہسکی کی 587 بوتلیں، فین جیو شراب کی 408 بوتلیں، ڈبل ہیپی نیس سگریٹ کے 1,500 پیکٹ اور دیگر سامان برآمد ہوا۔
- کارروائی کے دوران کتنے افراد کو حراست میں لیا گیا؟
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ٹرک کے ڈرائیور اور ہیلپر کو موقع پر حراست میں لیا گیا۔





