وزیراعظم شہباز شریف ایران اور ترکیہ کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر آج روانہ ہوں گے
وزیراعظم شہباز شریف ایران دورہ آج سے شروع ہو رہا ہے، جس کے پہلے مرحلے میں وہ ایران جائیں گے جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم، وفاقی کابینہ کے دیگر ارکان اور اعلیٰ سطح کا وفد بھی ایران جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ایرانی قیادت اور عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، تعزیت اور دوطرفہ تعاون کے عزم کا اعادہ کریں گے۔
پاکستانی وفد پہلے ہی تہران پہنچ چکا
دوسری جانب چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں پاکستانی وفد پہلے ہی تہران پہنچ چکا ہے۔ وفد میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ اور مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تہران پہنچ چکے ہیں، جہاں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔
آخری رسومات میں عالمی نمائندوں کی شرکت متوقع
ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی سات روزہ آخری رسومات کا آغاز ہو چکا ہے، جن میں دنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ تقریبات کا اختتام 9 جولائی کو مشہد میں تدفین کے ساتھ ہوگا۔
ایران کے بعد ترکیہ کا دورہ
وزیراعظم شہباز شریف ایران کے دورے کے بعد ترکیہ جائیں گے، جہاں وہ ترک قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
READ MORE FAQS
وزیراعظم شہباز شریف کب ایران روانہ ہوں گے؟
وزیراعظم آج ایران اور ترکیہ کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔
ایران میں وزیراعظم کس تقریب میں شرکت کریں گے؟
وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔
وزیراعظم کے وفد میں کون شامل ہے؟
وفد میں نائب وزیراعظم، وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
پاکستانی وفد پہلے سے ایران میں موجود ہے؟
جی ہاں، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ایک پاکستانی وفد پہلے ہی تہران پہنچ چکا ہے۔








