
عمر ایوب نااہلی کے بعد اپوزیشن لیڈر کا چیمبر سیل، نیا اپوزیشن لیڈر مقرر ہوگا
قومی اسمبلی میں عمر ایوب نااہلی کے بعد اپوزیشن لیڈر کا چیمبر سیل کر دیا گیا۔ تمام ملازمین کے تبادلے بھی کر دیے گئے جبکہ نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری جلد متوقع ہے۔

قومی اسمبلی میں عمر ایوب نااہلی کے بعد اپوزیشن لیڈر کا چیمبر سیل کر دیا گیا۔ تمام ملازمین کے تبادلے بھی کر دیے گئے جبکہ نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری جلد متوقع ہے۔

لاہور انسداد دہشتگردی عدالت نے علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے بڑا فیصلہ سنا دیا۔

توشہ خانہ ٹو کیس کی اڈیالہ جیل میں کل ہونے والی سماعت ملتوی کردی گئی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلاء اور پراسیکیوشن کو عدالتی عملے نے آگاہ کردیا۔ آئندہ سماعت کے شیڈول کا اعلان جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد سے ہوگا۔

پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے عمران خان کی ہدایات پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ ملکی سیاست میں بڑی ہلچل کا باعث بن گیا ہے اور اسے ایک اہم سیاسی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے۔

صاحبزادہ حسن رضا سنی اتحاد کونسل کے قائم مقام چیئرمین مقرر کر دیے گئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ تقرری آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن تک عارضی طور پر کی گئی ہے۔ حامد رضا کی نااہلی کے بعد یہ بڑی سیاسی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کے استعفے، 18 اراکین نے کمیٹیوں سے علیحدگی اختیار کرلی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک اور سیاسی دھچکا لگا ہے جہاں پارٹی کے 18 ارکان قومی اسمبلی پی ٹی آئی رہنماؤں کے استعفے، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں بڑی تبدیلی دینے کا

نسداد دہشتگردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 7 مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے یکم ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں گرفتار ملزم شیر شاہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، جبکہ پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی گئی۔

تحریک انصاف کے ارکان کے پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفوں پر ابہام برقرار، بانی پی ٹی آئی کے مؤقف اور پارٹی اعلامیے میں تضاد سامنے آگیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور دیگر بہنوں نے سنٹرل جیل اڈیالہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد علیمہ خان نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں اور عوام کو واضح پیغام دیا کہ وہ کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت جھکنے والے نہیں ہیں۔ سابق وزیراعظم نے ہدایت دی کہ پارٹی پارلیمنٹ کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہو اور ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لے، تاکہ انتخابات کو قانونی جواز نہ دیا جائے۔ ملاقات کے دوران عمران خان نے ملکی سیاسی صورتحال، میڈیا، فوجی آپریشنز اور سیلاب متاثرہ علاقوں پر بھی رائے دی۔ علیمہ خان کے بیانات کے بعد پارٹی کی داخلی صورتحال اور عوامی ردعمل پر بھی بحث چھڑ گئی ہے، اور یہ ملاقات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اہم موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔