سارہ چوہدری کا طلاق پر پہلا ردعمل وائرل، تقدیر سے متعلق اہم باتیں

سارہ چوہدری طلاق اور نجی زندگی پر گفتگو کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سارہ چوہدری طلاق سے متعلق اپنے حالیہ بیان کے بعد ایک بار پھر سوشل میڈیا اور شوبز حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ سابق اداکارہ نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران پہلی مرتبہ اپنی نجی زندگی، علیحدگی اور دینی سفر سے متعلق کھل کر گفتگو کی۔

سارہ چوہدری نے گفتگو کے دوران اس سوال کا جواب دیا کہ شوبز انڈسٹری چھوڑنے، دینی زندگی اختیار کرنے اور ازدواجی زندگی کے لیے مختلف قربانیاں دینے کے باوجود ان کی شادی کیوں برقرار نہ رہ سکی۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں اکثر لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دین کی طرف رجوع کر لے تو کیا اس کی زندگی میں مشکلات یا آزمائشیں ختم ہو جاتی ہیں؟ ان کے مطابق یہ تصور درست نہیں کیونکہ زندگی کے بعض فیصلے اور حالات انسان کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔

سارہ چوہدری نے کہا کہ اسلام میں طلاق کو پسندیدہ عمل نہیں سمجھا جاتا، تاہم یہ ایک حقیقت ہے جو بعض اوقات ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق کسی شخص کے دیندار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی زندگی میں کبھی کوئی مشکل یا رشتوں سے متعلق آزمائش پیش نہیں آ سکتی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے اپنے ازدواجی رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، لیکن ایک مرحلے پر یہ احساس ہوا کہ دونوں کے لیے علیحدگی بہتر راستہ ہے۔ اسی بنیاد پر باہمی رضامندی سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔

پوڈکاسٹ کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں کبھی اپنے فیصلوں پر پچھتاوا محسوس ہوا تو انہوں نے کہا کہ دین کی راہ اختیار کرنے کے بعد ان کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی۔ ان کے مطابق وہ اس یقین پر قائم ہیں کہ انسان کی زندگی میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی حکمت کے تحت ہوتا ہے اور اسی میں بہتری پوشیدہ ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “کاش ایسا ہوتا” یا “اگر ایسا نہ ہوتا” جیسے خیالات انسان کو بے چینی میں مبتلا رکھتے ہیں، جبکہ تقدیر پر یقین انسان کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔

سارہ چوہدری کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر مختلف انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ بعض صارفین نے ان کی صاف گوئی اور مثبت سوچ کو سراہا جبکہ کئی افراد نے ان کے خیالات پر تبصرے بھی کیے۔

سابق اداکارہ نے 2002 میں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں قدم رکھا تھا اور جلد ہی اپنی اداکاری کی بدولت مقبولیت حاصل کر لی تھی۔ ان کی شہرت میں نمایاں کردار ادا کرنے والے ڈراموں میں چوکھٹ، بہلاوہ، تیرے پہلو میں اور دیگر معروف پروجیکٹس شامل ہیں۔

2010 میں سارہ چوہدری نے شوبز انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا اور اپنی زندگی کو دینی سرگرمیوں کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا۔ ان کی یہ تبدیلی اس وقت بھی میڈیا اور عوامی حلقوں میں خاصی زیر بحث رہی تھی۔

رپورٹس کے مطابق ان کی شادی تقریباً پندرہ برس قبل ہوئی تھی اور وہ پانچ بچوں کی والدہ ہیں۔ حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اپنی نجی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر کھل کر بات کی جس کے بعد ان کا بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔

سارہ چوہدری کا کہنا تھا کہ زندگی میں آنے والے ہر مرحلے کو مثبت انداز میں قبول کرنا چاہیے اور ماضی کے فیصلوں پر افسوس کرنے کے بجائے مستقبل کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]