سال کا وہ دن جب پوری دنیا میں دن اور رات کا دورانیہ 12، 12 گھنٹوں کا ہو جاتا ہے
اعتدال خریفی ایک ایسا سالانہ فلکیاتی مظہر ہے جب پوری دنیا میں دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر، یعنی 12، 12 گھنٹے ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابھی پتوں کی رنگت نہ بدلی ہو اور خنکی بھی محسوس نہ ہو رہی ہو، مگر خزاں کا موسم بس شروع ہونے والا ہے۔
اعتدال خریفی کب ہوتا ہے؟
ہر سال 21 سے 24 ستمبر کے درمیان شمالی نصف کرے میں موسم خزاں جبکہ جنوبی نصف کرے میں بہار کا آغاز ہوتا ہے۔ اسی دوران اعتدال خریفی یا September Equinox واقع ہوتا ہے۔ اس سال شمالی نصف کرے میں اعتدال خریفی کا آغاز 23 ستمبر کو ہوا۔
اعتدال خریفی کے دوران کیا ہوتا ہے؟
یہ وہ موقع ہوتا ہے جب سورج جنوب کی طرف جاتے ہوئے خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے۔ اعتدال خریفی کے موقع پر سورج عین مشرق سے طلوع اور عین مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ اس سے پہلے سورج شمال مشرق سے طلوع ہوتا ہے جبکہ اعتدال خریفی کے بعد جنوب مشرق سے طلوع ہوگا۔
زمین کا جھکاؤ اور موسموں کی وجہ
ہماری زمین سورج کے گرد گھومتے ہوئے مدار میں ایک جانب جھکی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں سال میں کچھ مواقعوں پر سورج کی روشنی اور حرارت زیادہ یا کم مقدار میں براہِ راست ہمارے سیارے تک پہنچتی ہے۔ زمین اپنے محور پر 23.5 ڈگری کے زاویے پر جھکی ہوئی ہے، اور یہی جھکاؤ موسموں کا سبب بنتا ہے۔
جب زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو اس جھکاؤ کے باعث کچھ خطوں کو سورج کی براہِ راست روشنی زیادہ ملتی ہے۔ اسی وقت شمالی نصف کرے کا رخ سورج کی طرف ہوتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرے میں موسمِ سرما ہوتا ہے۔
اعتدال خریفی کے موقع پر دن اور رات یکساں کیوں؟
اعتدال ربیعی یا خریفی کے دوران سورج براہِ راست خط استوا پر روشنی ڈالتا ہے، اور دونوں نصف کروں کو ایک جیسی روشنی یا تاریکی ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موقع پر دن اور رات کی لمبائی بھی لگ بھگ یکساں، یعنی 12، 12 گھنٹے ہوتی ہے۔
ایک دلچسپ حقیقت: تیز رفتار طلوع و غروب
ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اعتدال ربیعی یا خریفی کے موقع پر سورج کا طلوع اور غروب بہت برق رفتاری سے مکمل ہوتا ہے، یعنی سورج چند سیکنڈوں میں طلوع یا غروب ہو جاتا ہے۔
نیشنل ویدر سروس کیا کہتی ہے؟
امریکا کے ادارے نیشنل ویدر سروس کے مطابق سال میں صرف دو مواقع ایسے ہوتے ہیں جب زمین نہ تو سورج کی جانب جھکی ہوتی ہے اور نہ اس سے دور۔ اس کے نتیجے میں تمام عرض البلد میں دن کی روشنی اور تاریکی لگ بھگ مساوی ہوتی ہے۔
اعتدال ربیعی: اگلا مرحلہ کب؟
ایسا ہی مارچ میں بھی ہوتا ہے، جب اعتدال ربیعی یا Spring Equinox کا آغاز ہوتا ہے۔ اس وقت سورج شمال کی طرف جاتے ہوئے خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے۔ یعنی ستمبر کے بعد 20 مارچ 2026 کو ایک بار پھر دنیا بھر میں دن اور رات کا دورانیہ یکساں ہوگا، جبکہ شمالی نصف کرے میں موسمِ بہار کا آغاز ہوگا۔
راس الجدی اور خط سرطان: دن رات کے فرق کی انتہا
اعتدال ربیعی یا خریفی کے برعکس راس الجدی اور خط سرطان زمین کے جھکاؤ سے جڑے ہوتے ہیں، جن کے دوران دن اور رات کا دورانیہ گھٹتا یا بڑھ جاتا ہے۔
راس الجدی کے دوران دن کا دورانیہ گھٹ جاتا ہے اور رات کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ خط سرطان کے موقع پر اس کے الٹ ہوتا ہے، یعنی دن کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور رات کا دورانیہ گھٹ جاتا ہے۔ اس سال راس الجدی یا سال کا سب سے چھوٹا دن 21 دسمبر کو ہوگا۔
خزاں کا دورانیہ کیوں کم ہو رہا ہے؟
متن میں ذکر کیا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں موسمِ خزاں کا دورانیہ گھٹ گیا ہے۔ یہ رجحان عمومی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے جوڑا جاتا ہے، تاہم اس کی مخصوص وجوہات سے متعلق مزید سائنسی تفصیل فراہم کردہ متن میں شامل نہیں۔
READ MORE FAQS
- اعتدال خریفی کیا ہے؟
یہ وہ سالانہ موقع ہے جب سورج خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے اور دنیا بھر میں دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہو جاتا ہے۔ - اعتدال خریفی کب ہوتا ہے؟
ہر سال 21 سے 24 ستمبر کے درمیان۔ اس سال یہ 23 ستمبر کو ہوا۔ - اعتدال خریفی کے موقع پر سورج کہاں سے طلوع ہوتا ہے؟
عین مشرق سے طلوع اور عین مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ - دن اور رات برابر کیوں ہو جاتے ہیں؟
کیونکہ اس موقع پر سورج براہِ راست خط استوا پر روشنی ڈالتا ہے، جس سے دونوں نصف کروں کو یکساں روشنی ملتی ہے۔








