فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے، ایران امریکا مذاکرات اور خطے کے امن پر اہم ملاقاتیں متوقع

چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے جہاں وہ ایران امریکا مذاکرات، خطے میں امن و استحکام اور اہم سفارتی امور پر اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف: سیاسی و عسکری قیادت کی شراکت داری نے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا

وزیراعظم شہباز شریف نے برطانوی جریدے دی سنڈے ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی شراکت داری نے عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص اجاگر کیا ہے۔
پاک فوج کا بھارتی آرمی چیف کے بیان پر سخت ردعمل، بھارت 8 دہائیاں گزرنے کے باوجود پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کر سکا

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بھارتی آرمی چیف کے متنازع اور اشتعال انگیز انٹرویو کو غیر ذمہ دارانہ اور جنگی جنون پر مبنی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
پاکستان نے بھارت میں مذاکرات کی آوازوں کو مثبت پیش رفت قرار دے دیا

پاکستان نے بھارت میں مذاکرات کی حمایت کرنے والی آوازوں کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کے ردعمل کا انتظار ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے بامعنی مذاکرات اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے۔
لبنان میں جنگ بندی کا خیر مقدم، شہباز شریف کا پائیدار امن کی امید کا اظہار

وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان میں جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے پائیدار امن کی امید ظاہر کی۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا کا دورہ بنگلادیش، پاک بنگلادیش دفاعی تعاون بڑھانے کا عزم

پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان عسکری تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنے دورۂ ڈھاکہ میں اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں جن میں دفاعی، سیکیورٹی اور تربیتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کا عزم ظاہر کیا۔
پاکستان اسرائیل مخالف اتحاد کیلئے بطور ایٹمی طاقت مسلم امہ کے ساتھ کھڑاہے،اسحاق ڈار کا الجزیرہ انٹرویو

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم امّت کے ساتھ کھڑا ہے اور بطور ایٹمی طاقت کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جوہری ہتھیار صرف دفاع اور ڈیٹرنس کے لیے ہیں، جارحیت کے لیے نہیں، جبکہ علاقائی امن کے قیام کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔