جنوری میں عمران خان کے بیٹوں کا پاکستان آنے کا اعلان،والد کو جیل میں ’ڈیتھ سیل‘ میں رکھنے کا الزام

سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے جنوری میں پاکستان آنے کے لیے ویزا درخواست دینے کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے والد کو جیل میں غیر انسانی حالات میں ’ڈیتھ سیل‘ میں رکھا گیا ہے۔ اسکائی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے جیل میں سہولیات کی کمی، ملاقاتوں میں رکاوٹ اور شدید ذہنی دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا۔
بانی پی ٹی آئی کو دوسری جیل منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، اختیار ولی خان

اسلام آباد میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و امورِ خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت بانی پاکستان تحریک انصاف کو کسی اور صوبے کی جیل منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل کے باہر روزانہ احتجاج سے شہری شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر ملک میں عدم استحکام پھیلانے، ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں عمران خان پر شدید تنقید ، فوج مخالف بیانیہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس میں قید میں موجود پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا فوج مخالف بیانیہ اب محض سیاست نہیں رہا بلکہ قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا شخص جو خود کو عقلِ کل سمجھتا ہے، افواج پاکستان پر ہرزہ سرائی کرکے ریاست کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اڈیالہ جیل سے عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ چلانے کی تردید، سپرنٹنڈنٹ کا اہم جواب عدالت میں جمع

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کا ’ایکس‘ اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ نہیں ہو رہا۔ سپرنٹنڈنٹ کے مطابق عمران خان جیل میں سخت نگرانی میں ہیں اور موبائل سمیت کسی بھی ممنوعہ چیز کی اجازت نہیں۔ جیل رولز کے مطابق صرف فیملی اور وکلا کے ساتھ ملاقاتیں ممکن ہیں، جبکہ سیاسی ہدایات سے معاشرتی تشدد کے خطرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج، عمران خان سے ملاقات کے بغیر واپس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے دیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر ایک منتخب صوبے کا سربراہ اپنے قائد سے نہیں مل سکتا تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ مزاحمت کی راہ ہے۔ پولیس نے قافلے کو جیل سے کچھ فاصلے پر روک دیا جس پر وزیراعلیٰ نے عدلیہ اور وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور عمران خان کی ملاقات کے انتظامات شروع

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ملاقات کے انتظامات کے لیے صوبائی حکومت کو ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ ہدایت صوبے میں نئی کابینہ کی تشکیل، وفاقی تعلقات میں بہتری اور سیاسی استحکام کے تناظر میں دی گئی ہے۔ وزیر مملکت برائے ثقافت و سیاحت حذیفہ رحمٰن نے ایک ٹی وی پروگرام میں تصدیق کی کہ ملاقات کی تیاری مکمل کی جا رہی ہے اور آئندہ چند دنوں میں اس کے انعقاد کا امکان ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیش رفت وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان برف پگھلنے کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ملاقات کامیاب رہتی ہے تو صوبے میں انتظامی عمل میں تیزی، نئی کابینہ کی تشکیل اور ترقیاتی منصوبوں کی بحالی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
بند کمروں کے فیصلے عوام پر مسلط نہیں ہونے دیں گے،25 اکتوبر کو وزیراعلیٰ کا گرینڈ جرگہ کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے 25 اکتوبر کو ضلع خیبر میں عظیم الشان قبائلی جرگے کے انعقاد کا اعلان کر دیا۔
یہ جرگہ تمام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوگا اور عوام، ریاستی اداروں اور قبائلی عمائدین کے درمیان اعتماد بحالی کے لیے ایک تاریخی موقع سمجھا جا رہا ہے۔
وزارتِ اعلیٰ سےعلی امین گنڈاپور کا استعفیٰ، دستخط کے بعد استعفی گورنر کو بھجوا دیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے استعفیٰ دے دیا، استعفی پر دستخط کر کے گورنر کو بھجوا دیا. عمران خان کی مشاورت سے سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کر دیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے نئے نوجوان وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی ،عمران خان کا فیصلہ ایک نئی شروعات

پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں قیادت کی تبدیلی کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان کی ہدایت پر علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹا کر نوجوان رہنما سہیل آفریدی کو نیا وزیرِ اعلیٰ نامزد کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ اور متحرک رہنما ہیں، جنہوں نے اپنی کارکردگی اور عوامی رابطوں سے جلد مقبولیت حاصل کی۔ ان کا ایجنڈا تعلیم، روزگار اور امن کے فروغ پر مبنی ہے۔
سینئر صحافی اعجاز احمد سے عمران خان کی بدسلوکی کیخلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

اسلام آباد کی قومی اسمبلی میں اس وقت ہنگامہ کھڑا ہوگیا جب صحافی اعجاز احمد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ رپورٹرز کا مؤقف ہے کہ اڈیالہ جیل میں سوال پوچھنے پر عمران خان نے نازیبا الفاظ استعمال کیے جس کے بعد سوشل میڈیا پر اعجاز احمد کے خلاف سخت مہم بھی شروع ہوگئی۔ ایوان میں اسپیکر ایاز صادق اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں کے مؤقف کو اہم قرار دیا جبکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے بھی اعجاز احمد کی حمایت کی۔ بعدازاں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں صحافیوں کے تحفظ اور نفرت انگیز مہم کی مذمت کی گئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر پاکستان میں سیاست اور صحافت کے تناؤ کو نمایاں کر دیا ہے۔