توشہ خانہ رولز 2026 نافذ، سرکاری تحائف سے متعلق نئے سخت قواعد جاری
اسلام آباد، 24 ستمبر 2026: وفاقی حکومت نے توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن رولز 2026 نافذ کردیے ہیں، جن کے تحت سرکاری عہدیداروں کو سرکاری حیثیت میں ملنے والے تحائف کی وصولی، ڈکلیئریشن، جمع کرانے، مالیت کے تعین اور نیلامی کے لیے نئے قواعد مقرر کیے گئے ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت اور وزیراعظم کے علاوہ دیگر سرکاری عہدیداروں کو سرکاری حیثیت میں ملنے والے تحائف قبول کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
تاہم اگر سفارتی یا ثقافتی روایات کے باعث کسی تحفے کو قبول کرنے سے انکار ممکن نہ ہو تو اسے لازماً توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا۔
نئے قواعد کے مطابق سرکاری عہدیدار یا سرکاری وفد کے ساتھ موجود کسی نجی شخص کو ملنے والا تحفہ بھی توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا، اگر وہ تحفہ سرکاری حیثیت یا سرکاری وفد کی موجودگی میں موصول ہوا ہو۔

تحفہ کتنے دن میں توشہ خانہ میں جمع ہوگا؟
نوٹیفکیشن کے مطابق تحفہ وصول ہونے کے 30 دن کے اندر اسے توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا۔
غیر ملکی دورے کے دوران ملنے والا تحفہ پاکستان واپسی کے 30 دن کے اندر جمع کرانا لازم ہوگا، جبکہ بیرون ملک سے الگ سے پاکستان بھجوائے جانے والے تحفے کے لیے 60 دن کی مہلت ہوگی۔
تحفہ وصول کرنے والے شخص کو کابینہ سیکرٹری کے نام تحریری طور پر تحفے کی تفصیل سے آگاہ کرنا ہوگا۔ ڈکلیئریشن پر وصول کنندہ کے دستخط بھی ضروری ہوں گے۔
تحفہ خود وصول کنندہ یا اس کی طرف سے باقاعدہ طور پر مجاز شخص توشہ خانہ میں جمع کرا سکے گا۔ تحفہ جمع ہونے کے بعد متعلقہ افسر تحفے کی مختصر تفصیل اور تصویر پر مشتمل رسید جاری کرے گا۔
گریڈ ایک سے چار کے ملازمین کے لیے نقد انعام کی اجازت
نئے قواعد میں گریڈ 1 سے 4 تک کے سرکاری ملازمین کو سفارتی شخصیات سے ملنے والے نقد انعامات اپنے پاس رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
تاہم اگر کوئی ملازم نقد انعام حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکے گی۔
معمولی مقدار اور مالیت کی کھانے پینے کی اشیا کو ڈکلیئر کیے بغیر رکھنے کی اجازت ہوگی، تاہم سرکاری یا عوامی مقصد کے لیے دی جانے والی اشیا کی وصولی اور استعمال سے متعلق کابینہ ڈویژن کو آگاہ کرنا ہوگا۔
زندہ جانوروں کے تحائف ڈکلیئر کرنے کے بعد متعلقہ ریماؤنٹ ویٹرنری اینڈ فارمز کور کو منتقل کیے جائیں گے۔
تحائف کی قیمت کیسے مقرر ہوگی؟
قواعد کے مطابق تحائف کی مارکیٹ ویلیو ایف بی آر اور ایک نجی ایویلیویٹر کے ذریعے مقرر کی جائے گی۔
نجی ایویلیویٹر کا انتخاب مقررہ اہلیت کے مطابق کھلے اشتہار کے ذریعے کیا جائے گا۔ دونوں تخمینوں کی اوسط کو تحفے کی اسیسڈ مارکیٹ ویلیو قرار دیا جائے گا۔
اگر دونوں تخمینوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق ہو تو معاملہ تیسرے نجی ایویلیویٹر کو بھیجا جائے گا۔

ہتھیاروں کے تحائف کی مالیت پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ مقرر کرے گی اور پی او ایف کی جانب سے دی گئی مالیت کو اسیسڈ مارکیٹ ویلیو تصور کیا جائے گا۔
توشہ خانہ کے تحائف کی کھلی نیلامی
نئے رولز کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ توشہ خانہ میں موجود موجودہ اور مستقبل کے تحائف کو اوپن پبلک آکشن کے ذریعے فروخت کرنے کا اصول مقرر کیا گیا ہے۔
کابینہ ڈویژن کی کمیٹی کی منظوری کے بعد تحائف کی نیلامی کی جائے گی جبکہ ضرورت پڑنے پر کمیٹی ماہرین سے رائے بھی لے سکے گی۔
نیلامی ترجیحاً ہر دو سال بعد ہوگی، تاہم کم از کم ہر مالی سال میں ایک مرتبہ نیلامی کرنا لازم ہوگا۔
ہر تحفے کی ریزرو پرائس اس کی اسیسڈ مارکیٹ ویلیو سے کم نہیں ہوگی، جبکہ تین ماہ سے زیادہ پرانی مالیت کو ریزرو پرائس مقرر کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔
نیلامی کی براہ راست میڈیا کوریج وزارت اطلاعات و نشریات کے ذریعے کرائی جائے گی۔
کن تحائف کی نیلامی نہیں ہوگی؟
قدیم، ثقافتی یا تاریخی اہمیت رکھنے والے تحائف نیلام نہیں کیے جائیں گے۔ اسی طرح بعض قیمتی یا سفارتی و بین الاقوامی حساسیت رکھنے والے تحائف بھی نیلامی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
کسی تحفے کی تاریخی، ثقافتی یا سفارتی اہمیت کا فیصلہ متعلقہ کمیٹی کرے گی۔
سیٹ کی شکل میں موصول ہونے والے تحائف کو بھی الگ الگ فروخت نہیں کیا جائے گا۔
نیلامی سے حاصل رقم کہاں خرچ ہوگی؟
نئے قواعد کے مطابق تحائف کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم ایک الگ اکاؤنٹ میں جمع کی جائے گی۔

یہ رقم ملک کے انتہائی پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کی پرائمری تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال کی جائے گی۔
رقم کا اکاؤنٹ وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے پاس ہوگا جبکہ اس رقم کے استعمال کے لیے وزیراعظم کی پیشگی منظوری ضروری ہوگی۔
توشہ خانہ کا ریکارڈ اور آڈٹ
نئے قواعد کے تحت ہر مالی سال کے اختتام پر توشہ خانہ میں موصول اور نمٹائے گئے تمام تحائف کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا۔
ریکارڈ میں تحفہ وصول ہونے کی تاریخ، وصول کنندہ اور تحفہ جمع کرانے والے کا نام، اسیسڈ مارکیٹ ویلیو، مالیت مقرر کرنے کی تاریخ، نیلامی کی تاریخ، ریزرو پرائس اور اصل نیلامی قیمت شامل ہوگی۔
کابینہ ڈویژن ویب پورٹل پر دستیاب معلومات کو ہر ماہ اپ ڈیٹ کرے گا۔ تاہم تحفہ دینے والی شخصیت کا نام اور ملک ویب پورٹل پر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔
قواعد کی خلاف ورزی پر کارروائی
نوٹیفکیشن کے مطابق مقررہ مدت میں تحفہ ڈکلیئر نہ کرنے یا توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کی صورت میں قانون کے تحت کارروائی کی جاسکے گی۔
تاہم کارروائی سے پہلے متعلقہ شخص کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور وضاحت دینے کا مناسب موقع دیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے نئے رولز کے نفاذ کے ساتھ تحائف کی قبولیت اور تلفی سے متعلق 2023 کا سابقہ طریقہ کار ختم کردیا ہے۔
نئے قواعد کا مقصد سرکاری حیثیت میں ملنے والے تحائف کے بارے میں طریقہ کار کو واضح کرنا، ان کا مکمل ریکارڈ برقرار رکھنا اور ان کی شفاف طریقے سے تلفی یا نیلامی کو یقینی بنانا ہے۔
توشہ خانہ کے قواعد مزید سخت کر دیے گئے، وفاقی حکومت نے نئے رولز نافذ کر دیے۔ کابینہ ڈویژن نے توشہ خانہ منیجمنٹ اینڈ ریگولیشن رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
اسلام آباد سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم اور صدر کے سوا تحائف وصول کرنے پر حوصلہ شکنی ہوگی، توشہ خانہ میں موجود… pic.twitter.com/dyjgbhyhUZ
— Tariqsumair (@Tariqsumair2) September 23, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: توشہ خانہ رولز 2026 کیا ہیں؟
توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن رولز 2026 سرکاری حیثیت میں ملنے والے تحائف کی قبولیت، ڈکلیئریشن، جمع کرانے، تشخیص، ریکارڈ اور نیلامی کے طریقہ کار سے متعلق نئے قواعد ہیں۔
سوال 2: سرکاری تحفہ کتنے دن میں توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا؟
نئے قواعد کے مطابق ناگزیر طور پر قبول کیے جانے والے تحائف عام طور پر وصولی کے 30 دن کے اندر جمع کرانا ہوں گے۔ بیرون ملک دورے کے دوران ملنے والے تحائف پاکستان واپسی کے 30 دن کے اندر جمع کرانا ہوں گے، جبکہ الگ سے پاکستان بھجوائے جانے والے تحفے کے لیے 60 دن کی مدت مقرر ہے۔
سوال 3: کیا توشہ خانہ کے تمام تحائف نیلام کیے جائیں گے؟
نئے قواعد کے تحت موجودہ اور مستقبل کے تحائف کی کھلی نیلامی کا اصول مقرر کیا گیا ہے، تاہم قدیم، ثقافتی یا تاریخی اہمیت رکھنے والے اور بعض قیمتی یا سفارتی و بین الاقوامی حساسیت کے حامل تحائف نیلامی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
سوال 4: توشہ خانہ کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کہاں خرچ ہوگی؟
نئے قواعد کے مطابق نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم الگ اکاؤنٹ میں جمع ہوگی اور انتہائی پسماندہ علاقوں میں






