نیویارک: وزیر اعظم کی ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات، معیشت مستحکم بنانے، اصلاحات کو آگے بڑھانے کے پختہ عزم کا اظہار
وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کرتے ہوئے معیشت مستحکم بنانے، پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔ یہ ملاقات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
ملاقات میں کون کون موجود تھا؟
وزیراعظم ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر برائے نجکاری محمد علی، معاون خصوصی برائے وزیراعظم طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
آئی ایم ایف کی معاونت کا اعتراف
وزیراعظم نے پاکستان کی معیشت کے لیے آئی ایم ایف کی مسلسل معاونت کو سراہا۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمد کے لیے حکومت کے غیرمتزلزل عزم کا بھی اعادہ کیا۔
کرسٹالینا جارجیوا کے کردار کی تعریف
وزیراعظم نے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تعمیری شراکت داری مزید مستحکم بنانے میں کرسٹالینا جارجیوا کے کردار کو سراہا۔
معاشی استحکام اور بحالی کا دعویٰ
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان محتاط مالیاتی اور زری پالیسیوں کی بدولت معاشی استحکام کے ساتھ معاشی بحالی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی مالیاتی ذخائر اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کو اجاگر کیا اور معاشی اصلاحات کے تسلسل کے ساتھ کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم پر زور دیا۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کا مؤقف
اس موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی کارکردگی اور معاشی استحکام کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہا۔
ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا کہ ملاقات میں پاکستان میں جاری اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے مطابق اصلاحات پر سختی سے عمل درآمد سے معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملی، اعتماد بحال ہوا اور پاکستان کی دوبارہ عالمی مارکیٹ تک رسائی میں مدد ملی ہے۔
اصلاحات کے تسلسل پر زور
کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنے سے معاشی ترقی میں اضافہ ہوگا اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
آئندہ پروگرام جائزے پر تبادلہ خیال
دونوں رہنماؤں نے پاکستان کے آئندہ آئی ایم ایف پروگرام جائزے اور اصلاحات آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم اگلے جائزے کی مخصوص تاریخ یا تفصیلی شیڈول فراہم کردہ بیان میں شامل نہیں۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کا تعلق
پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تحت مختلف اصلاحاتی اقدامات پر عمل پیرا ہے، جن کا مقصد معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ہے۔ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں عموماً پروگرام کے تسلسل اور اگلے مراحل سے متعلق مشاورت کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔
READ MORE FAQS
- وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات کس سے ہوئی؟
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے۔ - یہ ملاقات کہاں اور کس موقع پر ہوئی؟
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر۔ - ملاقات میں کون کون شریک تھا؟
اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، محمد علی اور طارق فاطمی سمیت دیگر اعلیٰ حکام۔ - وزیراعظم نے کیا عزم ظاہر کیا؟
معیشت مستحکم بنانے اور پائیدار و جامع اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحات جاری رکھنے کا عزم۔








