قومی اسمبلی ضمنی گرانٹس منظور: 482 ارب روپے کے اضافی اخراجات کی منظوری
482 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس قومی اسمبلی نے منظور کرتے ہوئے مختلف وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور محکموں کے اضافی اخراجات کی توثیق کر دی۔ اس کے ساتھ ہی ایف بی آر ترمیمی بل 2026 اور گزشتہ برسوں کے بعض اضافی اخراجات کی بھی منظوری دی گئی۔
اسلام آباد میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ سے متعلق مختلف مالیاتی دستاویزات ایوان میں پیش کیں۔ ان دستاویزات میں منظور شدہ اخراجات، ضمنی اخراجات، متجاوز اخراجات اور آڈٹ رپورٹس شامل تھیں۔
ایوان نے مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے کے مطالبات زر منظور کیے جن میں دفاع، تعلیم، صحت، پاور، اطلاعات، داخلہ، تجارت، قومی سلامتی، غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ سمیت متعدد اہم شعبے شامل ہیں۔
دفاعی خدمات کے لیے مجموعی طور پر اربوں روپے کے اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی جبکہ پاور ڈویژن کے لیے بھی بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے۔ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، قومی صحت خدمات، اطلاعات و نشریات، داخلہ، کشمیر و گلگت بلتستان اور دیگر محکموں کے اضافی اخراجات کو بھی ایوان کی منظوری حاصل ہوئی۔
قومی اسمبلی نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی مختلف وزارتوں کے مطالبات زر منظور کیے۔ ان میں آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، ریونیو ڈویژن، پاور ڈویژن، نیوٹیک، داخلہ و انسداد منشیات اور ریلوے کے ترقیاتی اخراجات شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے ایف بی آر ترمیمی بل 2026 بھی پیش کیا جسے قومی اسمبلی نے منظور کر لیا۔ اس قانون سازی کا مقصد ٹیکس نظام میں اصلاحات اور محصولات کے نظام کو مزید مؤثر بنانا بتایا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں قومی اسمبلی نے مالی سال 2016-17 میں کیے گئے اضافی اخراجات کی بھی منظوری دی۔ پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے لیے 4 ارب 12 کروڑ روپے سے زائد کے متجاوز اخراجات کو باضابطہ منظوری دے دی گئی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق ضمنی گرانٹس کی منظوری سے حکومت کو جاری منصوبوں، انتظامی امور اور قومی سطح کی ترجیحات کو مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں عمومی طور پر ایسے اضافی اخراجات پر پارلیمانی نگرانی اور شفافیت کی ضرورت پر زور دیتی رہی ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اضافی فنڈز مختلف ناگزیر اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تھے۔ آنے والے مالی سال میں ان فنڈز کے استعمال اور کارکردگی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
READ MORE FAQS
قومی اسمبلی نے کتنی ضمنی گرانٹس منظور کیں؟
قومی اسمبلی نے مجموعی طور پر 482 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس منظور کیں۔
ایف بی آر ترمیمی بل 2026 کیا ہے؟
یہ ٹیکس نظام اور محصولات کے انتظام میں اصلاحات کے لیے پیش کیا گیا بل ہے جسے قومی اسمبلی نے منظور کر لیا۔
سب سے زیادہ فنڈز کن شعبوں کو دیے گئے؟
دفاع، پاور ڈویژن، تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے شعبوں کو نمایاں اضافی فنڈز دیے گئے۔
کیا پرانے اخراجات کی بھی منظوری دی گئی؟
جی ہاں، مالی سال 2016-17 کے اضافی اخراجات کی بھی منظوری دی گئی۔








