نو مئی مقدمات ضمانت کارروائی — غیر حاضری پر ضامنوں کیخلاف ایکشن شروع

نو مئی مقدمات ضمانت کارروائی میں عدالت کے باہر سیکیورٹی منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نو مئی کیسز: ملزمان کی عدم پیشی، عدالت کا ضامنوں کو طلب کرنے کا حکم

نو مئی مقدمات ضمانت کارروائی میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں عدالت نے ملزمان کی عدم پیشی پر ان کے ضامنوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے واضح کیا ہے کہ ضامن کی ذمہ داری صرف مالی ضمانت دینا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ ملزم ہر پیشی پر عدالت میں حاضر ہو۔

‫تفصیلات کے مطابق Khadija Shah کے دو ضامنوں کو عدالت کی جانب سے طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ خدیجہ شاہ نے عسکری ٹاور حملہ کیس میں ضمانت حاصل کی تھی، تاہم نو مئی کے ایک مقدمے میں سزا کے بعد وہ غائب ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال کے بعد عدالت نے ان کے ضامنوں کے خلاف سخت اقدام اٹھاتے ہوئے انہیں 25 اپریل کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔‬

عدالتی ریکارڈ کے مطابق خدیجہ شاہ کے ضامن جہانزیب اور مراد علی ہیں، جنہوں نے پانچ، پانچ لاکھ روپے کی ضمانت دی تھی۔ نو مئی مقدمات ضمانت کارروائی کے تحت اب ان ضامنوں کو عدالت میں پیش ہو کر وضاحت دینا ہوگی کہ ملزمہ کی غیر حاضری کی ذمہ داری کس حد تک ان پر عائد ہوتی ہے۔

اسی طرح دیگر ملزمان کے ضامنوں کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ملزم زین الحسن کے ضامن ابوبکر اشرف اور عمران کو بھی طلب کیا گیا ہے، جبکہ ملزم احمد علی کے ضامن عبد اللطیف کو بھی عدالت نے نوٹس جاری کیا ہے، جنہوں نے دو لاکھ روپے کی ضمانت دی تھی۔

مزید برآں، ملزم عثمان کے ضامن عدنان اسلم اور ملزم حمزہ کے دو ضامن ہاشم اور قاسم کو بھی عدالت نے طلب کیا ہے۔ ان تمام ضامنوں کو نو مئی مقدمات ضمانت کارروائی کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جن میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ کیوں نہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

‫یہ سماعت Manzar Ali Gul نے کی، جو Anti-Terrorism Court کے جج ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضامن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملزم کی عدالت میں حاضری کو یقینی بنائے۔ اگر ملزم پیش نہ ہو تو ضامن کو اس کا جوابدہ ہونا پڑے گا۔‬

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کی مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے ٹرائل کی کارروائی تاخیر کا شکار ہو رہی ہے، جو کہ انصاف کے عمل میں رکاوٹ ہے۔ نو مئی مقدمات ضمانت کارروائی کے تحت عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

شوکاز نوٹس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر ملزم غائب ہو جائے تو ضامن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کی پیشی کو یقینی بنائے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں ضمانتی رقم کی ضبطی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق نو مئی مقدمات ضمانت کارروائی ایک اہم مثال ہے جو مستقبل میں ایسے کیسز کیلئے نظیر بن سکتی ہے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ عدالتیں اب ضمانت کے نظام کو مزید سختی سے نافذ کر رہی ہیں تاکہ ملزمان کی حاضری کو یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب، اس پیشرفت کے بعد عوامی اور قانونی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انصاف کی فراہمی کو تیز کرنے کیلئے ضروری ہے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ ضامنوں پر زیادہ بوجھ ڈالنا بھی ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی نو مئی مقدمات ضمانت کارروائی ایک ٹرینڈ بن چکا ہے، جہاں صارفین اس معاملے پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ کئی افراد عدالت کے اس اقدام کو سراہ رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اسے سخت قرار دے رہے ہیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نو مئی مقدمات ضمانت کارروائی نہ صرف ایک قانونی پیشرفت ہے بلکہ یہ عدالتی نظام کی مضبوطی اور قانون کی عملداری کا بھی مظہر ہے۔ عدالت کے اس اقدام سے واضح پیغام گیا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور ہر فرد کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]