چین کا بھارت کے شکسگام وادی سے متعلق دعویٰ مسترد، علاقہ چینی سرزمین قرار دے دیا

چین کا بھارتی شکسگام وادی سے متعلق دعویٰ مسترد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چین کا بھارت کے شکسگام وادی سے متعلق دعویٰ مسترد، علاقہ چینی سرزمین قرار دے دیا،چین کی خودمختار سرزمین ہے اور اس پر کسی بیرونی اعتراض کو قبول نہیں

بیجنگ : چین نے بھارتی وزارتِ خارجہ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں شکسگام وادی کو بھارتی علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ چینی وزارتِ خارجہ نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام وادی چین کا حصہ ہے اور چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔

پیر کے روز ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ شکسگام وادی سے متعلق دعویٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کی خودمختار سرزمین ہے اور چین اس پر کسی بیرونی اعتراض کو قبول نہیں کرتا۔

ماؤ ننگ کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں باقاعدہ سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی، جو خودمختار ریاستوں کا قانونی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق ہے۔

ایران میں احتجاج، امریکی دھمکیوں پر چین کا دوٹوک مؤقف، طاقت کے استعمال کی مخالفت
ایران اور امریکا کشیدگی پر چین کا سفارتی مؤقف

واضح رہے کہ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو شکسگام وادی سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ شکسگام وادی بھارت کا حصہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ بھارتی شکسگام وادی سے متعلق دعویٰ کے مطابق 1963 میں ہونے والا چین پاکستان سرحدی معاہدہ غیر قانونی اور کالعدم ہے، جسے بھارت کبھی تسلیم نہیں کرتا۔

بھارتی ترجمان نے مزید کہا تھا کہ بھارت نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو بھی تسلیم نہیں کرتا اور جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام یونین ٹیریٹریز کو بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ قرار دیا۔

چینی ترجمان نے بھارتی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک ایک خالصتاً اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد خطے میں سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینا اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے اصولی مؤقف کو متاثر نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات ایک طویل عرصے سے جاری ہیں۔ 2020 میں ہمالیائی سرحد پر ہونے والی جھڑپ میں بھارت کے 20 جبکہ چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا، جس کے بعد تعلقات میں بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور تجارت و سرمایہ کاری میں اضافہ شامل ہے۔

اس کے باوجود اروناچل پردیش سمیت کئی علاقوں پر چین اور بھارت کے درمیان تنازع بدستور برقرار ہے۔ چین اس خطے کو زانگنان (جنوبی تبت) قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]