ٹرمپ کا غزہ بورڈ آف پیس کا اعلان، وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدے پر دستخط کر دیے، غزہ میں دیرپا امن کی عالمی خواہش کی عکاسی کرتا ہے
ڈیووس : امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی تقریب کے دوران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس اہم بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کر دیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس ایک عالمی پلیٹ فارم ہو گا جس میں اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی اور علاقائی اسٹیک ہولڈرز شریک ہوں گے۔ ان کے مطابق دنیا بھر کے کئی ممالک اس بورڈ کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں، جو غزہ میں دیرپا امن کی عالمی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد تقریب میں شریک مختلف ممالک کے سربراہان اور نمائندوں نے فرداً فرداً معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی تقریب میں موجود تھے۔

امریکی صدر نے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس میں دنیا کے کئی ذہین، تجربہ کار اور امن پسند رہنما شامل ہیں، جو مشترکہ کوششوں کے ذریعے غزہ میں امن کے قیام کو ممکن بنائیں گے۔ انہوں نے بورڈ میں شمولیت اختیار کرنے والے تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور یہ قیامِ امن کے لیے تاریخ کا سب سے مؤثر اور شاندار بورڈ ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بورڈ گزشتہ برس کے اختتام پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قرارداد کی روشنی میں تشکیل دیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں جنگ بندی کو یقینی بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ دوسری مدتِ صدارت سنبھالنے کے بعد وہ اب تک آٹھ جنگیں رکوانے میں کامیاب ہو چکے ہیں، جبکہ انہیں یقین ہے کہ جلد ایک اور بڑی جنگ کا بھی تصفیہ ہو جائے گا۔
یوکرین جنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ وہ اس تنازع کو آسان سمجھتے تھے، مگر یہ اب تک کا سب سے مشکل معاملہ ثابت ہوا ہے۔
تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ غزہ میں جنگ اب مکمل طور پر ختم ہونے جا رہی ہے اور مستقبل میں حماس کو بھی غیر مسلح ہونا ہو گا تاکہ خطے میں مستقل امن ممکن بنایا جا سکے۔
President Trump Participates in the Board of Peace Charter Announcement https://t.co/CJz0CmePJq
— The White House (@WhiteHouse) January 22, 2026