سینیٹ کمیٹی نے ایف بی آر ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا

سینیٹ کمیٹی اجلاس میں ایف بی آر ترمیمی بل 2026 کی منظوری دی گئی۔
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

‫Senate Standing Committee on Finance سے ایف بی آر ترمیمی بل 2026 کی منظوری‬

‫اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم پارلیمانی اجلاس میں Senate of Pakistan کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے تفصیلی بحث کے بعد Federal Board of Revenue (ایف بی آر) ترمیمی بل 2026ء منظور کر لیا۔ یہ اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے بل کی مختلف شقوں پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔‬
‫‬
‫اجلاس کے دوران سینیٹر رانا ثنااللہ کی جانب سے پیش کیے گئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل پر غور کیا گیا۔ بل کا بنیادی مقصد ایف بی آر کے انتظامی اور پالیسی ڈھانچے میں تبدیلیاں لانا اور ادارے کے اختیارات و ذمہ داریوں کو ازسرِنو متعین کرنا تھا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ ترامیم عدالتی فیصلوں اور انتظامی تقاضوں کے تناظر میں ضروری ہو چکی تھیں۔‬
‫‬
‫عدالتی فیصلے کی روشنی میں ترمیم کی ضرورت‬
‫‬
‫چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ Supreme Court of Pakistan نے مصطفی امپکس کیس میں یہ قرار دیا تھا کہ پالیسی سازی کے اختیارات وزیراعظم کے بجائے وفاقی کابینہ کو حاصل ہوں گے۔ اس فیصلے کے بعد ایف بی آر ایکٹ میں ترمیم ناگزیر ہو گئی تاکہ قانون کو عدالتی ہدایات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔‬
‫‬
‫انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ٹیکس پالیسی بورڈ کو ایف بی آر سے نکال کر وزارت خزانہ کے ماتحت کر دیا گیا ہے تاکہ پالیسی اور نفاذ کے شعبوں میں واضح تفریق قائم کی جا سکے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے شفافیت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔‬
‫‬
‫اختیارات پر اختلاف‬
‫‬
‫اجلاس میں بعض سینیٹرز نے مجوزہ ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ان ترامیم کے ذریعے چیئرمین ایف بی آر کو غیر معمولی اختیارات دیے جا رہے ہیں، جس سے اختیارات کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایف بی آر ایک تکنیکی ادارہ ہے اور اس کے سربراہ کو ٹیکس نظام اور ریونیو کے معاملات میں وسیع تجربہ ہونا چاہیے۔‬
‫‬
‫انہوں نے کہا کہ اگر چیئرمین کو ممبران کی تقرری اور تبادلے کے مکمل اختیارات دے دیے گئے تو اس سے ادارے کے اندر احتساب اور شفافیت کا عمل کمزور ہو سکتا ہے۔ سینیٹر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایف بی آر کے بعض افسران کے اثاثے ان کی تنخواہوں سے مطابقت نہیں رکھتے اور ٹیکس وصولی کی شرح میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔‬
‫‬
‫ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بعض افراد قانونی ٹیکس ادا کرنے کے بجائے اضافی رقم دے کر معاملات نمٹانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں ٹیکس نظام کو ٹیکس دہندہ دوست بنانے کی ضرورت ہے تاکہ رضاکارانہ ادائیگیوں میں اضافہ ہو اور بدعنوانی کے امکانات کم ہوں۔‬
‫‬
‫حکومتی وضاحت اور یقین دہانیاں‬
‫‬
‫وزیر خزانہ نے اجلاس کے دوران وضاحت کی کہ ٹیکس پالیسی بورڈ کی وزارت خزانہ کو منتقلی کا مقصد اختیارات کو مرکوز کرنا نہیں بلکہ انہیں منظم کرنا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایف بی آر کے تمام افسران کو رواں سال سے اپنے اثاثے ڈکلیئر کرنا ہوں گے، جس سے احتساب کا عمل مضبوط ہوگا۔‬
‫‬
‫انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی سینیٹر کے پاس کسی ٹیکس افسر کے خلاف ٹھوس شواہد یا شکایات موجود ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے، حکومت کارروائی سے گریز نہیں کرے گی۔ اس بیان کو بعض اراکین نے مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم اپوزیشن کی جانب سے شکوک و شبہات کا اظہار جاری رہا۔‬
‫‬
‫انتظامی معاملات پر بحث‬
‫‬
‫سینیٹر شاہزیب درانی نے کہا کہ ممبران کی تقرری اور تبادلے جیسے امور انتظامی نوعیت کے ہیں، اور ان میں وفاقی وزیر خزانہ کو براہ راست شامل نہ کیا جائے۔ اس پر چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت کی کہ ممبران کی تقرری کا اختیار 2007 سے چیئرمین کو حاصل ہے اور یہ کوئی نئی روایت نہیں۔‬
‫‬
‫انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر میں گریڈ 21 کے 78 سے زائد افسران خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کے تبادلے ماضی سے معمول کا حصہ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کا اپنا قانون اور سروس اسٹرکچر موجود ہے جس کے تحت یہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔‬
‫‬
‫ٹیکس پالیسی بورڈ کی فعالیت پر سوالات‬
‫‬
‫اجلاس کے دوران سینیٹر ضمیر گھمرو نے انکشاف کیا کہ وہ ٹیکس پالیسی بورڈ کے رکن ہیں، مگر بورڈ کا اجلاس کبھی منعقد نہیں ہوا۔ اسی طرح بلال اظہر کیانی نے بھی کہا کہ وہ ماضی میں اس بورڈ کا حصہ رہے لیکن اجلاس نہ ہونے کے برابر تھے۔ ان بیانات نے بورڈ کی فعالیت اور افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے۔‬
‫‬
‫یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پالیسی سازی کے فورمز کو فعال بنانا اور انہیں باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنے کا پابند بنانا ضروری ہے، ورنہ محض ڈھانچہ تبدیل کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔‬
‫‬
‫بل کی منظوری اور آئندہ کا مرحلہ‬
‫‬
‫تفصیلی بحث، اعتراضات اور حکومتی وضاحتوں کے بعد قائمہ کمیٹی نے مجوزہ ایف بی آر ترمیمی بل 2026ء کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ اب یہ بل سینیٹ کے ایوان میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس پر مزید بحث اور حتمی منظوری کا مرحلہ درپیش ہوگا۔‬
‫‬
‫یہ پیش رفت پاکستان کے ٹیکس نظام میں ممکنہ اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔ اگر ترامیم کا مقصد واقعی شفافیت، احتساب اور پالیسی و نفاذ میں توازن قائم کرنا ہے تو اس کے مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان قانون سازی نہیں بلکہ اس پر مؤثر اور غیر جانبدارانہ عملدرآمد ہوگا۔‬
‫‬
‫مجموعی طور پر یہ اجلاس اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات ایک حساس اور پیچیدہ معاملہ ہے، جس میں سیاسی اتفاقِ رائے، ادارہ جاتی شفافیت اور عملی اقدامات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ منظور شدہ ترامیم ایف بی آر کی کارکردگی اور ٹیکس وصولی کے نظام پر کس حد تک مثبت اثر ڈالتی ہیں۔‬

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]