اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل، 36 ہزار غیر قانونی پلاٹ فائلوں کا انکشاف

اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں غیر قانونی پلاٹ فائلوں کی تحقیقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل، 36 ہزار غیر قانونی پلاٹ فائلوں کا انکشاف، صرف تقریباً 6 ہزار پلاٹ فائلیں جاری کی جا سکتی تھی

اسلام آباد: اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (آئی سی ایچ ایس) اسکینڈل کی تحقیقات میں پاکستان کی تاریخ کے بڑے ہاؤسنگ فراڈز میں سے ایک کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر ہزاروں جعلی اور غیر قانونی پلاٹ فائلیں جاری کرکے شہریوں سے اربوں روپے وصول کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق نیب راولپنڈی اور نیب اسلام آباد کی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ سوسائٹی کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور دستیاب لینڈ بینک کے مطابق صرف تقریباً 6 ہزار پلاٹ فائلیں جاری کی جا سکتی تھیں، تاہم سابق عہدیداران اور مبینہ سہولت کاروں نے تقریباً 42 ہزار فائلیں جاری کر دیں۔

تحقیقات میں اب تک تقریباً 36 ہزار فائلوں کو غیر قانونی، زائد یا زمین کے بغیر قرار دیا گیا ہے، جس سے ایک بڑے منظم فراڈ، بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ متعدد شہریوں کو ایسی زمین کے عوض پلاٹ فائلیں فروخت کی گئیں جو یا تو موجود ہی نہیں تھی، قانونی منظوری نہیں رکھتی تھی یا پھر کبھی مکمل دستاویزی شکل میں منتقل ہی نہیں کی گئی۔

آئی ایم ایف کی پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر قسط کی منظوری متوقع
آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ آج پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری پر غور کرے گا۔

تحقیقات کے مطابق ہزاروں فائلوں کی مکمل ادائیگی، الاٹمنٹ اور ریکارڈ بھی یا تو غائب ہے یا دستیاب ہی نہیں، جس سے اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لینڈ بینک اور جاری کردہ فائلوں کی تعداد میں نمایاں فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جعلی، ڈپلیکیٹ اور زائد فائلیں منظم انداز میں فروخت کرکے عوام سے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔

نیب حکام نے اب تک 16 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا سراغ لگایا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مزید ریکارڈ اور مالی لین دین کی چھان بین کے بعد یہ رقم مزید بڑھ سکتی ہے۔

اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل کیس میں سابق مینجمنٹ کمیٹی اور ایک لینڈ ڈیلنگ کمپنی سے تعلق رکھنے والے 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں سابق سیکرٹری جنرل مہدی خان شاکر، سابق خزانچی ملک محمد نواز، سابق ایگزیکٹو ممبر محمد ارشد اور لینڈ اسٹاک ڈیلنگ پوائنٹ کمپنی سے وابستہ منیر اختر، علی محمود، یامین ملک اور غلام جیلانی شامل ہیں۔

احتساب عدالت اسلام آباد نے مزید تحقیقات، دستاویزی شواہد کی بازیابی، مالی لین دین کی جانچ اور دیگر سہولت کاروں کی نشاندہی کیلئے نیب کو ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔

حکام کے مطابق کیس مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ مختلف تحقیقاتی ٹیمیں سوسائٹی کی انتظامیہ، زمین کے معاملات اور مالی ریکارڈ سے جڑے دیگر افراد کے کردار کا جائزہ لے رہی ہیں جبکہ مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]