اسلام آباد ہائیکورٹ کا ججز تقرری کی سمری زیرِ التوا رکھنے پر حکومت سے جواب طلب،عدالت نے نشاندہی کی کہ سمری بھیجے جانے کے بعد 18 روز گزر چکے ہیں
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری سے متعلق طویل عرصے سے زیرِ التوا سمری پر وفاقی حکومت اور وزارت قانون سے تحریری رپورٹس طلب کرلیں، عدالت نے سوال اٹھایا کہ سمری کو غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا رکھنے کے کیا نتائج ہوں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے وفاقی حکومت اور وزارت قانون کو ہدایت کی کہ وہ منگل تک سمری کی موجودہ صورتحال سے متعلق تحریری رپورٹس جمع کرائیں۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے ججز تقرری کی سمری پر پیش رفت نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ سے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت اس معاملے میں کیا کر رہی ہے اور کیا حکومت اس معاملے میں دلچسپی نہیں رکھتی؟
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وفاقی حکومت اور وزارت قانون سے ایسی رپورٹس حاصل کی جائیں جن میں بتایا جائے کہ وزیراعظم نے ججز کی تقرری کی سمری صدر کو کب ارسال کی اور اس کے بعد اس پر کوئی کارروائی ہوئی یا نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا ججز تقرری کی سمری 18 روز گزرنے پر اظہار تشویش
سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ سمری کو اس طرح زیرِ التوا نہیں رکھا جاسکتا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ سمری بھیجے جانے کے بعد 18 روز گزر چکے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل زاہد آصف چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ صدر کی جانب سے ججز تقرری کی سمری پر کارروائی کے لیے مقررہ آئینی مدت گزر چکی ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ججز تقرری کی سمری کو 15 روز کی مدت کے حوالے سے پہلے عدالت میں بحث ہوچکی ہے اور اب 18 روز گزر چکے ہیں، اس لیے صدر اسے اس طرح زیرِ التوا نہیں رکھ سکتے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کو بتایا کہ مقررہ مدت گزر جانے کے بعد صدر اب سمری کو مسترد نہیں کرسکتے۔
سندھ اور پشاور ہائیکورٹس کے ججز کی تقرری بھی زیرِ التوا
سماعت کے دوران عدالت نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے مجموعی معاملے پر بھی سوالات اٹھائے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے نشاندہی کی کہ سندھ اور پشاور ہائیکورٹس کے ججز کی توثیق کا معاملہ بھی زیرِ التوا ہے، حالانکہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان ان تقرریوں کی سفارشات منظور کرچکا ہے۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم میں حکومت سے یہ بھی وضاحت طلب کی کہ ججز تقرری کی سمری کو غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا رکھنے کی صورت میں اس کے کیا آئینی اور قانونی نتائج ہوں گے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے میں معاونت طلب کرلی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور وزارت قانون کو ہدایت کی کہ اگلی سماعت سے قبل اپنی رپورٹس عدالت میں جمع کرائیں۔
ججز کی تقرری کی سفارشات کیا تھیں؟
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 20 اور 21 جولائی کو ہونے والے اجلاسوں میں اسلام آباد، لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس میں ججز کی تقرریوں سے متعلق متعدد سفارشات منظور کی تھیں۔

کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے 3 اضافی ججز، لاہور ہائیکورٹ کے لیے 10 ججز، سندھ ہائیکورٹ کے لیے 3 ججز اور بلوچستان ہائیکورٹ کے لیے 3 ججز کی تقرری کی سفارش کی تھی۔
اس کے علاوہ پشاور ہائیکورٹ کے 4 اضافی ججز کی توثیق اور سندھ ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس خالد حسین شاہانی کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی بھی سفارش کی گئی تھی۔
تاہم جسٹس خالد حسین شاہانی کی موجودہ مدت ملازمت 28 جولائی کو ختم ہوگئی اور تجویز کردہ توسیع اس سے قبل نافذ نہیں ہوسکی۔
معاملہ آئینی تشریح کی جانب بڑھ سکتا ہے
ججز تقرری کی سمری پر طویل تاخیر کے باعث صدر کے آئینی کردار اور جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر کارروائی کے حوالے سے قانونی بحث شدت اختیار کرگئی ہے۔
آئینی ماہرین کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر صدر کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر کارروائی کے لیے واضح مدت مقرر نہیں تو کیا سمری کو غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا رکھا جاسکتا ہے؟
ماضی میں سپریم کورٹ یہ قرار دے چکی ہے کہ صدر کو جوڈیشل کمیشن کی جانب سے نامزدگیوں کو مسترد کرنے کا اختیار حاصل نہیں، تاہم آئین کے آرٹیکل 175A(8) میں صدر کی جانب سے سفارشات پر کارروائی کے لیے واضح مدت مقرر نہ ہونے کا معاملہ اب نئی قانونی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی آئندہ سماعت میں حکومت اور وزارت قانون کی رپورٹس کے بعد معاملے کی آئینی اور قانونی حیثیت مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔
بریکنگ نیوز: صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ہائیکورٹس کے ججز کی تعیناتی کی سمری غیرمعینہ مدت تک زیرِالتواء رکھنے (یعنی سمری نہ منظور کی جائے اور نہ ہی دوبارہ غور کرنے کے لیے واپس بھیجی جائے) کے آئینی نتائج کیا ہوں گے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاق اور وزارتِ… pic.twitter.com/PBBrS3UdIk
— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) August 10, 2026
READ MORE FAQS”
اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت سے کیا طلب کیا ہے؟
عدالت نے وفاقی حکومت اور وزارت قانون سے ججز کی تقرری کی زیرِ التوا سمری کی صورتحال پر تحریری رپورٹس طلب کی ہیں۔
ججز تقرری کی سمری کتنے دن سے زیرِ التوا ہے؟
سماعت کے دوران بتایا گیا کہ سمری بھیجے جانے کے بعد 18 روز گزر چکے ہیں۔
ججز کی تقرری کی سفارشات کس نے کی تھیں؟
ججز کی تقرری کی سفارشات جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے کی تھیں۔
عدالت نے ججز تقرری کی سمری کے بارے میں کیا سوال اٹھایا؟
اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت سے وضاحت طلب کی کہ ججز کی تقرری کی سمری کو غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا رکھنے کے آئینی اور قانونی نتائج کیا ہوں گے۔






