خواجہ آصف کا افغانستان کو انتباہ، بات نہ مانی تو کھلی جنگ ہوگی، کابل حکومت پاکستان کے خلاف ہندوتوا کی جنگ لڑ رہی

خواجہ آصف کا افغانستان کو کھلی جنگ کا انتباہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

خواجہ آصف کا افغانستان کو انتباہ، بات نہ مانی تو کھلی جنگ ہوگی، کابل حکومت اس وقت پاکستان کے خلاف ہندوتوا کی جنگ لڑ رہی ہے

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کو واضح طور پر کہا گیا ہے کہ دہشتگردوں کی پشت پناہی بند کرے، اگر بات نہ مانی گئی تو کھلی جنگ ہوگی۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کابل حکومت اس وقت پاکستان کے خلاف ہندوتوا کی جنگ لڑ رہی ہے اور دلی و کابل کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کابل حکومت اپنی پالیسی تبدیل کرنے کیلئے تیار نہیں تو پھر اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو بھارت کے ساتھ کیا گیا۔

لیاقت شہید کیلئے ستارہ شجاعت کی منظوری
کوہاٹ میں خودکش حملہ ناکام بنانے والے لیاقت شہید کو ستارہ شجاعت دینے کی منظوری دے دی گئی۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تین مختلف ممالک کے ذریعے دیانتداری کے ساتھ افغانستان سے مذاکرات کی کوشش کی اور 19، 19 گھنٹے تک بات چیت جاری رہی، حتیٰ کہ دہشتگردی کے واقعات کے دوران بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت اب براہِ راست پاکستان سے جنگ نہیں لڑے گا بلکہ افغانستان کے ذریعے پراکسی وار کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ کابل حکومت پاکستان کو کسی قسم کی ضمانت دینے کیلئے بھی تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر اب خیبرپختونخوا حکومت کا تعاون حاصل ہے جبکہ ماضی میں ایسی صورتحال نہیں تھی۔ ان کے مطابق دہشتگردی قومی مسئلہ ہے اور اسے کسی ایک صوبے تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے اور اس پر قومی اسمبلی میں باضابطہ بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ معرکہ حق کی تقریب میں بعض سیاسی قیادت شریک نہیں ہوئی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں پاک فوج کے جوان وطن کے دفاع کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں، اس لیے قومی مفاد کو سیاسی اختلافات پر ترجیح دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا کیلئے کیے گئے وعدوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا، تمام صوبوں نے فنڈز میں حصہ ڈالنے پر اتفاق کیا تھا جبکہ وفاق کی ذمہ داری جزوی تھی، تاہم اس مسئلے کا حل ناگزیر ہے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]