آئی ایم ایف کی جی ایس ٹی 19 فیصد بڑھانے کی تجویز، سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں جی ایس ٹی بڑھانے کی تجویز
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آئی ایم ایف کی جی ایس ٹی 19 فیصد بڑھانے کی تجویز، سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان کو آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس (GST) کی معیاری شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔ تاہم پاکستانی حکام نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس اقدام سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے یہ تجویز آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس محصولات کے ہدف کے حصول اور رواں مالی سال میں ٹیکس وصولیوں کے شارٹ فال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کی ہے۔ اگر اس تجویز پر عمل درآمد کیا گیا تو حکومت کو سالانہ 250 سے 300 ارب روپے تک اضافی محصولات حاصل ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ٹیکس اصلاحات کے تحت سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیوں اور ہائبرڈ وہیکلز پر بھی ٹیکس میں نمایاں اضافہ زیر غور ہے، جس کے نتیجے میں ان مصنوعات کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ 8 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے اور الیکٹرک گاڑیوں پر عائد ایک فیصد جی ایس ٹی کو بھی 18 فیصد تک لانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اسی طرح سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد جی ایس ٹی کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

بجٹ کے بعد سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ کے خدشات پر دکان پر لگے سولر پلیٹس
آئندہ مالیاتی بجٹ میں سولر پینلز پر سیلز ٹیکس بڑھائے جانے کی تجویز پر مارکیٹ میں تشویش۔

ماہرین کے مطابق ان تجاویز پر عمل درآمد کی صورت میں نہ صرف الیکٹرک کاریں بلکہ موٹر سائیکلیں، رکشے، بسیں، ٹرک، الیکٹرک ٹریکٹر اور دیگر متبادل توانائی سے چلنے والی گاڑیاں بھی مہنگی ہو جائیں گی، جس سے گرین انرجی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ مختلف تجاویز زیر غور ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حکام کے مطابق بجٹ کی تیاری کے دوران مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تمام فیصلے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور محصولات میں اضافہ کرنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے موجودہ ٹیکس نظام میں دستیاب تمام آپشنز کے استعمال کے بعد جی ایس ٹی کی شرح میں اضافے کی تجویز دی ہے۔

ادھر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو رواں مالی سال کے محصولات کا ہدف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر نے پہلے گیارہ ماہ کے دوران 11,232 ارب روپے جمع کیے ہیں جبکہ سالانہ ہدف حاصل کرنے کے لیے جون کے دوران غیر معمولی محصولات درکار ہوں گے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ حکومتی مالی ضروریات کے لیے اہم ہے، تاہم ایسے اقدامات کے معاشی اور سماجی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ مہنگائی اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات کم سے کم ہوں۔

حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ تجاویز پر مذاکرات جاری ہیں اور آئندہ چند روز میں اس حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]