تیز گام ایکسپریس ڈی ریل، کوئی جانی نقصان نہیں
راولپنڈی سے لاہور جانے والی Tezgam Express سہالہ اور چک لالہ کے درمیان پٹڑی سے اتر گئی۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
ریلوے ذرائع کے مطابق ٹرین کے چند پہیے ٹریک سے اتر گئے تھے، جس کے بعد متعلقہ حکام نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لیا۔
سہالہ اور چک لالہ کے درمیان واقعہ
یہ واقعہ Sihala اور Chaklala کے درمیان پیش آیا جہاں تیز گام ایکسپریس اپنے مقررہ روٹ پر سفر کر رہی تھی۔
حادثے کے بعد ریلوے انتظامیہ اور تکنیکی عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گیا اور بحالی کا کام شروع کیا گیا۔
ٹرین کو دوبارہ ٹریک پر چڑھا دیا گیا
ریلوے ذرائع کے مطابق متاثرہ بوگیوں کو کامیابی کے ساتھ دوبارہ ٹریک پر چڑھا دیا گیا اور ضروری جانچ پڑتال کے بعد ٹرین کو اپنی منزل کی جانب روانہ کر دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی۔
کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
واقعے کی سب سے مثبت بات یہ رہی کہ تیز گام ایکسپریس ڈی ریل ہونے کے باوجود کسی مسافر یا ریلوے عملے کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
مسافروں نے بھی انتظامیہ کی فوری کارروائی کو سراہا جس کی بدولت صورتحال جلد معمول پر آ گئی۔
تحقیقات کا امکان
ریلوے حکام کی جانب سے واقعے کی وجوہات جاننے کیلئے ابتدائی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ امکان ہے کہ ٹریک، بوگیوں اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ایسے واقعات کے بعد حفاظتی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
پاکستان ریلوے کی اہم سروس
Pakistan Railways کی تیز گام ایکسپریس ملک کی اہم مسافر ٹرینوں میں شمار ہوتی ہے جو مختلف بڑے شہروں کے درمیان روزانہ سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
یہ ٹرین بڑی تعداد میں مسافروں کو راولپنڈی، لاہور اور دیگر شہروں کے درمیان سفر کی سہولت دیتی ہے۔
مسافروں میں تشویش
حادثے کے بعد کچھ دیر کیلئے مسافروں میں تشویش پائی گئی، تاہم ریلوے عملے کی بروقت کارروائی اور صورتحال پر قابو پانے کے باعث کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔
ریلوے حکام نے مسافروں کو مکمل تعاون فراہم کیا اور ٹرین کی روانگی کو یقینی بنایا۔
راولپنڈی سے لاہور جانے والی تیز گام ایکسپریس ڈی ریل ہونے کا واقعہ سہالہ اور چک لالہ کے درمیان پیش آیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ Pakistan Railways کی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹرین کو دوبارہ ٹریک پر چڑھا کر اپنی منزل کی جانب روانہ کر دیا۔








