کوئٹہ میں جعفر ایکسپریس پر دہشتگرد حملہ، 14 افراد شہید، 3 ایف سی اہلکار بھی شامل، متعدد زخمی

Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کوئٹہ میں جعفر ایکسپریس پر دہشتگرد حملہ، 14 افراد شہید، متعدد زخمی، شہداء میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 3 اہلکار بھی شامل ہیں

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب جعفر ایکسپریس میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق شہداء میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 3 اہلکار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا اور یہ حملہ امن دشمن عناصر کی بزدلانہ کارروائی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں فائرنگ کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی
کلاچی میں امن کمیٹی کے ارکان پر حملے کے بعد سرچ آپریشن جاری

شاہد رند کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات کو نشانہ بنانا دہشتگردوں کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے، شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ملوث عناصر کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔

حکام کے مطابق کوئٹہ میں جعفر ایکسپریس دھماکے کے باعث جعفر ایکسپریس کی ایک بوگی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ دیگر بوگیوں اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جس سے ریلوے ٹریک کے قریب کھڑی کئی گاڑیاں جل گئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق فائربریگیڈ نے کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا جبکہ کوئٹہ میں جعفر ایکسپریس دھماکے کے نتیجے میں ٹرین کی دو بوگیاں ٹریک سے بھی اتر گئیں۔

سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے چمن پھاٹک پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں دہشتگردی کے خلاف قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے بھی دہشتگردی کے خلاف متحد رہنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: جعفر ایکسپریس دھماکا کہاں ہوا؟

یہ دھماکا کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب جعفر ایکسپریس میں ہوا۔

سوال 2: دھماکے میں کتنے افراد شہید ہوئے؟

دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد شہید ہوئے۔

سوال 3: کیا سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے؟

جی ہاں، شہداء میں ایف سی کے 3 اہلکار بھی شامل ہیں۔

سوال 4: دھماکے سے ٹرین کو کتنا نقصان پہنچا؟

ایک بوگی مکمل تباہ ہوگئی جبکہ دو بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں۔

سوال 5: حکومت کا کیا ردعمل سامنے آیا؟

وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر حکومتی رہنماؤں نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

سوال 6: کیا تحقیقات شروع کردی گئی ہیں؟

جی ہاں، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]