تعلیم کے شعبے کیلئے 77 ارب روپے مختص، نئے ترقیاتی منصوبے نظرانداز

تعلیم کے شعبے کیلئے 77 ارب روپے مختص، بجٹ دستاویزات کا جائزہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

تعلیم کے شعبے کیلئے 77 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

تعلیم کے شعبے کیلئے 77 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز وفاقی بجٹ 2026-27 میں سامنے آئی ہے، تاہم بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے ترقیاتی منصوبوں کے بجائے جاری منصوبوں کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کی ترقی، اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور فنی مہارتوں کے پروگراموں کیلئے فنڈز مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے، لیکن نئے منصوبوں کی تعداد محدود رکھی گئی ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 41 ارب روپے سے زائد فنڈز

بجٹ دستاویزات کے مطابق Higher Education Commission کیلئے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ رقم رواں مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 1 ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہے، تاہم ترقیاتی ضروریات کے مقابلے میں اسے محدود اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

جاری منصوبوں کو ترجیح

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے:

  • 135 جاری منصوبوں پر 41 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔
  • 3 نئے منصوبوں کیلئے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن فنڈ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے نئے منصوبوں کے بجائے زیر تکمیل منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی ہے۔

وزارت تعلیم کیلئے 36 ارب روپے

Ministry of Federal Education and Professional Training کیلئے 36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

یہ فنڈز مختلف تعلیمی اور فنی تربیتی پروگراموں پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ ملک میں تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔

دانش اسکول منصوبوں کیلئے فنڈز

بجٹ دستاویزات کے مطابق:

  • آزاد کشمیر
  • گلگت بلتستان
  • چترال
  • سندھ

میں دانش اسکول منصوبوں کیلئے 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ منصوبے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی کے مقصد کے تحت جاری ہیں۔

یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام

نوجوانوں کو فنی مہارتوں سے آراستہ کرنے کیلئے:

  • وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 3 ارب 29 کروڑ روپے
  • پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کیلئے 3 ارب روپے
  • اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 2 ارب 61 کروڑ روپے

مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ منصوبے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل لرننگ کے نئے منصوبے

وفاقی وزارت تعلیم کے دو نئے منصوبے بھی بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں:

  1. ڈیجیٹل لرننگ پروگرام
  2. رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبہ

ان دونوں منصوبوں کیلئے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ منصوبے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیمی نظام کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

جاری منصوبوں پر زیادہ توجہ

بجٹ دستاویزات کے مطابق وزارت تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔

اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری ترقیاتی اسکیموں کی تکمیل اور فنڈنگ کو ترجیح دی ہے۔

تعلیم کے شعبے کیلئے 77 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز اگرچہ تعلیمی ترقی کیلئے اہم قدم سمجھی جا رہی ہے، تاہم نئے منصوبوں کی محدود تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو اولین ترجیح دی ہے۔ ہائر ایجوکیشن، دانش اسکولز، اسکل ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل لرننگ پروگرام بجٹ کے اہم نکات میں شامل ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]