امریکا اور اسرائیل اپنے مقاصد میں ناکام رہے، اب ہائبرڈ جنگ کے ذریعے انتشار پھیلایا جا رہا ہے: مجتبیٰ خامنہ ای
تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اب وہ ہائبرڈ جنگ کے ذریعے ایرانی عوام میں خوف، مایوسی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اپنے تحریری پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا کی قیادت میں قائم عالمی نظام ایک مضبوط، خودمختار اور آزاد ایران کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو اسی نظام کا ایک ’’مصنوعی اڈہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کو میدانِ جنگ میں ناکامی اور شدید رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق جنگی محاذ پر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد مخالف قوتوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے اور اب وہ ہائبرڈ جنگ کے مختلف طریقوں کے ذریعے ایرانی معاشرے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کے اہم ہتھیار شکوک و شبہات پیدا کرنا، عوام میں مایوسی پھیلانا، خوف پیدا کرنا اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانا ہیں۔ ان کے بقول ایسا ہر عمل جو عوام میں بداعتمادی یا ناامیدی پیدا کرے، درحقیقت ایران کے دشمنوں کے مقاصد کو تقویت دیتا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی، ثابت قدمی اور بصیرت کا مظاہرہ کریں تاکہ بیرونی دباؤ اور چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے مختلف بحرانوں اور دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کیا ہے اور آئندہ بھی ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ خطے کی بدلتی صورتحال کے باعث سفارتی اور سیکیورٹی معاملات پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت کی جانب سے قومی اتحاد اور داخلی استحکام پر زور دینا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجز کو نہایت اہمیت دے رہا ہے اور عوامی حمایت کو اپنی قومی حکمت عملی کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے۔
READ MORE FAQS”
سوال: مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کیا کہا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
سوال: خامنہ ای کے مطابق دشمن اب کیا حکمت عملی اختیار کر رہا ہے؟
جواب: ان کے مطابق دشمن ہائبرڈ جنگ کے ذریعے خوف، مایوسی، شکوک و شبہات اور داخلی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سوال: ایرانی عوام کو کیا پیغام دیا گیا؟
جواب: ایرانی عوام کو قومی اتحاد، بصیرت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
سوال: یہ بیان کس تناظر میں سامنے آیا؟
جواب: یہ بیان ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور علاقائی تنازعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
سوال: ہائبرڈ جنگ سے کیا مراد ہے؟
جواب: ہائبرڈ جنگ میں فوجی کارروائی کے بجائے معلوماتی، نفسیاتی، سیاسی اور معاشی ذرائع استعمال کرکے مخالف ملک
Tsarin mamaya,wanda Amurka ke jagoranta,ba ya yarda da wanzuwar Iran mai ƙarfi da cin gashin kanta a gabashin iyakar abin da suke kira“Babbar Isra’ila”— wato gabashin kogin Furat.Wannan kuwa duk da cewa sun gina wani sansanin soja mai suna Isra’ila kusan shekaru 80da suka gabata.
— Ayatullah Sayyid Mujtaba Khamene'i |Hausa (@ha_mkhamenei) June 4, 2026






